38

سہولتوں کا جال اور سختیوں کا دام

  • نیوز کوڈ : 2234
  • 21 August 2025 - 0:21
سہولتوں کا جال اور سختیوں کا دام

سہولتوں کا جال اور سختیوں کا دام

 بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

 تحریر : سید جہانزیب عابدی

استعماری طاقتوں نے کبھی یہ حربہ آزمایا ہے کہ قوموں کو براہِ راست جنگ یا عسکری دباؤ سے ختم کرنے کے بجائے انہیں سہولتوں، آسائشوں اور لذتوں میں ڈبو دیا جائے تاکہ ان کے اندر سے مقصدیت، غیرت اور اجتماعی شعور ختم ہو جائے۔ مشرقی اقوام کو جب لوٹا اور غلام بنایا گیا تو صرف زمین اور وسائل ہی نہیں چھینے گئے بلکہ ان کی روحانی توانائی، فکری خودمختاری اور جدوجہد کا حوصلہ بھی چھینا گیا۔ مغرب نے اپنی سامراجی سیاست کے تحت ایسے سماجی ڈھانچے تشکیل دیے جن میں فرد کی تمام تر توجہ ذاتی خواہشات، آسائشوں اور وقتی لذتوں پر مرکوز ہو جائے، اور اجتماعی ذمہ داری یا کسی اعلیٰ مقصد کے لیے قربانی دینے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جدید سرمایہ دارانہ تہذیب نے ایک ایسی طرزِ زندگی تراشی ہے جس میں انسان مسلسل استعمال کرتا ہے، کھاتا ہے، دیکھتا ہے، عیش کرتا ہے، لیکن سوال کرنے، لڑنے یا مقصد کے لیے کھڑے ہونے کی صلاحیت سے محروم ہوتا چلا جاتا ہے۔

یہی وہ گہری سازش ہے جس کے نتیجے میں مغرب کی نسلیں اگرچہ مادی اعتبار سے آسودہ اور محفوظ ہیں مگر اندر سے شدید بحران کا شکار ہیں۔ خاندانی نظام ٹوٹ چکا ہے، تنہائی عام ہے، ذہنی امراض اور خودکشی کی شرحیں بڑھتی جا رہی ہیں، اور نئی نسل کسی اجتماعی نصب العین کے بجائے محض تفریح اور لذتوں کو زندگی کا مقصد سمجھنے لگی ہے۔ استعماری مراکز اس صورتحال کو اپنی بقا کے لیے مفید سمجھتے ہیں، کیونکہ ایک بے مقصد اور لاابالی معاشرہ نہ تو بغاوت کر سکتا ہے اور نہ ہی کسی بڑی تبدیلی کی قوت رکھتا ہے۔ اسی حکمتِ عملی کو مشرق میں بھی منتقل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، کبھی تعلیم کے نصاب میں روحانیت اور اخلاقی اقدار کو ہٹا کر، کبھی میڈیا کے ذریعے سطحی لذتوں اور غیر ذمہ دارانہ آزادی کو عام کر کے، اور کبھی نوجوانوں کو ایسی مصنوعی خواہشات میں الجھا کر کہ وہ اپنی اصل جدوجہد کو بھول جائیں۔

یوں دکھنے میں یہ سہولتوں اور آزادیوں کا سیلاب ہے لیکن حقیقت میں یہ معاشرتی موت ہے۔ کیونکہ جب مقصدیت ختم ہو جائے تو آسائش خود زہر بن جاتی ہے۔ استعماری قوتیں جانتی ہیں کہ کبھی کسی قوم کو ختم کرنے کے لیے اس کے وسائل چھیننے سے زیادہ خطرناک حربہ یہ ہے کہ اس کے افراد کو اس حد تک سہولت پسند اور نفس پرست بنا دیا جائے کہ وہ اپنی بقا اور آزادی کے لیے قربانی دینے کی سکت ہی کھو بیٹھیں۔ یہی وہ انجام ہے جس کی جھلک مغرب میں آج شدت سے دیکھی جا سکتی ہے اور جسے مشرق میں دہرانے کی پوری منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔

استعماری طاقتیں صرف سہولتوں اور آسائشوں کے جال سے ہی قوموں کو نہیں باندھتیں بلکہ ان کا دوسرا بڑا حربہ سختیاں اور مشکلات پھیلانا بھی ہوتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب کسی قوم کو براہِ راست غلام بنانا یا ان پر فوجی قبضہ کرنا مقصد ہو تو سامراج پہلے ان کے لیے معیشت، سیاست اور سماج کو ایسا بنا دیتا ہے کہ عام آدمی ہر طرف سے دباؤ اور تنگی محسوس کرے۔ مہنگائی، بے روزگاری، بنیادی ضروریات کی قلت، جنگی حالات، داخلی بدامنی اور غیر یقینی فضا دراصل اس حکمتِ عملی کے ہتھیار ہیں۔ اس طرح انسانوں کے اعصاب پر ایسا دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ اجتماعی سوچ اور مقصدیت کو بھول کر صرف اپنی روزمرہ کی بقا اور شکم کی فکر میں لگ جائیں۔ اس عمل میں جب فرد مسلسل محرومی اور تنگی کا سامنا کرتا ہے تو وہ یا تو حوصلہ ہار کر استعمار کے سامنے جھک جاتا ہے یا پھر وہ ردِ عمل کے طور پر ایسے غیر متوازن فیصلے کرتا ہے جو خود اس کی بربادی کا سبب بنتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ استعماری طاقتیں دو متضاد مگر دراصل ایک ہی مقصد کی طرف لے جانے والے راستے استعمال کرتی ہیں۔ کبھی وہ قوموں کو سہولتوں اور لذتوں میں ڈبو دیتی ہیں تاکہ وہ مقصدیت کھو بیٹھیں، اور کبھی انہیں سختیوں اور مصائب میں ڈال کر ان کی اجتماعی مزاحمت کو توڑ دیتی ہیں۔ ان دونوں صورتوں کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قوم اپنی اصل آزادی اور خودمختاری کے راستے سے ہٹ جاتی ہے۔

اب اگر ہم یہ دیکھیں کہ کون لوگ آسائشوں سے گمراہ ہوتے ہیں تو یہ وہ نفوس ہیں جو اندر سے کمزور، سہولت پسند اور خواہشات کے غلام ہوتے ہیں۔ یہ لوگ وقتی راحت کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں اور قربانی و جدوجہد کو بوجھ مانتے ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جو ذرا سی دولت، عیش و آرام یا آزادی کے نام پر ہر اصول بھلا دیتا ہے اور اپنے اجتماعی مقصد کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔ دوسری طرف وہ لوگ جو سختیوں سے گمراہ ہوتے ہیں، ان کی نفسیات مختلف ہوتی ہے۔ یہ وہ افراد ہیں جن میں صبر اور بصیرت کی کمی ہوتی ہے، جو دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ جب انہیں بھوک، محرومی، غربت یا سیاسی و سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو یہ یا تو مکمل طور پر استعمار کے آگے جھک جاتے ہیں تاکہ وقتی ریلیف مل سکے، یا پھر زہنی تناو، انتہا پسندی اور جلدبازی میں ایسے اقدامات کرتے ہیں جو ان کے اپنے حق میں نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔

اس کے برعکس وہ افراد جو نہ سہولتوں سے بہکاتے ہیں اور نہ سختیوں سے دباؤ میں آتے ہیں، وہی اصل میں معاشرتی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوتے ہیں۔ ان کے اندر مقصدیت، صبر، بصیرت اور قربانی کا حوصلہ موجود ہوتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دنیاوی نعمتیں محض امتحان ہیں اور سختیاں بھی ایک آزمائش ہیں، لہٰذا وہ نہ آسائش کو مقصد بناتے ہیں اور نہ ہی سختی سے گھبرا کر اپنے اصول بیچتے ہیں۔ یہی وہ افراد ہیں جو کسی قوم کو زندہ رکھتے ہیں اور استعمار کی ان دونوں دوہری حکمتِ عملیوں کو ناکام بناتے ہیں۔

یوں معلوم ہوتا ہے کہ سامراج کے یہ دونوں حربے بظاہر مختلف ہیں مگر حقیقت میں ایک ہی سمت میں لے جاتے ہیں یعنی کسی قوم کو اس کی روح، اس کی مقصدیت اور اس کے اجتماعی شعور سے محروم کر دینا۔ ایک طرف سہولتیں انسان کو غافل بنا دیتی ہیں تو دوسری طرف سختیاں اسے توڑ دیتی ہیں، اور اگر کوئی قوم دونوں امتحانات میں ہوش و بصیرت کے ساتھ کھڑی رہے تو استعمار کے تمام منصوبے باطل ہو جاتے ہیں۔

استعمار کی حکمتِ عملی ہمیشہ دو دھاری تلوار کی طرح رہی ہے۔ ایک طرف جب وہ سہولتوں اور لذتوں کے بہاؤ سے قوموں کو بے مقصد اور لاابالی بنا کر اپنی غلامی میں جکڑ لیتا ہے، تو دوسری طرف وہ سختیوں اور دباؤ سے بھی اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے۔ سہولتوں کے ذریعے وہ قوموں کے حوصلے اور غیرت کو مٹا دیتا ہے، جبکہ سختیوں کے ذریعے وہ انہیں خوف، عدمِ تحفظ اور محرومی کے احساس میں جکڑ لیتا ہے تاکہ وہ ہر وقت کمزور اور مجبور رہیں اور اپنے حقوق کے لیے کھڑے نہ ہو سکیں۔ جب کسی قوم پر معاشی پابندیاں لگتی ہیں، ان کے وسائل پر قبضہ کیا جاتا ہے، یا انہیں جنگ اور عدم استحکام میں مبتلا کیا جاتا ہے تو اس کے دو مقاصد ہوتے ہیں: ایک یہ کہ ان قوموں کے اندر مزاحمت کرنے کی ہمت ٹوٹ جائے اور وہ کسی بڑی طاقت کی غلامی کو قبول کرنے پر آمادہ ہو جائیں، دوسرا یہ کہ ان کے نوجوانوں کے اندر بے بسی اور ناکامی کا ایسا شدید احساس پیدا ہو کہ وہ اپنی زندگی کو بوجھ سمجھنے لگیں اور اپنی توانائی کو مثبت جدوجہد کے بجائے بے معنی راہوں میں کھو دیں۔

جو لوگ آسائشوں کے فریب میں گمراہ ہوتے ہیں وہ عام طور پر ایسے ہوتے ہیں جن کی طبیعت میں سہولت پسندی، آرام طلبی اور خواہشات کے پیچھے بھاگنے کی عادت راسخ ہو چکی ہو۔ وہ لمحاتی لذت کو ہی کامیابی سمجھتے ہیں اور اپنے نفس کی تسکین کو مقصدِ زندگی بنا لیتے ہیں۔ ایسے افراد کو جب آسانیاں، آزادی اور ظاہری ترقی ملتی ہے تو وہ یہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کرتے کہ یہ سب کچھ کن قیمتوں پر حاصل ہو رہا ہے۔ وہ اپنی ذاتی زندگی کی آسائش میں اس قدر محو ہوتے ہیں کہ اجتماعی نصب العین اور قربانی کی ضرورت ان کے لیے بے معنی ہو جاتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں استعمار آسانی سے اپنے جال میں پھانس لیتا ہے کیونکہ ان کے اندر بیداری اور مزاحمت کی آگ بھڑکانے والی کوئی روحانی یا اخلاقی بنیاد باقی نہیں رہتی۔

دوسری طرف جو لوگ سختیوں سے گمراہ ہوتے ہیں ان کی نفسیات میں یہ پہلو غالب ہوتا ہے کہ وہ زندگی کو محض مادی کامیابیوں اور سہولتوں کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ جب انہیں محرومی، غربت، جنگ یا پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ مزاحمت اور جدوجہد کو اختیار کرنے کے بجائے مایوسی اور شکستہ دلی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کچھ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی محرومیوں کے نتیجے میں دشمن کے مقابلے پر ڈٹنے کے بجائے اسی کے دروازے پر جھک جاتے ہیں تاکہ کچھ سہولتیں واپس پا سکیں۔ ان کے لیے عزت، آزادی اور نصب العین ثانوی چیزیں بن جاتی ہیں، اصل ترجیح ذاتی راحت اور وقتی نجات رہ جاتی ہے۔ استعمار ان لوگوں کے اندر یہ احساس راسخ کرتا ہے کہ تم اپنی محرومی سے نکل ہی نہیں سکتے جب تک ہماری سرپرستی قبول نہ کرو۔ یوں یہ سختیاں ان کے اندر غلامی کے لیے آمادگی پیدا کر دیتی ہیں۔

اس کے برعکس وہ افراد جو نہ سہولتوں کے فریب میں آتے ہیں اور نہ سختیوں کے دباؤ میں بکھرتے ہیں، وہی حقیقی معنوں میں صاحبانِ بصیرت اور عزم والے لوگ ہوتے ہیں۔ یہ وہی گروہ ہے جو قرآن نے ’’مستضعفین‘‘ کے بجائے ’’مجاہدین‘‘ اور ’’صابرین‘‘ کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ یہ افراد سمجھتے ہیں کہ سہولت بھی آزمائش ہے اور سختی بھی امتحان ہے۔ جو انسان اپنی خواہشات کے بہاؤ میں خود کو گم نہ کر بیٹھے اور محرومی کے دباؤ میں اپنی عزت و مقصدیت کو نہ چھوڑ دے، وہی استعمار کے تمام حربوں کو ناکام بنانے والا ہوتا ہے۔ استعمار کی اصل شکست اسی وقت ممکن ہے جب ایک امت یہ شعور پالے کہ سہولت بھی جال ہے اور سختی بھی دام، اور حقیقی آزادی صرف ان دونوں کے فریب سے نکل کر ایک بڑے مقصد کے ساتھ جینے میں ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2234

ٹیگز

تبصرے