35

​عقلاء و علماء میں اختلاف کے اسباب

  • نیوز کوڈ : 2286
  • 26 August 2025 - 20:58
​عقلاء و علماء میں اختلاف کے اسباب

​عقلاء و علماء میں اختلاف کے اسباب

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

 سید جہانزیب عابدی

عقل کے اعتبار سے انسان یکساں نہیں ہوتے بلکہ ان کے مدارج اور اقسام بہت مختلف ہیں۔ عقل بذات خود ایک نورانی استعداد ہے جو انسان کو حیوان سے ممتاز کرتی ہے، مگر ہر انسان اس نور کو یکساں طور پر استعمال نہیں کرتا۔ کچھ انسان وہ ہیں جو عقلِ نظری کے دائرے میں زیادہ قوت رکھتے ہیں، یعنی کائنات، فلسفہ، علوم اور دلائل کو سمجھنے میں تیز اور باریک بین ہوتے ہیں۔ یہ لوگ علم و استدلال کے میدان میں آگے بڑھتے ہیں اور حقیقت کو دلیل کے ترازو پر پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسری طرف کچھ انسان عقلِ عملی میں زیادہ قوت رکھتے ہیں۔ ان کے اندر فیصلہ کرنے، اچھے برے میں فرق کرنے، زندگی کے معاملات کو تدبیر سے چلانے اور اخلاقی راہوں کو اختیار کرنے کی صلاحیت زیادہ پختہ ہوتی ہے۔ یوں بعض کے نزدیک عقل کے دو بڑے پہلو ہیں: نظری اور عملی، اور انسان اپنی زندگی میں کبھی ایک میں قوی اور دوسرے میں کمزور ہوتا ہے، کبھی دونوں میں توازن پا لیتا ہے۔

اسی کے ساتھ عقل کو درجوں میں بھی تقسیم کیا جاتا ہے۔ ابتدائی درجے کے انسان وہ ہیں جن کی عقل صرف حواس کے تابع رہتی ہے۔ وہی سچ مانتے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ہو یا جو محسوسات میں آجائے۔ ایسے لوگ سطحی سوچ کے حامل ہوتے ہیں اور گہری معنویت یا ماورائی حقائق تک نہیں پہنچ پاتے۔ اس کے بعد وہ لوگ آتے ہیں جن کی عقل استدلالی مرحلے میں داخل ہو جاتی ہے۔ یہ مشاہدے اور تجربے کو بنیاد بنا کر علت و معلول کا رشتہ تلاش کرتے ہیں، دلائل باندھتے ہیں اور نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔ ان سے آگے وہ انسان ہیں جن کی عقل کشفی اور حکمی مرحلے تک پہنچتی ہے۔ یہ عقل نہ صرف ظاہری حقائق کو بلکہ باطنی معانی اور الٰہی ہدایات کو بھی قبول کرتی ہے اور وحی و شریعت کے نور میں اپنی راہ متعین کرتی ہے۔

ایک اور تقسیم اس طرح ہے کہ بعض انسانوں کی عقل بالقوہ ہوتی ہے یعنی ان میں فہم و بصیرت کی استعداد تو ہوتی ہے مگر وہ اسے بروئے کار نہیں لاتے۔ وہ علم حاصل کرنے، غور و فکر کرنے اور تجربے سے نتیجہ اخذ کرنے میں سستی دکھاتے ہیں، نتیجتاً ان کی عقل ایک پوشیدہ خزانے کی طرح رہ جاتی ہے۔ اس کے مقابل کچھ انسانوں کی عقل بالفعل ہوتی ہے، یعنی وہ اپنی فطری استعداد کو علم، تجربے اور عمل کے ذریعے فعال بنا لیتے ہیں۔ یہ لوگ معاشرے میں راہنمائی اور رہبری کا کردار ادا کرتے ہیں۔

اہل معرفت نے عقل کو مزید اس بنیاد پر بھی تقسیم کیا ہے کہ کچھ لوگ محض دنیاوی عقل رکھتے ہیں۔ یہ عقل انہیں زندگی کے مادی معاملات، تجارت، سیاست اور دنیاوی کامیابی میں مدد دیتی ہے، لیکن آخرت اور روحانی حقیقتوں کی طرف ان کی عقل اندھی رہتی ہے۔ کچھ ایسے ہیں جن کی عقل ایمانی اور دینی رنگ اختیار کر لیتی ہے۔ یہ لوگ خدا، قیامت اور اخلاقی اصولوں کو زندگی کے فیصلوں میں دخیل کرتے ہیں۔ ان کی عقل حقیقت کو صرف دنیاوی فائدے میں نہیں دیکھتی بلکہ ابدی انجام کو بھی مدنظر رکھتی ہے۔

یوں عقل کے لحاظ سے انسانوں کو صرف ایک پیمانے پر پرکھنا درست نہیں، بلکہ وہ کبھی حسی اور سطحی عقل کے اسیر رہتے ہیں، کبھی استدلالی اور تحقیقی عقل کے ذریعے آگے بڑھتے ہیں، کبھی عملی عقل کے ذریعے اپنی زندگی کو بہتر کرتے ہیں اور کبھی نورانی اور ایمانی عقل کے ذریعے کمالِ انسانی کے قریب ہوتے ہیں۔ عقل کا یہی تنوع انسان کو مختلف اقسام میں تقسیم کرتا ہے اور اسی سے یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ کیوں کچھ انسان محض دنیا میں محدود رہ جاتے ہیں اور کچھ حقیقت کی اعلیٰ ترین منزلوں تک پہنچ جاتے ہیں۔

عاقل انسان کے نظریات، عقائد اور خیالات اچانک وجود میں نہیں آتے بلکہ یہ ایک طویل، پیچیدہ اور کثیر الجہتی عمل کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے انسان کی فطرت اور جبلت اس کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ ہر انسان اپنی فطری میلانوں اور اندرونی استعداد کے ساتھ دنیا میں آتا ہے۔ یہی فطرت اسے حق و باطل میں فرق کرنے، خیر و شر کو پہچاننے اور حقیقت کی جستجو کرنے کی طرف مائل کرتی ہے۔ اس کے بعد اس کے خاندانی ماحول کا اثر سب سے زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ بچپن میں والدین اور گھر کا رویہ، ان کی دینی یا دنیاوی ترجیحات، ان کا طرزِ گفتگو اور عمل، سب کچھ بچے کے ذہن میں ایسے نقوش چھوڑتے ہیں جو آگے چل کر اس کے نظریات کا بنیادی حصہ بن جاتے ہیں۔

تعلیمی نظام بھی انسان کے افکار پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ جو علم اسے بچپن سے پڑھایا جاتا ہے، چاہے وہ دینی تعلیم ہو یا سائنسی و فلسفیانہ، وہ اس کے سوچنے کے زاویوں کو تشکیل دیتا ہے۔ اس کے اساتذہ کی شخصیت، ان کے نظریات اور تدریسی انداز بھی اس کے ذہن میں سوالات اور جوابات کے نئے دریچے کھولتے ہیں۔ اسی کے ساتھ سماجی ماحول، معاشرتی رویے، اور مختلف طبقوں کے ساتھ میل جول بھی نظریات کے رنگ بدلنے کا باعث بنتے ہیں۔ دوست احباب اور ساتھی انسان کے خیالات پر اثر انداز ہوتے ہیں اور انسان کا ذہن اکثر انہی کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر یا ان سے اختلاف کے نتیجے میں نئی راہیں نکالتا ہے۔

انسان کے عقائد میں ایک اور بڑی قوت اس کے ذاتی تجربات ہوتے ہیں۔ خوشی، غم، کامیابی اور ناکامی، بیماری اور صحت، محرومی اور آسودگی جیسی کیفیات اسے زندگی کو مختلف زاویوں سے دیکھنے پر مجبور کرتی ہیں۔ یہ تجربات اس کے ایمان کو مضبوط بھی کر سکتے ہیں اور بعض اوقات شکوک و شبہات بھی پیدا کر دیتے ہیں۔ مطالعہ اور تحقیق بھی انسان کے ذہن کو وسعت دیتے ہیں۔ جو کچھ وہ کتابوں، مقالات، یا علمی و فلسفیانہ مکالمات سے حاصل کرتا ہے، وہ اس کی سوچ کو محض تقلید کے دائرے سے نکال کر دلیل اور استدلال کے میدان میں لے جاتا ہے۔

اس سب کے ساتھ ساتھ زمانے کی ضرورتیں، حالات اور معاشرتی تبدیلیاں بھی خیالات کو تشکیل دیتی ہیں۔ انسان اپنے زمانے کے علمی و فکری رجحانات سے متاثر ہوتا ہے۔ میڈیا، سیاست، معیشت اور عالمی طاقتوں کی چالیں اس کے ذہن میں سوالات اٹھاتی ہیں اور کبھی کبھی اسے اپنی رائے کو بدلنے پر مجبور کرتی ہیں۔ سب سے اہم اثر انسان کی عقل اور شعوری کوشش کا ہوتا ہے۔ ایک عاقل انسان محض ماحول کا اسیر نہیں رہتا بلکہ اپنی عقل سے چھان پھٹک کرتا ہے۔ وہ سنی سنائی بات پر یقین نہیں کرتا بلکہ دلیل تلاش کرتا ہے، روایات و عقائد کو پرکھتا ہے اور اپنے ضمیر کی گواہی کو اہمیت دیتا ہے۔ یہی عقل اسے اندھی تقلید سے نکال کر حقیقت کے قریب لے آتی ہے۔

یوں انسان کے نظریات اور عقائد ایک زندہ اور متحرک حقیقت ہوتے ہیں جو مسلسل ارتقاء پذیر رہتے ہیں۔ فطرت، خاندان، معاشرہ، تعلیم، تجربات، مطالعہ، زمانے کے حالات اور سب سے بڑھ کر انسان کی اپنی عقل مل کر اس کی فکری کائنات کو تشکیل دیتے ہیں۔ یہ سب عوامل مل کر ایک ایسے نقشے کی طرح ہیں جس پر اس کی زندگی کے نظریات اور خیالات ثبت ہوتے جاتے ہیں اور وقت کے ساتھ اس میں نئی لکیریں جڑتی اور پرانی مٹتی رہتی ہیں۔

فقہا کے اختلافِ فتاویٰ کا مطالعہ اگر ایک عاقل انسان کے نظریات و عقائد کی تشکیل کے پس منظر میں کیا جائے تو حقیقت کھلتی ہے کہ جس طرح ہر انسان کے خیالات و عقائد مختلف عوامل سے بنتے ہیں، اسی طرح فقہا کے استنباط اور اجتہاد پر بھی کثیر جہتی اسباب اثرانداز ہوتے ہیں۔ سب سے بنیادی وجہ علمی ماخذات کی تفہیم اور ان کے فہم میں اختلاف ہے۔ قرآن و سنت سب کے لیے ایک ہی ہیں مگر الفاظ کے دائرۂ مفہوم، ان کے استعمال کے قرائن اور تاریخی سیاق و سباق کو سمجھنے میں فقہا کے درمیان مختلف آراء پیدا ہوتی ہیں۔ بعض فقہا ایک آیت یا حدیث کے ظاہر پر اعتماد کرتے ہیں جبکہ کچھ اس کے باطن یا شان نزول کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اسی طرح روایات کے سلسلہ سند اور ان کے راویوں کی وثاقت کے بارے میں مختلف آراء بھی اختلاف کو جنم دیتی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ عقلِ انسانی کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ ہر فقیہ اپنی عقل، تجربے اور علمی پس منظر کے مطابق نصوص کو سمجھتا اور ان پر حکم لگاتا ہے۔ بعض نصوص ایسے ہوتے ہیں جن میں صراحت نہیں ہوتی بلکہ اجمال یا احتمال پایا جاتا ہے، یہاں عقل و اجتہاد کی قوت فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ فقیہ کے استدلال کا طریقہ، اصول فقہ کی بنیادیں اور قاعدوں کے انتخاب میں تنوع اس کے فتوے کو دوسرے سے مختلف بنا دیتا ہے۔ مثلاً ایک فقیہ قیاس یا مصالح مرسلہ کو قبول کرتا ہے تو دوسرا اسے ناقابلِ اعتبار سمجھتا ہے۔ یہ فرق صرف اصولی سطح پر نہیں بلکہ عملی فتاویٰ میں بھی جھلکتا ہے۔

ماحول اور زمانے کی تبدیلیاں بھی فتاویٰ کے اختلاف میں اپنا حصہ ڈالتی ہیں۔ فقہا جن علاقوں اور معاشرتی پس منظر میں رہتے ہیں وہاں کے عرف، حالات اور لوگوں کے مسائل بھی ان کے اجتہاد پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایک فقیہ اگر ایک ایسے معاشرے میں رہتا ہے جہاں کوئی مسئلہ عام اور روزمرہ کی ضرورت ہے تو وہ اس پر زیادہ غور کرتا ہے اور ممکن ہے وہاں کا عرف اس کے فتوے کو متعین کرے، جبکہ دوسرا فقیہ کسی اور علاقے میں اسی مسئلے کو ثانوی اہمیت دیتا ہے۔

ذاتی تجربات اور علمی مطالعہ بھی اختلاف کی جڑ ہیں۔ کوئی فقیہ اگر زیادہ کثرت سے فلسفہ، منطق اور کلام سے آشنا ہے تو وہ نصوص کی تاویل اور گہری عقلی تحلیل کو زیادہ جگہ دیتا ہے، جبکہ کوئی دوسرا فقیہ روایت و حدیث کے ذخیرے میں زیادہ مہارت رکھتا ہے اور وہ عقل سے زیادہ نصوص کے ظاہر کو بنیاد بناتا ہے۔ یوں دونوں کی فتاویٰ مختلف رخ اختیار کر لیتی ہیں۔

اس کے علاوہ زبان اور لسانی دائرہ بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ ایک ہی لفظ عربی لغت میں کئی معانی رکھتا ہے اور مختلف فقہا اپنے اپنے لغوی و ادبی ذوق کے مطابق مفہوم اخذ کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ فقہا کی ذاتی احتیاط یا توسع کا میلان بھی اختلاف پیدا کرتا ہے۔ بعض فقہا احکام میں زیادہ احتیاط کو ترجیح دیتے ہیں اور احتیاطی پہلو کو مقدم رکھ کر فتویٰ دیتے ہیں جبکہ کچھ دوسرے سہولت اور آسانی کو اصل قرار دیتے ہیں۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ فقہا کے اختلافِ فتاویٰ بھی اسی طرح کے عوامل کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں جیسے ایک عام عاقل انسان کے عقائد اور نظریات تشکیل پاتے ہیں۔ نصوص کی فہم، عقل کی وسعت، ذاتی تجربات، علمی پس منظر، معاشرتی حالات اور لسانی نکات سب مل کر ہر فقیہ کو ایک منفرد زاویۂ نظر عطا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فقہی تراث میں تنوع اور تعدد موجود ہے جو دراصل فکر کی پختگی اور نصوص کے ساتھ عمیق تعامل کی علامت ہے، نہ کہ محض تفرقہ۔ اس تنوع میں حکمت یہ ہے کہ امت کو مختلف حالات اور زمانوں کے مطابق رہنمائی فراہم ہو اور شریعت ایک محدود اور جامد دائرے میں قید نہ ہو بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے رہنما ثابت ہو۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2286

ٹیگز

تبصرے