42

حق و باطل کی پہچان کا معیار

  • نیوز کوڈ : 2265
  • 24 August 2025 - 16:30
حق و باطل کی پہچان کا معیار

 بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔  سید جہانزیب عابدی انسانی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ سوالات اور جستجو کے درمیان گزرتی ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنے اردگرد کی اشیاء کو دیکھ کر حیران ہوتا ہے، جب بڑا ہوتا ہے تو وہ سوچتا ہے کہ کون سا راستہ […]

 بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

 سید جہانزیب عابدی

انسانی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ سوالات اور جستجو کے درمیان گزرتی ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنے اردگرد کی اشیاء کو دیکھ کر حیران ہوتا ہے، جب بڑا ہوتا ہے تو وہ سوچتا ہے کہ کون سا راستہ درست ہے، کون سا عمل بہتر ہے اور کون سا نظریہ زیادہ معقول ہے۔ اسی تلاش میں اکثر وہ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ اگر دنیا میں بے شمار نظریات اور افراد موجود ہیں تو پھر سچائی کی پہچان کیسے ہو؟ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم صرف افراد یا گروہوں کو دیکھ کر یہ فیصلہ کریں کہ یہ راستہ درست ہے یا غلط؟ یہاں پر عقل ایک نہایت بنیادی اصول کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ کسی حقیقت کو پہچاننے کے لئے ہمیں پہلے اس کے معیار اور نشانیوں کو سمجھنا ہوگا، نہ کہ صرف اس کو ماننے والوں کی تعداد یا شہرت کو بنیاد بنائیں۔

سچائی ہمیشہ اپنی علامتوں کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر جب کوئی شخص انصاف کی بات کرتا ہے تو انصاف کا مطلب خود اپنے آپ میں واضح ہے، یہ دیکھنے کی ضرورت نہیں کہ بولنے والا کون ہے بلکہ دیکھنا یہ چاہیے کہ کیا اس کے دلائل عدل کے مطابق ہیں یا نہیں۔ اسی طرح اگر کوئی کہتا ہے کہ یہ عمل خیر ہے تو معیار یہ ہونا چاہیے کہ اس عمل کے نتیجے میں انسانی فطرت، عقل اور اخلاق کو سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے یا نہیں۔ اگر کوئی نظریہ انسان کو غلام بناتا ہے، اس کی آزادی اور وقار کو چھینتا ہے، یا اسے صرف ذاتی مفاد اور طاقت کی پرستش میں لگا دیتا ہے تو وہ حق نہیں ہو سکتا، چاہے دنیا کے بڑے بڑے لوگ اس کی تعریف کیوں نہ کریں۔ لیکن اگر کوئی نظریہ انسان کو ظلم سے آزاد کرتا ہے، انصاف کو فروغ دیتا ہے، اور انسان کی عقل و ضمیر کو سکون بخشتا ہے تو وہی حقیقت کے قریب ہے، چاہے دنیا میں اسے کم لوگ مانتے ہوں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو سمجھنا چاہیے کہ حق اور باطل کی پہچان کا معیار لوگ نہیں ہوتے بلکہ وہ اصول اور نشانیاں ہوتے ہیں جو حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں۔ لوگ بدلتے رہتے ہیں، ان کی سوچیں اور مفادات بھی وقت کے ساتھ بدل سکتے ہیں، لیکن حقیقت اپنی نشانیوں کے ساتھ ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ مثال کے طور پر سورج کی روشنی کو پہچاننے کے لئے ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت نہیں کہ کتنے لوگ کہتے ہیں کہ دن ہے بلکہ دن کی روشنی، حرارت اور سورج کا ظہور خود اس بات کی دلیل ہے کہ دن ہے۔ اسی طرح حق بھی اپنی علامتوں سے پہچانا جاتا ہے: عدل، صداقت، خلوص، خیرخواہی، علم اور انسانیت کی خدمت۔

اگر انسان اپنی زندگی میں یہ اصول اختیار کر لے کہ ہر نظریے اور ہر دعوے کو ان نشانیوں کی کسوٹی پر پرکھے تو اسے کبھی دھوکہ نہیں ہوگا۔ وہ لوگوں کے نام اور حیثیت سے مغلوب نہیں ہوگا بلکہ حقیقت کی پہچان میں خود مختار رہے گا۔ یہ دراصل ایک آزاد ذہن کی سب سے بڑی علامت ہے کہ وہ شخصیات کا اسیر نہیں بنتا بلکہ دلیل اور حقیقت کو بنیاد بنا کر راستے کا انتخاب کرتا ہے۔

یوں دیکھا جائے تو ہر انسان کے اندر یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ حق کو اس کی نشانیوں سے پہچان سکے۔ یہ کوئی مافوق الفطرت چیز نہیں بلکہ انسانی عقل اور فطرت کا حصہ ہے۔ انسان کا دل سچائی کی کشش کو پہچان لیتا ہے اگر وہ تعصب، اندھی تقلید اور مفاد پرستی کے پردوں کو ہٹا دے۔ یہی وہ بنیادی اصول ہے جو انسان کو شک و تردید سے نکال کر یقین اور سکون کی طرف لے جاتا ہے، اور یہ یقین کسی شخصیت یا گروہ کی تقلید سے نہیں بلکہ حقیقت کو حقیقت کے پیمانوں سے جاننے سے پیدا ہوتا ہے۔

بالکل اسی طرح جس طرح حق اپنی علامتوں اور نشانیوں سے پہچانا جاتا ہے، اسی طرح باطل بھی اپنی علامتوں کے ذریعے واضح ہوتا ہے۔ انسان کو یہ سوچنا چاہیے کہ اگر حق کے لیے عدل، صداقت، خیرخواہی، علم، اور انسان کی عزت و وقار معیار ہیں تو اس کے الٹ باطل کو پہچاننے کا طریقہ بھی انہی اصولوں کی ضد میں پوشیدہ ہے۔ باطل ہمیشہ اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب کہیں ناانصافی قائم ہو، جب انسان کی عقل کو دبایا جائے، جب طاقت کو معیار بنایا جائے، جب انسانیت کو ذاتی مفاد اور حرص کے لیے قربان کر دیا جائے۔

باطل کی سب سے نمایاں علامت یہ ہے کہ وہ وقتی طور پر دلکش دکھائی دیتا ہے مگر حقیقت میں انسان کو غلامی، خوف اور تضاد میں دھکیل دیتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی نظریہ یا نظام انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ دوسروں کا استحصال کرنا ہی کامیابی ہے یا طاقتور ہی حق پر ہے تو یہ خود باطل کی واضح نشانی ہے۔ کیونکہ اس میں انصاف غائب ہے اور انسان کی فطرت بھی ایسے ظلم کو قبول نہیں کرتی۔ اسی طرح جھوٹ، دھوکہ دہی، منافقت اور وعدہ خلافی ہمیشہ باطل کی پہچان ہیں۔ یہ صفات وقتی فائدہ تو دے سکتی ہیں لیکن طویل مدت میں انسان کے ضمیر اور سماج کو تباہ کر دیتی ہیں۔

باطل کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ وہ اکثر سچائی کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے تاکہ انسان کو دھوکے میں رکھ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ باطل کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ حقیقت کو مسخ کر کے پیش کرتا ہے، یعنی آدھا سچ اور آدھا جھوٹ ملا کر۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عقل کو بیدار رکھنا ضروری ہے۔ اگر کوئی بات بظاہر اچھی لگ رہی ہے لیکن اس کے نتیجے میں انسانیت کا نقصان ہو رہا ہے، دل بے سکون ہے اور معاشرے میں فساد بڑھ رہا ہے تو یہ یقینا باطل ہے۔

باطل کو پہچاننے کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ اس کے اثرات پر غور کیا جائے۔ اگر کسی نظریے، فلسفے یا نظام کے نتیجے میں کمزور مزید کمزور ہو رہا ہے اور طاقتور مزید طاقتور بن رہا ہے، اگر دلوں میں بغض اور حسد بڑھ رہا ہے، اگر امن کی بجائے خوف اور انتشار پھیل رہا ہے تو یہ صاف بتا رہا ہے کہ یہ باطل ہے۔ سچائی کے اصول ہمیشہ سکون، انصاف اور انسانی احترام کی طرف لے جاتے ہیں جبکہ باطل ہمیشہ اضطراب، ناانصافی اور ذلت کی طرف۔

انسان کے اندر ایک فطری صلاحیت موجود ہے جو باطل کو پہچان سکتی ہے۔ جب وہ کسی بات یا عمل کے بارے میں سوچتا ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس سے اندرونی بے چینی بڑھ رہی ہے، ضمیر اسے ملامت کر رہا ہے، یا عقل اسے غیر معقول قرار دے رہی ہے، تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ بات باطل کے قریب ہے۔ البتہ یہ صلاحیت تبھی پوری طرح کام کرتی ہے جب انسان خود کو تعصب، ضد، اور خواہشات سے آزاد کرے۔

یوں دیکھا جائے تو باطل کی پہچان بھی کسی شخصیت یا گروہ سے نہیں بلکہ اس کی علامات اور نتائج سے ہوتی ہے۔ باطل کو پہچاننے والا انسان اسیرِ اشخاص نہیں رہتا بلکہ حقیقت کی جستجو میں آزاد ہو جاتا ہے۔ اس آزادی کے نتیجے میں وہ نہ صرف خود کو دھوکے سے بچاتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی حقیقت کے قریب لے جانے والا بن سکتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2265

ٹیگز

تبصرے