بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
اسلامی تعلیمات میں نکاح کا نظام محض ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ انسانی فطرت، معاشرتی توازن اور روحانی کمال کو سامنے رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے۔ اس تناظر میں مرد کو ایک سے زیادہ شادیوں کی مشروط اجازت جبکہ عورت کو صرف ایک مرد تک محدود رکھا گیا ہے۔ یہ فرق کسی امتیاز یا ناانصافی پر مبنی نہیں بلکہ دونوں کی الگ الگ ازدواجی نفسیات، حیاتیاتی حقیقتوں اور سماجی ذمہ داریوں کو ملحوظ رکھ کر طے کیا گیا ہے۔
مرد کی ازدواجی نفسیات میں ایک نمایاں پہلو جنسی تنوع اور کشش کا عنصر ہے۔ مرد کے اندر یہ طبعی رجحان زیادہ شدید ہوتا ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں مختلف عورتوں کی طرف مائل ہو سکتا ہے۔ اسی فطری جھکاؤ کو اگر بے لگام چھوڑ دیا جائے تو مرد زنا، بے راہ روی اور معاشرتی بگاڑ میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ اسلام نے اس جذبے کو دبانے یا نظرانداز کرنے کے بجائے اسے ایک منظم، اخلاقی اور ذمہ دار دائرے میں داخل کیا اور مرد کو اجازت دی کہ وہ ایک سے زیادہ بیویاں رکھ سکتا ہے، بشرطیکہ عدل قائم رکھے اور ہر ایک کے حقوق ادا کرے۔ یہ اجازت مرد کے حیاتیاتی اور نفسیاتی تقاضے کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ عورتوں کی معاشرتی مشکلات کا حل بھی ہے، مثلاً بیوہ یا مطلقہ عورتوں کی کثرت یا جنگوں کے بعد خواتین کی تعداد میں اضافہ۔
عورت کی ازدواجی نفسیات بنیادی طور پر مرد سے مختلف ہے۔ عورت ایک وقت میں ایک ہی مرد کے ساتھ جذباتی اور جنسی وابستگی قائم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اسی میں اسے سکون ملتا ہے۔ عورت کی طبیعت میں تنوع پسندی وہ شدت نہیں رکھتی جو مرد میں ہے۔ مزید یہ کہ عورت کی تولیدی اور حیاتیاتی ساخت بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ بیک وقت کئی مردوں سے ازدواجی تعلق رکھے۔ اگر عورت کو یہ آزادی دی جائے کہ وہ ایک سے زیادہ مردوں سے نکاح کرے تو نسب اور وراثت کا تعین ناممکن ہو جائے گا، کیونکہ اولاد کا باپ کون ہے یہ ثابت نہ ہو سکے گا۔ اسلام نسب کی حفاظت کو خاندان اور معاشرت کے استحکام کے لیے بنیادی شرط قرار دیتا ہے، لہٰذا عورت کو ایک ہی شوہر کے ساتھ مخصوص رکھا گیا ہے تاکہ خاندان میں اطمینان، بچے کے حقوق اور وراثت کے نظام میں شفافیت قائم رہے۔
مزید برآں، عورت کی جذباتی دنیا بھی مرد سے مختلف ہے۔ وہ تعلق میں گہرائی، وفاداری اور مستقل مزاجی کو زیادہ پسند کرتی ہے۔ اگر عورت کو متعدد شوہروں کا حق دیا جاتا تو اس کی اپنی نفسیاتی ساخت اور جذباتی سکون بھی بکھر جاتا، کیونکہ عورت کے لیے اپنے آپ کو کئی تعلقات میں بیک وقت بانٹنا ممکن نہیں۔ اس کے برعکس مرد اپنے حیاتیاتی و نفسیاتی پہلوؤں کی وجہ سے کئی ازدواجی رشتوں کو نبھا سکتا ہے، بشرطیکہ وہ عدل کا معیار قائم رکھے۔
یوں اسلام کا نظام ازدواج مرد و عورت کی فطری اور نفسیاتی ساخت کا احترام کرتا ہے۔ مرد کو ملنے والی اجازت اس کی ذمہ داریوں اور عدل کی شرط کے ساتھ ہے، اور عورت کو ایک شوہر تک محدود کرنا اس کے تحفظ، نسب کی حفاظت اور اس کے نفسیاتی سکون کا تقاضا ہے۔ یہ تقسیم عورت کے خلاف کوئی امتیاز نہیں بلکہ اس کے احترام اور معاشرتی استحکام کا ضامن ہے۔
یہ سوال کہ اسلام نے مرد کو ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت کیوں دی اور عورت کو کیوں نہیں، دراصل مغربی فکر اور استعماری و صہیونی بیانیے کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ اعتراض خود اپنی بنیاد میں اسلامی شریعت کے اصولوں کو جانچنے یا حقیقت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ ایک مخصوص تہذیبی جنگ اور فکری ایجنڈے کے ماتحت سامنے لایا جاتا ہے۔ اسلام کے کسی بھی حکم پر اعتراض ہو، وہ لباس کے بارے میں ہو یا معیشت کے بارے میں، عورت و مرد کے حقوق کے بارے میں ہو یا جہاد و ولایت کے بارے میں، پسِ پردہ ہمیشہ وہی طاقتیں ہیں جو یہ چاہتی ہیں کہ مسلمان اپنی اصل شناخت سے کٹ جائیں اور مغربی تہذیب کے سانچے میں ڈھل جائیں۔
استعماری طاقتوں اور صہیونی مفکرین کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ اسلام کا خاندانی نظام ہے۔ یہ نظام ہی اصل میں اسلامی تہذیب کی بنیاد ہے اور عورت و مرد کے تعلقات کو فطری، پاکیزہ اور ذمہ داریوں پر مبنی رکھتا ہے۔ اگر اس نظام کو توڑ دیا جائے تو مسلم سماج اخلاقی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گا اور ان طاقتوں کے لیے اپنی ثقافتی و فکری یلغار مسلط کرنا آسان ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ “ایک مرد ایک عورت” کے مغربی ماڈل کو آفاقی اور ابدی بنا کر پیش کرتے ہیں اور اس کے خلاف کوئی سوال نہیں اٹھاتے، حالانکہ خود مغربی معاشروں میں اس کے ساتھ ساتھ ناجائز تعلقات، فحاشی، ہم جنس پرستی اور فیملی بریک ڈاؤن سب سے زیادہ ہیں۔ لیکن جب اسلام کے نظام پر بات آتی ہے تو مرد کی تعدد ازدواج کو نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ اسلام کو ایک غیر منصفانہ اور عورت دشمن مذہب کے طور پر پیش کیا جائے۔
ان کے مفادات کئی جہات سے وابستہ ہیں۔ سب سے پہلے وہ یہ چاہتے ہیں کہ مسلم عورت اپنی عفت و عصمت کو ایک بوجھ سمجھے اور “آزادی” کے نام پر وہی کردار ادا کرے جو مغربی عورت آج ادا کر رہی ہے، یعنی جنسی آزادی کو اپنی نجات سمجھے۔ اگر مسلم عورت اسلام کے نظام ازدواج کو ظالمانہ سمجھے گی تو وہ خود اس نظام سے بغاوت کرے گی، جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ خاندان کی بنیاد کمزور ہو گی، نکاح کی جگہ آزاد تعلقات کو ترجیح دی جائے گی، اور مغربی کلچر اپنی جڑیں گاڑ لے گا۔
دوسرے یہ کہ یہ سوال دراصل “عدل” اور “حقوق” کے مغربی فریم ورک کے تحت پوچھا جاتا ہے، جبکہ اسلام عدل کو فطرت اور ذمہ داری کے ساتھ جوڑتا ہے۔ صہیونی اور استعماری ذہنیت یہ نہیں چاہتی کہ مسلمان اپنے عدل کے معیار کو قرآن اور سنت سے اخذ کریں بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان عدل کو انہی عالمی این جی اوز، مغربی لبرل فلاسفہ اور سیکولر انسانی حقوق کے چارٹر سے سمجھیں۔ یوں وہ مسلم معاشروں کے قانون سازی کے دروازے کھول کر انہیں عالمی اداروں کے زیرِ اثر کر دینا چاہتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ صہیونی طاقتیں ہمیشہ مسلم آبادی کے بڑھنے سے خائف رہی ہیں۔ مرد کو ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت دراصل مسلم معاشروں میں آبادی کے قدرتی اور تیز رفتار پھیلاؤ کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اگر یہ نظام باقی رہے تو مسلمانوں کی تعداد اور ان کا جغرافیائی دائرہ بڑھتا رہے گا، جو مغربی اور صہیونی منصوبوں کے خلاف ہے۔ اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ عورت کو بھی بیک وقت کئی مردوں کے ساتھ شادی کی آزادی دے کر خاندان کے تصور کو ہی ختم کر دیا جائے تاکہ نسل اور نسب کی حفاظت کا کوئی امکان نہ رہے، اور یوں آبادی کا نظم درہم برہم ہو جائے۔
ایسے اعتراضات محض علمی نہیں بلکہ نفسیاتی اور پروپیگنڈا کی جنگ کا حصہ ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان نوجوان اپنے دین کو شک کی نگاہ سے دیکھیں، اپنی شریعت کو پرانی اور دقیانوسی سمجھیں، اور مغربی ماڈلز کی طرف مائل ہوں۔ یوں نہ صرف فکری غلامی قائم ہو گی بلکہ سیاسی و معاشی غلامی بھی آسانی سے مسلط کی جا سکے گی۔
یوں جب استعماری اور صہیونی حلقے اسلام کے ازدواجی قوانین کو نشانہ بناتے ہیں تو وہ بظاہر عورت کے حقوق کی بات کرتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ مسلمانوں کے خاندانی نظام کو توڑنے، ان کے آبادیاتی اور اخلاقی توازن کو برباد کرنے اور ان کے ذہنوں کو مغربی معیار پر ڈھالنے کے لیے یہ سب کچھ کرتے ہیں۔ اسلام کے خلاف یہ محاذ اسی بڑی تہذیبی جنگ کا حصہ ہے جس میں مسلمانوں کی اصل طاقت، یعنی ایمان اور خاندان، کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ایسے سوالات اور اسلام کے ازدواجی قوانین پر اعتراضات صرف “فکری” یا “ثقافتی” جنگ کا حصہ نہیں بلکہ ان کے ساتھ بہت بڑے اقتصادی، سماجی اور سیاسی منافع بھی جڑے ہوئے ہیں۔ اگر ہم استعماری و صہیونی منصوبوں کو غور سے دیکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ وہ صرف “عورت کے حقوق” یا “انسانی مساوات” کی بات نہیں کر رہے ہوتے، بلکہ ان کے پسِ پردہ براہِ راست منافع اور طاقت کے کھیل چھپے ہوتے ہیں۔
سب سے پہلے آبادی اور افرادی قوت کا پہلو دیکھیں۔ مغربی و صہیونی طاقتیں جانتی ہیں کہ مسلمان دنیا کی سب سے تیز رفتاری سے بڑھتی ہوئی آبادی رکھتے ہیں۔ ایک سے زیادہ شادیوں کی اسلامی اجازت سے یہ شرحِ افزائش اور بڑھ سکتی ہے۔ زیادہ آبادی کا مطلب زیادہ نوجوان، زیادہ محنت کش، اور زیادہ عسکری طاقت ہے۔ یہ بات صہیونی اور استعماری منصوبوں کے لیے ایک خطرہ ہے، کیونکہ ان کی اپنی آبادی کم ہوتی جا رہی ہے اور وہ “ڈی پاپولیشن” کے ایجنڈے پر چل رہے ہیں۔ اگر مسلم دنیا اپنے خاندانی نظام پر قائم رہی تو مغرب کی اقتصادی اور عسکری برتری ختم ہو سکتی ہے۔ اس لیے وہ عورت کو “ایک سے زیادہ مرد” کی آزادی دینے کی بات کر کے نسل و نسب کے نظام کو برباد کرنا چاہتے ہیں تاکہ آبادی کی رفتار کو روکا جا سکے۔
معاشی منافع کا دوسرا پہلو کنزیومر ازم اور سرمایہ دارانہ معیشت ہے۔ جب خاندان ٹوٹتے ہیں اور عورت مرد سے الگ ہو کر “انفرادی آزادی” کے ماڈل پر زندگی گزارتی ہے تو سرمایہ دار کمپنیوں کو براہِ راست فائدہ ہوتا ہے۔ ایک مستحکم خاندان میں ایک گھر، ایک کچن اور مشترکہ وسائل ہوتے ہیں۔ لیکن جب خاندان بکھرتے ہیں تو ہر شخص کو الگ مکان، الگ گاڑی، الگ سامان، الگ خرچ درکار ہوتا ہے۔ یوں مارکیٹ پھیلتی ہے اور کارپوریٹ سیکٹر کے منافع بڑھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں “فیملی یونٹ” کے بجائے “سنگل انڈیویجول” کلچر کو پروموٹ کیا جا رہا ہے، اور یہی کلچر مسلمانوں پر مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ایک اور پہلو عورت کے استحصال سے جڑا ہے۔ جب عورت کو “آزاد” کر کے گھر اور خاندان سے الگ کر دیا جاتا ہے تو وہ بڑی عالمی کمپنیوں کے لیے ایک “ورک فورس” بن جاتی ہے۔ سستی مزدوری، مارکیٹ کا پھیلاؤ، اور جنسی تفریح کی صنعت — یہ سب مغربی سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادیں ہیں۔ عورت کی عصمت اور ازدواجی تقدس کو ختم کرنا دراصل سرمایہ دارانہ معیشت کو ایندھن فراہم کرنا ہے۔ اگر مسلم عورت اسلام کے خاندانی نظام کے اندر محفوظ رہے تو وہ ان استعماری منصوبوں کے لیے دستیاب نہیں رہتی۔
پھر یہ بات بھی اہم ہے کہ نکاح اور وراثت کے اسلامی قوانین براہِ راست سرمایہ دارانہ سودی معیشت کے خلاف ہیں۔ تعدد ازدواج کے ذریعے زیادہ بچے، زیادہ ورثاء، اور زیادہ خاندان بنتے ہیں، جس سے دولت ایک محدود طبقے کے ہاتھ میں جمع ہونے کے بجائے پھیلتی ہے۔ صہیونی سرمایہ داری یہ چاہتی ہے کہ دولت مخصوص کارپوریٹ ایلیٹ کے پاس رہے۔ اس لیے وہ اسلامی ازدواجی اور وراثتی نظام کو نشانہ بناتے ہیں تاکہ وہ معیشت کو کنٹرول کر سکیں۔
یوں یہ سوال کہ مرد کو ایک سے زیادہ شادی کی اجازت کیوں ہے، محض ایک “حقوقِ نسواں” یا “مساوات” کا مسئلہ نہیں، بلکہ دراصل مسلمانوں کے خاندانی، آبادیاتی، معاشی اور اخلاقی ڈھانچے کو توڑنے کی عالمی سازش کا حصہ ہے۔ استعماری و صہیونی مفادات اس میں براہِ راست جڑے ہیں، کیونکہ اگر خاندان ٹوٹے گا تو مارکیٹ بڑھے گی، عورت استحصال کے لیے دستیاب ہو گی، آبادی کمزور ہو گی، اور مسلمان تہذیبی، عسکری اور اقتصادی طاقت کھو دیں گے۔
