38

معاشی عدالت میں مقدس حکومت کا کردار

  • نیوز کوڈ : 2251
  • 23 August 2025 - 14:55
معاشی عدالت میں مقدس حکومت کا کردار

معاشی عدالت میں مقدس حکومت کا کردار

 بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

 تحریر : سید جہانزیب عابدی

ایک حقیقی الٰہی یا دینی سیاسی نظام دراصل معیشت کو اس کے فطری اور عادلانہ راستے پر قائم کرنے کے لئے وجود میں آتا ہے۔ دنیا کے موجودہ نظاموں میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ سیاست اور معیشت کو انسان کے خود غرض مفاد اور طاقت کی ہوس کے تابع بنا دیا گیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ طاقتور کمزور پر مسلط ہو گیا، سرمائے نے انسانیت کو غلام بنا لیا اور قانون دولت مندوں کے مفاد کا محافظ بن کر رہ گیا۔ اس کے برعکس ایک الٰہی سیاسی نظام کی بنیاد اس عقیدے پر ہے کہ حاکمیت صرف خدا کی ہے اور انسانوں کو اسی کے اصولوں کے مطابق زمین پر عدل قائم کرنا ہے۔ یہی عقیدہ معیشت کو استحصال سے پاک کرتا ہے اور اسے خدمت، مساوات اور کرامتِ انسانی کا ذریعہ بناتا ہے۔

جب سیاسی نظام الٰہی اصولوں کے تحت قائم ہوتا ہے تو معیشت محض منڈی اور سرمائے کی منطق سے نہیں بلکہ اخلاق اور عدل کے ترازو سے چلتی ہے۔ ایسے نظام میں دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں نہیں ہونے دیا جاتا، کیونکہ یہ قرآن کی صریح تعلیم ہے کہ دولت محض مالداروں کے درمیان گردش نہ کرے۔ اس مقصد کے لئے زکوٰۃ اور خمس جیسے واجبات نافذ کئے جاتے ہیں جو سماج کے کمزور طبقے کو سہارا دیتے ہیں اور سرمایہ کو محدود طبقے کے قبضے سے نکال کر پورے معاشرے میں تقسیم کرتے ہیں۔ اسی طرح بیت المال کا ادارہ، جو ریاستی سطح پر قائم ہوتا ہے، اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ قومی وسائل عوامی فلاح کے لئے استعمال ہوں، نہ کہ حکمران اشرافیہ کی تجوریاں بھرنے کے لئے۔

الٰہی سیاسی نظام سود کو ختم کر دیتا ہے، کیونکہ سود وہ بنیاد ہے جس پر دنیا کی سب سے بڑی معاشی غلامی کھڑی ہے۔ سودی نظام انسان کو پیداوار سے کاٹ دیتا ہے اور اسے ہمیشہ قرض اور سود کے جال میں جکڑ دیتا ہے۔ جب سودی ڈھانچہ ختم ہوتا ہے تو معیشت حقیقی پیداوار، محنت اور شراکت پر استوار ہوتی ہے۔ تجارت اور صنعت میں نفع اور نقصان کا اصول برابر تقسیم ہوتا ہے اور کوئی بھی طبقہ دوسروں کو اپنا غلام نہیں بنا سکتا۔ یوں مالیاتی استحصال کی جڑ کاٹ دی جاتی ہے۔

الٰہی نظام بین الاقوامی تجارت میں بھی انصاف قائم کرتا ہے۔ آزاد تجارت کے نام پر طاقتور ممالک کمزوروں کی معیشتیں تباہ کرتے ہیں، مگر ایک دینی حکومت اس اصول پر قائم ہوتی ہے کہ کسی قوم پر ظلم نہ ہو اور کسی ملک کو اس کے وسائل سے محروم نہ کیا جائے۔ اس کے نزدیک معاہدہ صرف اسی وقت جائز ہے جب وہ باہمی رضامندی اور انصاف پر مبنی ہو۔ اسلام احتکار اور اجارہ داری کو ممنوع قرار دیتا ہے، کیونکہ یہ چیزیں قیمتوں اور منڈی کو بگاڑ کر عوام کا استحصال کرتی ہیں۔

اس نظام میں کھپت کو بھی ایک اخلاقی دائرے میں رکھا جاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ معیشت انسان کو غیر ضروری خواہشات کا غلام بناتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ اشیاء بیچی جا سکیں۔ لیکن ایک دینی سیاسی نظام انسان کو قناعت، میانہ روی اور سماجی ذمہ داری کی تعلیم دیتا ہے۔ اس کا مقصد یہ نہیں کہ انسان اپنی ضروریات پوری نہ کرے، بلکہ یہ ہے کہ اس کی خواہشات اس قدر بے لگام نہ ہو جائیں کہ معاشرہ دولت کے جنون میں ایک دوسرے کا استحصال کرنے لگے۔

اصل میں ایک الٰہی سیاسی نظام معیشت کو عبادت اور امانت کے درجے پر لے آتا ہے۔ دولت صرف کمانے کا نہیں بلکہ بانٹنے اور خیر رسانی کا وسیلہ ہے۔ زمین کے وسائل اللہ کی نعمت ہیں اور ان پر ہر انسان کا حق ہے، لہٰذا کسی فرد یا قوم کو ان وسائل پر ناجائز قبضہ نہیں دیا جا سکتا۔ یہی وہ تصور ہے جو عالمی استحصال کے خلاف ایک مضبوط دیوار بنتا ہے۔ جب سیاست اور معیشت دونوں خدا کے اصولوں پر قائم ہوں تو نہ سود رہتا ہے، نہ اجارہ داری، نہ طبقاتی نابرابری اور نہ ہی کمزور قوموں پر طاقتوروں کی بالادستی۔

یوں ایک الٰہی سیاسی نظام معیشت کو انسان کے فطری راستے پر واپس لے آتا ہے۔ یہ نظام انسان کو غلامی سے نکال کر عزت دیتا ہے، استحصال سے بچا کر عدل عطا کرتا ہے اور طاقت کے بجائے حق کو معیار بنا کر دنیا کو امن اور انصاف کی بنیاد پر جوڑتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے بغیر دنیا کبھی بھی غیر استحصالی معیشت کا مزہ نہیں چکھ سکتی۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2251

ٹیگز

تبصرے