35

حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی اور مکافات عمل

  • نیوز کوڈ : 2280
  • 24 August 2025 - 20:40
حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی اور مکافات عمل

حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی اور مکافات عمل

 بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

 تحریر : سید جہانزیب عابدی

انسان کی فطرت میں دو بڑے رجحانات ہمیشہ سے موجود ہیں: ایک ہے کمال اور حقیقت کی تلاش جسے قرآن نے علم کی طرف رہنمائی قرار دیا ہے اور دوسرا ہے دنیا اور اس کی زینت کی رغبت جسے خواہشِ نفس اور ہوس کہا گیا ہے۔ قرآن اور معصومینؑ کی تعلیمات میں جہاں علم کو سب سے بلند مرتبہ دیا گیا ہے، وہاں اس کے ساتھ ایک شرط ہمیشہ رکھی گئی ہے کہ یہ علم اللہ کی معرفت اور بندگی کے تقرب کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ ریا، مقابلہ یا صرف دنیوی غلبے کے لیے۔ اسی طرح دولت و دنیا کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت کے طور پر بیان کیا ہے لیکن ساتھ ہی اس کی طلب اور حرص کو شدید مذمت کا نشانہ بنایا ہے۔ اس کا راز یہ ہے کہ علم اور مال بذات خود نہ مذموم ہیں نہ ہی ممنوع، بلکہ یہ اس وقت قابلِ مذمت ہو جاتے ہیں جب وہ انسان کو اصل مقصد یعنی خدا کی طرف رجوع سے ہٹا کر دنیا پرستی، خود غرضی اور استحصال کی راہ پر لے جائیں۔

اگر انسان علم حاصل کرے اور وہ علم اس کو حق کی معرفت، عدل کے قیام اور انسانی خدمت کی طرف لے جائے تو یہی علم عبادت کے درجے کو پہنچ جاتا ہے اور نورِ الٰہی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر وہی علم محض نام و نمود، شہرت اور برتری جتانے کا ذریعہ بنے تو وہ عین “ہوس” ہے۔ یہی فرق ہے کہ قرآن نے فرمایا کہ وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور اسے خدا کے لیے استعمال کرتے ہیں ان کا مقام بلند ہے، اور وہ جو علم رکھتے ہوئے بھی تکبر اور غرور میں پڑ جاتے ہیں وہ گمراہ ہیں۔

اسی طرح دولت بھی ایک آزمائش ہے۔ اگر کوئی دولت کو حلال ذرائع سے حاصل کرے اور اسے حقوق اللہ جیسے عبادات، زکات، خمس اور صدقات میں صرف کرے اور حقوق الناس کی ادائیگی کے ساتھ معاشرتی بھلائی، رفاہِ عامہ اور مظلوموں کی حمایت میں خرچ کرے تو یہ دولت باعثِ برکت ہے۔ لیکن اگر وہی دولت انسان کے دل میں مستقل خواہش، حرص اور لالچ پیدا کرے اور اس کا مقصد صرف جمع کرنا یا اپنی انا کی تسکین بن جائے تو یہی دولت ہوس میں بدل جاتی ہے۔ قرآن نے قارون کی مثال اسی لیے دی کہ اس کے پاس مال تھا لیکن وہ مال کے غرور میں خدا کو بھول گیا، جبکہ سلیمان نبیؑ کو مال و سلطنت دی گئی لیکن انہوں نے اسے خدا کی بندگی اور عدل کے قیام میں استعمال کیا۔

اصل نکتہ یہ ہے کہ مذمت علم یا مال کی نہیں بلکہ “ہوس” کی گئی ہے، اور ہوس اس وقت جنم لیتی ہے جب علم یا دولت انسان کو اپنے مقصدِ حقیقی یعنی عبدیت اور قربِ الٰہی سے ہٹا کر مادیت اور انا پرستی میں مبتلا کر دے۔ اگر یہ دونوں نعمتیں ذمہ داری اور تقویٰ کے ساتھ استعمال ہوں تو نہ صرف یہ مذموم نہیں بلکہ انسان کے درجات کو بلند کرنے کا وسیلہ ہیں۔ یوں علم اور دولت جب خدا کے رنگ میں رنگے جائیں تو یہ عبادت اور قرب کا ذریعہ ہیں، اور جب نفس کے رنگ میں رنگے جائیں تو یہی بوجھ اور گمراہی کا سبب ہیں۔

 قرآن اور تعلیمات معصومینؑ کی روشنی میں کائنات ایک “نظامِ عدل” پر قائم ہے جسے سنتِ الٰہی یا قانونِ قدرت کہا جاتا ہے۔ اس قانون کے مطابق اگر کوئی انسان علم یا دولت حاصل کرے مگر اس کے ساتھ حقوق اللہ اور حقوق الناس کی ادائیگی نہ کرے تو وہ گویا کائنات کے توازن اور عدل کو توڑ دیتا ہے۔ ایسے عمل کا لازمی نتیجہ مکافاتِ عمل کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

قانونِ قدرت یہ ہے کہ ہر نعمت کے ساتھ ذمہ داری جڑی ہوئی ہے۔ علم کے ساتھ ہدایت، روشنی اور عدل قائم کرنے کی ذمہ داری ہے، اور دولت کے ساتھ ایثار، انفاق اور مظلوموں کی دستگیری کی ذمہ داری ہے۔ جب کوئی شخص ان ذمہ داریوں کو نظرانداز کرتا ہے تو وہ علم کو استبداد، دھوکے اور فریب میں استعمال کرتا ہے یا دولت کو استحصال اور ذخیرہ اندوزی میں صرف کرتا ہے۔ اس کا لازمی ردعمل یہ نکلتا ہے کہ اس کے اندرونی نفس میں بے سکونی، خوف، حرص اور حسرت کا زہر پیدا ہوتا ہے، اور بیرونی دنیا میں اس کا عمل ظلم، فساد اور تباہی کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

قرآن نے بارہا یہ حقیقت بیان کی ہے کہ جو لوگ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو چھوڑ کر دولت کے پیچھے لگتے ہیں ان کے مال میں بظاہر برکت نظر آتی ہے مگر حقیقت میں وہ “وبال” اور “عذاب” میں بدل جاتا ہے۔ ان کے مال کو اللہ یا تو دنیا میں ہی تباہ کر دیتا ہے، یا وہ مال ان کے لیے حسرت کا سامان بن جاتا ہے۔ کبھی ان کی نسلوں میں اختلاف، بربادی اور بغاوت کی شکل میں یہ اثرات ظاہر ہوتے ہیں، اور کبھی وہ خود حرص کے مارے کبھی سیر نہیں ہوتے، حتیٰ کہ اپنی زندگی کو کڑواہٹ اور ناامنی سے بھر دیتے ہیں۔

اسی طرح علم اگر خدا کے حقوق اور بندوں کے حقوق کے بغیر صرف نفس اور مفاد کی خدمت کرے تو وہ علم اندھیرا بن جاتا ہے۔ ایسے انسان کے ذہن میں گھمنڈ اور تکبر آتا ہے، وہ دوسروں کو کمتر سمجھتا ہے اور اپنی ذہانت کو استحصالی طاقتوں کی خدمت میں دیتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس کے اپنے معاشرے میں عدل ختم ہو کر ظلم غالب آ جاتا ہے، اعتماد ٹوٹ جاتا ہے، اور اجتماعی سطح پر افراتفری اور انحطاط کا آغاز ہو جاتا ہے۔

قانونِ مکافات کی ایک اور جہت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کو کبھی کبھار فوری سزا نہیں دیتا بلکہ ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ مزید غرور میں ڈوب جائے اور اس کا پردہ فاش ہو۔ جیسا کہ قرآن میں ہے کہ ہم ان کو مہلت دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے گناہوں میں بڑھ جائیں، اور پھر اچانک انہیں اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ علم اور دولت کی ہوس جب حقوق کے بغیر ہو تو بظاہر ترقی دکھائی دیتی ہے لیکن وہ دراصل زوال اور ہلاکت کی سیڑھی پر تیزی سے بڑھنا ہوتا ہے۔

پس قانونِ قدرت کا مکافات یہ ہے کہ علم کے بغیر ہدایت “ظلمات” میں بدل جاتی ہے اور دولت کے بغیر عدل “استحصال” میں ڈھل جاتی ہے۔ انجام یہ نکلتا ہے کہ انسان کا اندرونی وجود حسرتوں اور خوف میں جکڑ جاتا ہے، اور بیرونی دنیا میں ظلم و فساد اس کی زندگی کو گھیر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے فرمایا کہ جو لوگ اپنے مال کو روک کر رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، وہ دراصل اپنی گردنوں میں آگ کی طوق ڈال رہے ہیں۔ اور جو لوگ علم کو بندوں پر ظلم کے لیے استعمال کرتے ہیں وہ قیامت میں اندھے اٹھائے جائیں گے کیونکہ انہوں نے روشنی کو ظلمت میں بدلا تھا۔

 اللہ نے بارہا یہ بتایا کہ نعمت اور طاقت بذاتِ خود شر نہیں، لیکن جب وہ حقوق اللہ و حقوق الناس کے بغیر استعمال ہو تو وہ نعمتیں وبال میں بدل جاتی ہیں اور اقوام و افراد کے لیے ہلاکت کا سبب بنتی ہیں۔ تاریخ اور قرآن میں کئی نمایاں مثالیں ملتی ہیں جو اس قانونِ مکافات کی روشن تصویر پیش کرتی ہیں۔

سب سے پہلے قارون کی مثال ہے جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم سے تھا۔ قرآن نے کہا کہ ہم نے اسے اتنے خزانے دیے کہ ان کی کنجیاں کئی طاقتور افراد بھی مشکل سے اٹھا سکتے تھے۔ لیکن قارون نے اس دولت کو خدا کی امانت سمجھنے کے بجائے اپنی ذات کی ملکیت قرار دیا اور فخر و غرور میں ڈوب گیا۔ اس نے نہ زکوٰۃ ادا کی، نہ محتاجوں کی مدد کی، بلکہ دولت کو اپنی “علم” اور “قابلیت” کا نتیجہ کہا۔ اس کے غرور کا انجام یہ ہوا کہ اللہ نے زمین کو حکم دیا اور وہ اپنی دولت سمیت زمین میں دھنس گیا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ جو شخص دولت کے ساتھ حقوق کو ادا نہیں کرتا، وہ خود اپنے بوجھ تلے دب کر فنا ہو جاتا ہے۔

اسی طرح فرعون کی مثال سامنے آتی ہے جو سیاسی طاقت اور علمِ سیاست میں اپنی قوم پر حاکم تھا۔ وہ کہتا تھا کہ “میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں”۔ اس کے پاس دولت، حکومت، لشکر اور اہلِ دربار کی حمایت موجود تھی، لیکن اس نے بنی اسرائیل پر ظلم کیا، ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ چھوڑ کر انہیں غلام بنایا۔ اس نے اپنی طاقت کو بندوں کی خدمت اور عدل قائم کرنے کے بجائے تکبر اور استبداد میں استعمال کیا۔ انجام یہ ہوا کہ دریا میں اپنے لشکر سمیت غرق ہوا اور آج تک اس کی لاش دنیا کے لیے نشانِ عبرت بنی ہوئی ہے۔

بنی اسرائیل کی تاریخ بھی ایک نمایاں مثال ہے۔ اللہ نے انہیں فرعون سے نجات دی، من و سلویٰ عطا کیا، آسمانی کتاب دی، انبیاء بھیجے اور انہیں علم و دولت کی فراوانی دی۔ لیکن انہوں نے بارہا خدا کے ساتھ عہد توڑا، انبیاء کو قتل کیا، حقوق العباد پامال کیے، سود کھایا اور کمزوروں کا استحصال کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ بکھر گئے، ذلت و مسکنت ان پر مسلط ہوئی، اور آج تک ان کی تاریخ عذاب اور تتر بتر ہونے کی کہانی ہے۔

سبا کی قوم کو بھی قرآن نے بطور مثال ذکر کیا ہے۔ انہیں اللہ نے زراعت کی دولت دی، باغات دیے اور امن و خوشحالی سے نوازا۔ لیکن انہوں نے ناشکری کی، حقوق اللہ کو چھوڑا، حقوق الناس کو پامال کیا اور غرور میں آ گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر “سیلِ عَرِم” (بندھ ٹوٹنے والا سیلاب) بھیجا گیا، ان کے باغات اجڑ گئے اور خوشحال بستی اجڑ کر ویران ہو گئی۔

اسی طرح عاد اور ثمود کی قوموں کو یاد کیا جا سکتا ہے۔ عاد کے پاس طاقتور جسم اور وسیع ریاست تھی، اور ثمود کے پاس انجینئرنگ اور فن تعمیر کا عظیم علم تھا۔ انہوں نے پہاڑ تراش کر مکانات بنائے، لیکن ان سب کو اپنے غرور اور ظلم کے لیے استعمال کیا۔ حقوق اللہ کی انکار اور حقوق الناس کی پامالی نے ان کی طاقت کو بربادی میں بدل دیا۔ عاد پر آندھی آئی اور ثمود پر ایک ہی چنگھاڑ نے ان کی زندگیاں ختم کر دیں۔

یہی قانون مکافات تاریخ اسلام کے بعد بھی جاری رہا۔ بنو امیہ اور بنو عباس دولت و طاقت کے عروج پر پہنچے، لیکن انہوں نے اس کو عدل و انصاف کے بجائے ظلم اور عیاشی میں استعمال کیا۔ یتیموں، بیواؤں اور مظلوموں کے حقوق پامال کیے۔ امام حسینؑ جیسے عظیم ہادی کو قتل کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بنو امیہ اور بنو عباس کی سلطنتیں صدیوں کے اندر ہی خاک میں مل گئیں اور آج ان کا کوئی وجود باقی نہیں۔

یہ سب مثالیں ایک ہی حقیقت کو ثابت کرتی ہیں کہ جب علم اور دولت حقوق کی ادائیگی کے بغیر ہوں تو وہ انسان یا قوم کے لیے زوال کا پیش خیمہ بن جاتے ہیں۔ مکافات کا قانون ان کے غرور کو عروج کی انتہا پر لے جاتا ہے تاکہ ان کی بربادی سب کے لیے عبرت بنے۔

جدید دور کے تناظر میں جب ہم قرآن اور تاریخ کے اس قانون مکافات کو دیکھتے ہیں تو بالکل وہی نمونہ ہمیں عالمی طاقتوں اور سرمایہ دارانہ نظام میں نظر آتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ آج کے زمانے میں قومیں اور طاقتیں ٹیکنالوجی، میڈیا اور مالیاتی اداروں کے ذریعے اپنے غرور و استبداد کو جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن اصولِ الٰہی اب بھی وہی ہے کہ حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تباہی کا سبب بنتی ہے۔

امریکہ اور یورپ کی مثال لیجیے۔ انہیں علم، سائنس، ٹیکنالوجی، معیشت اور عسکری قوت میں بے پناہ برتری ملی۔ لیکن یہ سب ان کے لیے دنیا کو عدل اور امن دینے کا ذریعہ نہ بن سکا بلکہ استعماری قبضوں، وسائل کی لوٹ مار، کمزور اقوام کو دبانے اور سرمایہ داری کے ذریعے دنیا کے بیشتر حصے کو غلام بنانے میں صرف ہوا۔ تیل اور معدنی وسائل کی خاطر مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، افریقہ میں استحصال، ایشیا میں نیٹو مداخلت، اور پوری دنیا کو ایک مالیاتی نظام کے شکنجے میں جکڑنا اس بات کی گواہی ہے کہ انہوں نے حقوق العباد کو نظر انداز کیا۔ اب نتیجہ یہ ہے کہ اندرونی طور پر ان معاشروں میں خاندانی نظام ٹوٹ رہا ہے، ذہنی امراض بڑھ رہے ہیں، نوجوان نسل بے مقصدیت اور ڈپریشن کا شکار ہے، اور سیاسی اعتبار سے وہ بحران در بحران میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ سب نشانات اس مکافاتِ عمل کے ہیں جس کی جھلک قرآن میں فرعون، قارون اور سبا کی تباہی کی شکل میں بیان ہوئی۔

اسی طرح جدید صہیونی طاقت کو دیکھیں جس نے دولت اور لابنگ کے ذریعے دنیا کے میڈیا، معیشت اور سیاست پر غلبہ حاصل کیا۔ لیکن یہ غلبہ کمزور فلسطینی عوام کے قتل عام اور استحصال پر قائم ہے۔ قرآن کا اصول یہی ہے کہ ظلم پر قائم طاقت دیرپا نہیں ہوتی۔ آج اسرائیل کے پاس ایٹمی ہتھیار، جدید فوج اور دنیا کے بڑے اتحادی ہیں، لیکن چند نہتے فلسطینی اس کے نظام کو ہلا دیتے ہیں۔ یہ بالکل وہی انجام ہے جو عاد اور ثمود کو ان کی ٹیکنالوجی اور جسمانی طاقت کے باوجود ملا تھا۔

چین کی مثال بھی دلچسپ ہے۔ اسے آج “معاشی معجزہ” کہا جاتا ہے۔ لیکن اگر یہ طاقت انسانی حقوق، عدل، کمزوروں کے احترام اور فلاحِ عامہ کے لیے استعمال نہ ہوئی تو یہی طاقت اس کے لیے بوجھ بن جائے گی۔ قرآن نے سبا کی قوم کی مثال اسی لیے دی کہ ان کے باغات، بندھ اور زراعت انہی کے غرور کی نذر ہو گئے۔ چین کا جدید انفراسٹرکچر اگر ظلم یا ماحولیاتی تباہی کا ذریعہ بنے گا تو اس پر بھی وہی قانون لاگو ہوگا۔

عرب دنیا خصوصاً خلیجی ممالک کے پاس دولت کے انبار ہیں، لیکن یہ دولت مظلوم مسلمانوں کی نصرت کے بجائے عیش و عشرت اور طاغوتی طاقتوں کی پشت پناہی میں استعمال ہو رہی ہے۔ یہ بھی بالکل قارون کا کردار ہے۔ اور جیسا کہ قارون زمین میں دھنس گیا، یہ سرمایہ بھی بالآخر انہی طاقتوں کو نگل جائے گا۔ پہلے ہی ان کے سماج اندرونی بگاڑ، مغربی غلامی اور ثقافتی کھوکھلا پن کا شکار ہیں۔

آج کا سرمایہ دارانہ عالمی نظام بذات خود ایک “قارونی نظام” ہے۔ یہ اپنی دولت کو “علم” اور “ٹیکنالوجی” کا نتیجہ کہہ کر فخر کرتا ہے، لیکن اصل میں یہ کمزور قوموں کے خون اور پسینے سے کھڑا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے قرضوں کے جال میں غریب ممالک کو دباتے ہیں، جس کے نتیجے میں کروڑوں انسان غربت، بیماری اور جہالت میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ سب اس بات کی گواہی ہے کہ حقوق العباد ادا نہیں ہو رہے۔ لہٰذا قرآن کا قانون بالآخر یہاں بھی ظاہر ہوگا اور اس نظام کی بربادی دنیا کو نظر آئے گی۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ فرعون، قارون اور سبا کی کہانیاں محض ماضی کی داستانیں نہیں بلکہ مستقبل کے آئینے ہیں۔ یہ قرآن کا زندہ پیغام ہے کہ جس قوم کے پاس علم و دولت ہو لیکن وہ عدل، تقویٰ اور حق کو چھوڑ کر غرور، ظلم اور استحصال کی راہ اختیار کرے تو وہ اپنے عروج ہی میں زوال کے بیج بو دیتی ہے۔

پاکستان کی مثال میں اگر ہم قانونِ مکافات کو دیکھیں تو کئی پہلو بہت نمایاں ہو جاتے ہیں۔ یہ ملک اللہ کے نام پر بنا، “لا الٰہ الا اللہ” کے نعرے پر وجود میں آیا، اور بانیان نے اسے ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا خواب دکھایا۔ لیکن جب حصولِ اقتدار اور دولت کی ہوس نے اس نعرے پر غلبہ پایا، اور حقوق اللہ و حقوق العباد کو نظر انداز کیا گیا، تو وہی قانون قدرت حرکت میں آیا جو قرآن نے بارہا بیان کیا ہے۔

پاکستان میں علم و دولت کا میدان اللہ نے کھولنے کی بہت گنجائش دی۔ قدرتی وسائل، زرخیز زمین، نوجوان آبادی، حتیٰ کہ جغرافیائی حیثیت کے اعتبار سے اسے دنیا کا مرکز بنایا گیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان نعمتوں کے ساتھ انصاف ہوا؟ حقیقت یہ ہے کہ وسائل پر ایک اشرافیہ نے قبضہ کر لیا، کرپشن، رشوت، اقرباپروری اور طبقاتی نظام نے عام انسان کو اس کا حق نہیں دیا۔ یہ وہی ظلم ہے جو قرآن میں حقوق الناس کی پامالی کے طور پر مذمت ہوا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود گندم اور دال درآمد کرتا ہے، پانی کے ملک ہونے کے باوجود خشک سالی کا شکار ہے، نوجوانوں کے پاس تعلیم ہے لیکن روزگار نہیں، اور جن کے پاس روزگار ہے وہاں انصاف اور وقار نہیں۔

سیاسی اعتبار سے پاکستان کا حال بھی یہی ہے۔ جمہوریت کے نام پر ذاتی مفاد کی سیاست، اسلام کے نام پر فرقہ وارانہ تقسیم، اور قومی سلامتی کے نام پر استبداد نے معاشرے کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا۔ قرآن کہتا ہے کہ جب قومیں اللہ کے ذکر کو بھلا دیتی ہیں تو وہ “انفسہم” یعنی اپنی شناخت اور وحدت کھو بیٹھتی ہیں۔ آج پاکستان میں یہی کیفیت ہے کہ قوم ایک نہیں رہی، بلکہ صوبائی، لسانی، فرقہ وارانہ خانوں میں تقسیم ہے۔ یہ بھی قانونِ قدرت کی سزا ہے کہ جب عدل قائم نہ ہو تو اتحاد ٹوٹ جاتا ہے۔

معاشی نظام میں پاکستان عالمی سرمایہ دارانہ جال کا شکار ہے۔ قرضوں پر چلنے والا ملک بن گیا ہے، جس کے نتیجے میں فیصلے اپنی خودمختاری کی بجائے آئی ایم ایف اور عالمی طاقتوں کے دباؤ سے ہوتے ہیں۔ یہ وہی “قارونی نظام” ہے جو قرآن نے تباہی کی نشانی بتایا۔ قوم سبا کی مثال یہی ہے کہ جب باغات اور وسائل کا شکر ادا نہ کیا تو “سیل العرم” کے ذریعے تباہ ہو گئے۔ پاکستان بھی اپنے پانی، معدنی وسائل اور زراعت کے شکر کی بجائے ان کے استحصال اور ضیاع کا شکار ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ قحط، مہنگائی اور معاشی بحران کی صورت میں نکل رہا ہے۔

اندرونی طور پر اخلاقی زوال بھی اسی قانون کی عکاسی کرتا ہے۔ جھوٹ، دھوکہ، ملاوٹ، انصاف کا فقدان، علم کا مقصد صرف نوکری اور پیسہ بن گیا ہے۔ نوجوانوں کو اعلیٰ ڈگریاں تو ملتی ہیں لیکن مقصدیت اور کردار سازی نہیں۔ یہ بالکل وہی صورتحال ہے جو قرآن نے بیان کی کہ جب قومیں اپنے علم کو عدل کے لیے نہیں بلکہ دنیاوی غرور کے لیے استعمال کرتی ہیں تو وہ علم بوجھ بن جاتا ہے، جیسا کہ “حمار پر کتاب” کی تمثیل دی گئی۔

اس سب کے باوجود امید کی کرن باقی ہے، کیونکہ قانون قدرت یہ بھی ہے کہ اگر قوم توبہ کرے، رجوع کرے، حقوق العباد کی ادائیگی شروع کرے اور تقویٰ پر مبنی نظام قائم کرے تو اللہ کی نصرت دوبارہ ملتی ہے۔ جس طرح یونسؑ کی قوم نے اجتماعی توبہ سے عذاب کو ٹال دیا تھا، اسی طرح اگر پاکستان اپنے خواب کی طرف پلٹے، عدل و انصاف کے نظام کی بنیاد ڈالے، اور اسلام کو محض نعرہ نہیں بلکہ عملی دستور بنائے، تو یہی قوم اللہ کی نصرت کے ساتھ دنیا میں عزت پا سکتی ہے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے مسائل صرف معاشی یا سیاسی نوعیت کے نہیں بلکہ یہ قانون مکافات کی عملی شکل ہیں۔ جب تک حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی نہیں ہوگی، علم و دولت بوجھ ہی بنے رہیں گے۔ لیکن اگر یہی علم اور وسائل عدل و انصاف کے لیے استعمال ہوں تو یہی ملک ایک “نموذجِ قرآنی ریاست” بن سکتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2280

ٹیگز

تبصرے