طاہر نقوی قم ایران
عنقریب کچھ بڑا ہونے والا ہے۔ اس وقت امریکہ ایران کے میزائلوں کا مقابلہ کرنے کے لیے خطے میں اپنے ڈیفنس سسٹم ’تھاڈ‘ کے سارے میزائلات اسرائیل منتقل کر رہا ہے۔ عراق، قطر، سعودی عرب اور دیگر اڈوں سے بڑے پیمانے پر یہ منتقلی ہو رہی ہے۔
کیا یہ جنگِ آخر الزمانی، لشکرِ حق و باطل کی آخری نبرد، عالمی جنگ (World War)، آرمیگڈون، یا کچھ اور ہے؟
(Let’s see)
واقعات بہت تیزی سے (ظہور) کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
حق و باطل کے دونوں لشکر اپنی تمام تر قوتوں کو سمیٹ کر آمنے سامنے آ چکے ہیں۔
اور دلچسپ بات یہ ہے کہ پوری تاریخ میں نہ تو باطل کے پاس کبھی اتنی طاقت تھی اور نہ ہی حق کبھی اتنی قوت و طاقت سے لیس تھا۔
پوری تاریخ میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک حق و باطل کے درمیان جنگ کا دائرہ کار اور وسعت کبھی اس قدر نہیں تھی۔
سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ حق و باطل کی اس جنگ اور اس مقاومتی نقشے میں ہمیں اپنی موجودہ پوزیشن (لوکیشن) کا تعین کرنا ہے کہ ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں:
کیا ہم حق کے ساتھ ہیں؟ یا باطل کے ساتھ ہیں؟ یا پھر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں؟ 🤔
جان لو! جس میدان میں مجھے اور آپ کو لڑنا ہے، وہ جہادِ تبیین و تبلیغ (بیان اور پیغام پہنچانے کی جدوجہد) کا میدان ہے۔ اگر ہم چاہیں تو ہمارا ایک ایک لفظ یا حرف ایک گولی بن سکتا ہے، ہماری زبان ایک تلوار (شمشیر) بن سکتی ہے، اور ہمارا قلم و کاغذ (قرطاس) باطل کے محلات (ایوانوں) کو لرزاں کر سکتے ہیں۔
ظہور امام مہدی صرف معجزات سے اور بغیر اسباب و زمینہ سازی کے ممکن نہیں
اور ان میں سب سے اہم کفر و باطل(آمریکا و اسرائیل) کا راج توڑنا اور روی زمین پر قائم امام مہدی کے نام لیواوں(نظام اسلامی ایران) کی قوت و طاقت اور استحکام کے بغیر ممکن نہیں
اس کیلیے ہمیں اس وقت ہمہ وقت اور ھمہ گیر کام کرنا ہو گا
والسلام
