40

شہادتِ رحمتِ عالم ﷺ اور سبطِ رسولؑ کے ایام — امتِ مسلمہ کے لیے بیداری کا لمحہ

  • نیوز کوڈ : 2248
  • 22 August 2025 - 1:14
شہادتِ رحمتِ عالم ﷺ اور سبطِ رسولؑ کے ایام — امتِ مسلمہ کے لیے بیداری کا لمحہ

شہادتِ رحمتِ عالم ﷺ اور سبطِ رسولؑ کے ایام — امتِ مسلمہ کے لیے بیداری کا لمحہ

 تحریر : مولانا سید عمار حیدر زیدی قم

رحمتِ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ، جنہیں اللہ نے “وما ارسلناک الا رحمة للعالمین” کا تاج عطا کیا، وہ صرف عرب کے نہیں، صرف مسلمانوں کے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے رحمت تھے۔ ان کی زندگی کا ہر پہلو محبت، عدل، صبر اور انسانیت کے تحفظ سے عبارت ہے۔ آپ نے ان یتیموں کو سہارا دیا جن کے پاس کوئی نہ تھا، غلاموں کو آزادی بخشی جنہیں انسان سمجھا ہی نہ جاتا تھا، اور دشمنوں کے لیے بھی دعا کی کہ وہ ہدایت کی روشنی پائیں۔

مگر صد افسوس! آج وہی امت جو نبیِ رحمت کے ماننے کا دعویٰ کرتی ہے، ان کے پیغامِ رحمت سے سب سے زیادہ دور ہے۔ نام نہاد مسلمان حکمرانوں کے دلوں میں نہ عالمی انسانیت کا درد باقی رہا ہے اور نہ ہی اپنے ہی مظلوم فلسطینی بھائیوں کے لیے تڑپ۔ غزہ کے معصوم بچے، جن کی چیخیں آسمان تک جا پہنچی ہیں، امتِ مسلمہ کی غیرت کو آواز دے رہے ہیں، مگر یہ امت خاموش ہے۔ یہ وہی امت ہے جس کا رسول ﷺ ہر آنسو پوچھتا تھا، ہر زخمی پر مرہم رکھتا تھا، اور آج انہی کے ماننے والے بے حسی اور بے عملی کا مجسمہ بن گئے ہیں۔

ان ایام میں ہم سبطِ رسول، امام حسن علیہ السلام کی شہادت کو بھی یاد کرتے ہیں، وہ امام جنہوں نے امت کی بقاء اور خونریزی کے خاتمے کے لیے صلح کا فیصلہ کیا، مگر امت نے ان کی صلح کو کمزوری سمجھا اور ان کے زہرآلود جام کی خبر سن کر بھی خواب غفلت سے نہ جاگی۔ امام حسنؑ نے اپنی زندگی کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ امت کی عزت، اتحاد اور بیداری سب سے بڑھ کر ہے، مگر آج امت کی عزت خاک میں ہے، اتحاد پارہ پارہ ہے اور بیداری کہیں نظر نہیں آتی۔

غزہ کے اجڑے ہوئے گھر، خون میں نہائے معصوم لاشے اور فلسطینی ماؤں کی سسکیاں اس بات کا اعلان کر رہی ہیں کہ امتِ محمدی ﷺ اپنی اصل تعلیمات کو فراموش کر چکی ہے۔ اگر واقعی ہم رسول اللہ ﷺ اور امام حسنؑ کے ماننے والے ہیں تو پھر لازم ہے کہ ہم بیدار ہوں، ظلم کے مقابلے میں آواز بلند کریں اور اپنی بے حسی کی زنجیریں توڑ کر عملی اقدام کریں۔ ورنہ تاریخ ہمیں بھی ان غافل امتوں کی صف میں لکھ دے گی جنہوں نے اپنے رسول کے پیغام کو بھلا دیا تھا۔

 یہ ایام ہمیں صرف رونے کے لیے نہیں بلکہ جھنجوڑنے کے لیے آتے ہیں، تاکہ ہم رسولِ رحمت ﷺ اور امام حسنؑ کے حقیقی پیغام کی طرف پلٹ سکیں — عدل، اتحاد، بیداری اور مظلوم کی نصرت۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2248

ٹیگز

تبصرے