بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
تحریر : سید جہانزیب عابدی
انسانی تاریخ میں ہمیشہ یہ سوال موجود رہا ہے کہ سچائی اور باطل کے درمیان فرق کیسے کیا جائے اور کس بنیاد پر یہ طے کیا جائے کہ کوئی نظریہ یا قیادت انسانیت کے لئے نجات دہندہ ہے یا تباہ کن۔ جدید دنیا میں یہ سوال اور بھی شدید ہو گیا ہے کیونکہ سچائی کو اکثر صرف تجرباتی شواہد، باستانی آثار، یا تحقیقی مقالات کے پیمانوں سے جانچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ گویا اگر کوئی بات ریفرنس یا دستاویزی ثبوت کے بغیر ہو تو وہ معتبر نہیں سمجھی جاتی۔ لیکن یہاں عقل یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کیا ہر وہ حقیقت جو انسانی زندگی کے لئے بنیادی ہو ہمیشہ تجربہ گاہ یا تاریخ کی کتابوں میں قید ہو سکتی ہے؟ کیا انسان کے ضمیر اور اجتماعی شعور کی صداقت کو صرف چند مادی شواہد تک محدود کیا جا سکتا ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں حق و باطل کی پہچان کا اصل معیار سامنے آتا ہے، یعنی وہ نشانیاں اور اثرات جو کسی حقیقت کے وجود اور ضرورت کو ثابت کرتے ہیں۔
اگر آج ہم دیکھیں تو سیاسی میدان میں دنیا ظلم، استبداد اور طاقت کے کھیل کا شکار ہے۔ طاقتور اقوام کمزوروں کو غلام بناتی ہیں، جنگوں اور پابندیوں کے ذریعے وسائل پر قبضہ کرتی ہیں، اور آزادی کے نعرے لگاتے ہوئے حقیقت میں غلامی کو فروغ دیتی ہیں۔ اگر انسان عدل اور امن کا متلاشی ہے تو اس کے ضمیر کو یہ اعلان کرنا چاہیے کہ دنیا کو ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو طاقت کو معیار نہ بنائے بلکہ عدل کو بنیاد بنائے۔ یہ وہ نشانی ہے جو اس بات پر دلیل ہے کہ حق کا نمائندہ ہمیشہ وہی ہوگا جو ظلم کو ختم کرے اور عدل کو قائم کرے، اور یہی علامت امام وقت کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔
معاشی پہلو سے دیکھیں تو جدید سرمایہ دارانہ نظام انسان کی محنت کو ایک کموڈیٹی بنا دیتا ہے، چند فیصد افراد دنیا کی دولت پر قابض ہیں اور باقی انسان غربت، بے روزگاری اور محرومی میں تڑپتے ہیں۔ جب انسان کا ضمیر یہ دیکھتا ہے کہ یہ نظام انصاف کے خلاف ہے اور انسانیت کے وقار کو پامال کر رہا ہے تو وہ فطری طور پر یہ سوال کرتا ہے کہ کون سا نظام ہے جو ہر انسان کو اس کے حق کے مطابق مقام اور رزق دے؟ یہی سوال خود اس بات کی علامت ہے کہ ایک عادل قیادت اور ایک الٰہی نظام کی ضرورت لازمی ہے، جو سرمایہ پرستی کی غلامی سے انسان کو نجات دے سکے۔ یہ ضرورت خود امام حق کے وجود پر عقلی احتجاج ہے۔
تہذیبی اور ثقافتی سطح پر بھی یہی حال ہے۔ آج کی دنیا میں ثقافت کو ایک تجارتی پروڈکٹ بنا دیا گیا ہے، انسانی اقدار کو مسخ کیا جاتا ہے، اخلاقی اصولوں کی جگہ نفسانی خواہشات کو معیار بنایا گیا ہے۔ خاندان، محبت، وفا اور قربانی جیسے تصورات کمزور کر کے لذت پرستی اور مادیت کو اصل ہدف بنا دیا گیا ہے۔ ایسی دنیا میں انسان کا ضمیر پکار اٹھتا ہے کہ ایک ایسا مرکز ہونا چاہیے جو فطرت کو بیدار کرے، انسانیت کو اس کے اصلی مقام پر لوٹائے، اور وہ تہذیب قائم کرے جس میں اخلاق اور معنویت مادی لذت پر حاکم ہوں نہ کہ اس کے تابع۔ یہ علامت بھی امام کے وجود کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔
تعلیم و دانش کے میدان میں صورتحال یہ ہے کہ علم کو سچائی کی تلاش کے بجائے طاقت اور سرمایہ کے خادم بنا دیا گیا ہے۔ تحقیق اس بنیاد پر معتبر سمجھی جاتی ہے کہ کون اسے فنڈ کر رہا ہے اور کون سی طاقت اس کے پیچھے ہے۔ جو بات انسانیت کی اصل ضرورت ہو لیکن طاقتوروں کے مفاد کے خلاف ہو، اسے رد کر دیا جاتا ہے یا دبایا جاتا ہے۔ اس فضا میں یہ سوال کہ “حقیقت کیا ہے؟” محض ریفرنس یا empirical evidence تک محدود نہیں رہ سکتا بلکہ اس کے اثرات اور اخلاقی نتائج بھی معیار بنتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں امام وقت کی قیادت ایک روشن دلیل بن جاتی ہے، کیونکہ ان کا معیار طاقت یا سرمایہ نہیں بلکہ حقیقت اور عدل ہے۔
باطل کی پہچان بھی انہی میدانوں میں اپنی نشانیوں کے ذریعے ممکن ہے۔ سیاست میں اگر کوئی نظام جنگ، استبداد اور استحصال کو فروغ دے تو وہ باطل ہے، چاہے اسے جمہوریت یا آزادی کے خوبصورت نام دیے جائیں۔ معیشت میں اگر کوئی نظام چند لوگوں کو امیر سے امیر تر اور اکثریت کو فقیر سے فقیر تر کرے تو یہ باطل ہے، چاہے اسے ترقی کا ماڈل کہا جائے۔ تہذیب میں اگر کوئی رجحان انسان کو حیوانی خواہشات کا اسیر بنا کر اس کے ضمیر اور عقل کو سلب کر دے تو یہ باطل ہے، چاہے اسے modern culture کہا جائے۔ تعلیم میں اگر علم کو حق و باطل سے خالی کر کے صرف مادی طاقت کا ذریعہ بنایا جائے تو یہ بھی باطل کی علامت ہے، چاہے اسے ترقی یافتہ سائنس کہا جائے۔
پس اگر ہم آج امام حق کے وجود کے دستاویزی یا تاریخی شواہد کو ایک طرف رکھ کر صرف عقل اور ضمیر کی روشنی میں دیکھیں تو یہ حقیقت نمایاں ہو جاتی ہے کہ انسانیت ایک ایسی قیادت کی شدید ضرورت محسوس کرتی ہے جو عدل قائم کرے، ظلم کو ختم کرے، سرمایہ داری کے جبر سے نجات دے، اخلاقی اقدار کو زندہ کرے اور علم کو حقیقت کے خادم بنائے۔ یہی ضرورت اور یہی احتجاج بذات خود امام حق کے وجود کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ اس کے مقابل جو نظام یا قوت ظلم، ناانصافی، خواہش پرستی اور دھوکہ دہی کو فروغ دے وہی باطل ہے، چاہے کتنی ہی مضبوط اور دلکش کیوں نہ دکھائی دے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ امام وقت اور ان کے دشمن دونوں کی پہچان محض آثارِ قدیمہ یا empirical evidence پر منحصر نہیں بلکہ ان کی نشانیوں اور اثرات سے ہوتی ہے۔ امام کا وجود انسانیت کے فطری مطالبے اور عقل کے احتجاج سے ثابت ہوتا ہے اور دشمن کا وجود اس کے مخالف اثرات یعنی ظلم، فساد، استبداد اور نفسانیت سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ وہ کسوٹی ہے جس پر آج بھی حق و باطل کو پہچانا جا سکتا ہے، چاہے ان کے ظاہری اور مادی ثبوت موجود ہوں یا نہ ہوں۔
باطل کو پہچاننے کا اصول بھی وہی ہے جو حق کو پہچاننے کا ہے، یعنی نشانیوں اور علامات کے ذریعے۔ جیسے روشنی کو دیکھ کر اندھیرے کا پتا چلتا ہے، اسی طرح جب حق واضح ہو تو اس کے مخالف رخ پر باطل کھڑا نظر آتا ہے۔ مگر انسان کی بصیرت کا امتحان یہ ہے کہ وہ محض شخصیات یا وقتی نعروں سے دھوکا نہ کھائے بلکہ گہرائی میں جا کر دیکھے کہ کسی نظریے یا نظام کی بنیاد کس پر قائم ہے اور اس کے نتائج کیا نکلتے ہیں۔ باطل کی ایک بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ حقیقت کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے، اپنے وجود کو دلکش الفاظ اور خوبصورت پردوں میں چھپاتا ہے، لیکن اس کا نتیجہ ہمیشہ ظلم، نفاق، استحصال اور انسان کی فطرت سے بغاوت کی صورت میں نکلتا ہے۔ اگر کسی راستے پر چلنے سے انسان کے اندر سے انصاف، صداقت، امانت اور رحمت کی روح کمزور ہونے لگے تو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ باطل ہے۔ اسی طرح اگر کوئی فکر یا نظام طاقتوروں کے لیے آسانیاں اور کمزوروں کے لیے اذیت پیدا کرتا ہے تو یہ بھی باطل کی علامت ہے۔
باطل کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے وجود کو عارضی کامیابیوں اور ظاہری چمک دمک میں چھپا لیتا ہے۔ انسان جب صرف سطح پر دیکھتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ کامیاب راستہ ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس کا اندرونی زہر کھل کر سامنے آتا ہے۔ اس لیے باطل کو سمجھنے کا طریقہ یہ ہے کہ وقتی منافع سے آگے بڑھ کر طویل مدتی اثرات کا جائزہ لیا جائے۔ حق ہمیشہ انسان کو سکون، عدل اور تعمیر کی طرف لے جاتا ہے جبکہ باطل آخرکار بے سکونی، ظلم اور بربادی کا سبب بنتا ہے۔
انسان کے اندر بھی ایک فطری میزان رکھا گیا ہے۔ جب کوئی عمل یا نظریہ اس میزان کے خلاف جاتا ہے تو دل میں ایک بے چینی اور اضطراب پیدا ہوتا ہے۔ اگر انسان اپنے نفس کی خواہشات سے آزاد ہو کر اس احساس کو سننے لگے تو اسے فوراً اندازہ ہو جائے گا کہ یہ راستہ باطل ہے۔ گویا باطل کے نشانات باہر کی دنیا میں بھی موجود ہیں اور اندر کے ضمیر میں بھی۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح حق کو حق کی نشانیوں سے پہچانا جاتا ہے، اسی طرح باطل کو بھی اس کی علامات سے پہچانا جا سکتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ حق اپنی حقیقت میں روشنی ہے اور براہِ راست سکون و وضاحت عطا کرتا ہے، جبکہ باطل اندھیرا ہے جو حقیقت کو چھپاتا ہے اور انسان کو دھوکے میں رکھتا ہے۔ بصیرت رکھنے والا انسان ان نشانیوں کو پہچان کر خود کو باطل کے فریب سے بچا سکتا ہے اور اپنے قدموں کو حق کی روشنی کی طرف موڑ سکتا ہے۔
