بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
جی ہاں، والدین بھی بچوں کا استحصال کرسکتے ہیں اور یہ ایک نہایت حساس اور اہم موضوع ہے جسے عام طور پر معاشرے میں کھل کر بیان نہیں کیا جاتا۔ استحصال صرف جسمانی یا مالی نہیں ہوتا بلکہ یہ جذباتی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی حوالوں سے بھی واقع ہوسکتا ہے۔ اگر ہم اس سوال کو تفصیل سے دیکھیں تو ہمیں مختلف پہلو نظر آتے ہیں۔
سب سے پہلے ہمیں سمجھنا ہوگا کہ والدین اور بچوں کا تعلق ایک امانت اور ذمہ داری ہے۔ قرآن مجید میں اولاد کو ’’زینة الحیاة الدنیا‘‘ قرار دیا گیا ہے لیکن ساتھ ہی والدین کو ان کی صحیح تربیت اور پرورش کی ہدایت دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ اور ائمہ معصومینؑ نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ بچے والدین کے تابع ضرور ہیں لیکن وہ کسی بھی طرح ان کے ظلم یا ناروا رویے کے لیے مجبور نہیں۔ امام علی علیہ السلام نے فرمایا کہ “لاعب ابنک سبعاً وأدبه سبعاً وصاحبه سبعاً” یعنی بچے کو سات سال کھیلنے دو، سات سال ادب سکھاؤ اور سات سال اس کے ساتھ دوستی کرو۔ اس حدیث میں اشارہ ہے کہ والدین کا رویہ بچوں کے ساتھ عمر کے حساب سے بدلنا چاہئے۔ اگر والدین اس فطری تقسیم کو نظر انداز کریں تو یہ استحصال میں بدل سکتا ہے۔
اب استحصال کی اقسام کو دیکھتے ہیں۔
۱۔ جذباتی استحصال:
یہ اس وقت ہوتا ہے جب والدین بچوں پر ضرورت سے زیادہ دباؤ ڈالتے ہیں، ان کی رائے کو کبھی اہمیت نہیں دیتے، ان کی غلطیوں کو برداشت نہیں کرتے یا ہر وقت تنقید کرتے ہیں۔ ایسے بچے بڑے ہو کر کم اعتمادی، خوف اور احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں۔
۲۔ تعلیمی و پیشہ ورانہ استحصال:
اکثر والدین اپنے خواب یا ناکام تمنائیں بچوں پر مسلط کردیتے ہیں۔ مثلاً کوئی بچہ فنونِ لطیفہ یا سائنس میں دلچسپی رکھتا ہے لیکن والدین اسے صرف ڈاکٹر، انجینئر یا بزنس مین بنانے پر اصرار کرتے ہیں۔ یہ بچوں کے ذاتی رجحان اور صلاحیت کے قتل کے مترادف ہے۔
۳۔ مالی استحصال:
بعض والدین بچوں کی کمائی پر ناجائز قبضہ کرلیتے ہیں یا کم عمری میں انہیں مشقت کے کام پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ صورت نہ صرف شرعی طور پر ناجائز ہے بلکہ اخلاقی و انسانی اقدار کے خلاف بھی ہے۔
۴۔ سماجی و ازدواجی استحصال:
کئی والدین بچوں کی شادی کے معاملات میں ان کی مرضی کو بالکل نظر انداز کرتے ہیں اور اپنی انا یا سماجی مفاد کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔ یہ رویہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف ہے کیونکہ نکاح میں رضا مندی بنیادی شرط ہے۔
۵۔ روحانی استحصال:
جب والدین دین یا مذہب کے نام پر بچوں کو صرف ظاہری رسومات میں الجھائے رکھتے ہیں لیکن انہیں عقل، فہم اور خدا کی معرفت تک نہیں لے جاتے، تو یہ بھی ایک طرح کا استحصال ہے۔
اسلامی نقطہ نظر سے والدین کا بچوں پر استحصال سخت مذموم ہے۔ امام سجاد علیہ السلام نے ’’رسالة الحقوق‘‘ میں والدین کے حق کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ والدین کا احترام اور اطاعت لازم ہے لیکن یہ اطاعت گناہ میں نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر والدین ظلم کریں یا بچوں کو خدا کی نافرمانی پر مجبور کریں تو ان کی اطاعت واجب نہیں رہتی۔ اسی طرح قرآن کہتا ہے: “وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي… فَلَا تُطِعْهُمَا” (لقمان ۱۵) یعنی اگر والدین شرک یا گناہ پر مجبور کریں تو ان کی اطاعت نہ کرو، لیکن دنیاوی معاملات میں نرمی اور حسن سلوک کرو۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ والدین بھی اگر اپنی حدود سے تجاوز کریں، بچوں کی فطرت اور حقوق کو کچلیں، اپنی خواہشات مسلط کریں، یا انہیں ذہنی و جسمانی نقصان پہنچائیں تو یہ استحصال ہے۔ والدین کا احترام اپنی جگہ، مگر اسلامی تعلیمات بچوں کے حقوق کو بھی اتنی ہی اہمیت دیتی ہیں۔ ایک صحت مند معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ والدین محبت، حکمت اور انصاف کے ساتھ بچوں کی پرورش کریں نہ کہ اپنی طاقت اور اختیار کا ناجائز استعمال۔
