32

ثقیفہ سے بنی عباس تک: یہودی سازشیں

  • نیوز کوڈ : 2238
  • 21 August 2025 - 18:48
ثقیفہ سے بنی عباس تک: یہودی سازشیں

ثقیفہ سے بنی عباس تک: یہودی سازشیں

 بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم اللھم عجل لولیک الفرج

 تحریر : سید جہانزیب عابدی

ثقیفہ بنی ساعدہ کا واقعہ دراصل اسلام کی تاریخ کا وہ نازک موڑ ہے جہاں رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ  کی رحلت کے فوراً بعد امت کی قیادت کا مسئلہ سامنے آیا۔ قرآن و سنت کی روشنی میں اور رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ  کی بارہا تصریحات کے مطابق قیادت کا حق اہل بیت علیہم السلام اور خصوصاً امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالبؑ کو حاصل تھا، لیکن سازشوں اور مفادات کی کشمکش نے صورتِ حال کو بدل دیا۔ اس موقع پر یہ سوال اہم ہے کہ یہودی سازشی عناصر نے کس طرح اس قضیے کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا اور خلفائے ثلاثہ کے قیام میں ان کا کیا کردار رہا۔

یہ بات تاریخی طور پر ثابت ہے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ  کی حیاتِ مبارکہ میں یہودی گروہ بارہا اپنی دشمنی اور فتنہ انگیزی کا اظہار کرتے رہے تھے۔ ان کا اصل ہدف یہ تھا کہ اسلام کے اس تیز رفتار پھیلاؤ کو روکا جائے جس نے نہ صرف ان کی معاشی و اقتصادی اجارہ داری کو توڑ دیا تھا بلکہ ان کے مذہبی اور سیاسی اثر و رسوخ کو بھی مٹانے کی بنیاد رکھ دی تھی۔ خیبر، بنی نضیر، بنی قریظہ اور دیگر یہودی قبائل کی شکست کے بعد اگرچہ وہ بظاہر مدینہ سے نکل گئے یا دبک کر بیٹھ گئے، لیکن باطن میں وہ اپنی دشمنی اور منصوبہ سازی جاری رکھے ہوئے تھے۔ یہ گروہ جانتا تھا کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ  کی رحلت کے بعد اگر علیؑ اور بنی ہاشم قیادت سنبھالتے ہیں تو یہ قیادت عدل، توحید، علم اور فکری بالادستی کی بنیاد پر ہوگی، جو کسی بھی بیرونی سازش کو پنپنے کا موقع نہیں دے گی۔ اسی لیے ان کے لیے ضروری تھا کہ وہ ایسے حالات پیدا کریں جن میں خلافت کسی ایسے حلقے کے پاس جائے جو ان کے اثر میں لایا جا سکے یا کم از کم براہ راست ان کے مفادات کو نقصان نہ پہنچائے۔

ثقیفہ بنی ساعدہ کا اجتماع بظاہر انصاری اور مہاجرین کے باہمی جھگڑے کا نتیجہ دکھائی دیتا ہے لیکن اس کے پسِ پردہ وہ سازشی ذہن بھی سرگرم تھا جو امت کو فوری طور پر تقسیم دیکھنا چاہتا تھا۔ یہودی قبائل کے باقیات اور ان کے ہم نوا منافقین نے اس ہنگامی اور غیر منظم اجتماع کی فضا کو گرم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہیں معلوم تھا کہ رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ  کے دفن سے پہلے قیادت کا فیصلہ کر لینا امت کو مستقل طور پر دو گروہوں میں بانٹ دے گا۔ یہی وہ موقع تھا جسے انہوں نے خوب استعمال کیا۔ ان کی کوشش یہ تھی کہ اہل بیتؑ کو قیادت سے محروم کر کے انہیں گوشہ نشین کر دیا جائے تاکہ امت کا مرکز و محور بدل جائے۔

اس سازش کے نتیجے میں جب خلافت کا حق امیرالمؤمنینؑ سے چھینا گیا تو یہ دراصل یہودی عزائم کی بڑی کامیابی تھی۔ خلفائے ثلاثہ کی خلافت کا قیام اگرچہ بظاہر مسلمانوں کے اپنے فیصلوں کا نتیجہ لگتا ہے، لیکن یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ اس پورے عمل میں سازشی عناصر نے فضا سازی، افواہیں اور ذہنی دباؤ پیدا کر کے انصار و مہاجرین کے درمیان اختلاف کو ہوا دی۔ اسی اختلاف نے ایک ایسے ماڈل کو جنم دیا جو طاقت اور سیاست پر مبنی تھا، نہ کہ علم و تقویٰ پر۔ یہ وہی راستہ تھا جس پر چل کر بعد میں اموی اور عباسی حکومتوں نے اسلام کی روح کو مجروح کیا۔

یہودیوں کی یہ حکمتِ عملی دو رخوں پر مبنی تھی۔ ایک طرف وہ اہل بیتؑ کو عملی سیاست سے دور رکھنا چاہتے تھے تاکہ ان کی قیادت اسلامی معاشرتی و سیاسی ڈھانچے کو محفوظ نہ کر سکے۔ دوسری طرف وہ ایسے خلفاء کے ساتھ تعلقات بنانے میں کامیاب ہوئے جو کسی نہ کسی درجے میں ان کے اثرات قبول کرنے پر مجبور تھے۔ مثال کے طور پر خلافت کے ابتدائی دور میں یہودی اور یہودیت سے متاثر اہلِ کتاب عناصر کو مختلف سیاسی و علمی حلقوں میں جگہ ملنے لگی۔ ان میں سے کچھ نے بعد میں اسرائیلیات کے ذریعے اسلامی فکر میں تحریف اور مسخ شدہ روایات داخل کیں۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ ثقیفہ کی سازش میں یہودیوں کا براہِ راست کردار زیادہ تر پردے کے پیچھے تھا۔ انہوں نے براہِ راست اعلان یا قیادت کا دعویٰ نہیں کیا، لیکن موقع پرستی اور پس پردہ فتنہ انگیزی کے ذریعے انہوں نے خلافت کے دھارے کو اس راستے پر ڈال دیا جہاں سے اہل بیتؑ کو کنارے لگا دیا گیا۔ ان کے لیے یہی سب سے بڑی کامیابی تھی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ علیؑ اور ان کی نسلِ طاہرہ اگر قیادت میں آ گئی تو نہ صرف سازشیں ناکام ہو جائیں گی بلکہ اسلام اپنے اصل عدل و قسط کے پیغام کے ساتھ دنیا کو فتح کرے گا اور ان کی تاریخِ سازش ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے گی۔

یوں خلافت کے قیام میں یہودی سازشی عناصر کا کردار بالواسطہ تھا لیکن نہایت مؤثر۔ انہوں نے اس خلا کو خوب استعمال کیا جو رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ  کی رحلت کے بعد مسلمانوں کی جذباتی کیفیت اور باہمی اختلافات سے پیدا ہوا تھا، اور اسی خلا میں اپنی دیرینہ دشمنی اور سازشوں کا زہر گھول کر اسلام کے سیاسی و فکری دھارے کو اپنی مرضی کے مطابق موڑنے میں کامیاب ہو گئے۔

 یہودیوں کے علمی ذخائر میں، بالخصوص تورات، تلمود اور دیگر متون میں ایسی کئی پیش گوئیاں موجود ہیں جنہیں اسلامی منابع نے نقل کیا ہے اور بعض کا ذکر خود یہودی علما نے بھی اپنی قوم میں کیا۔ یہ حقیقت ہے کہ یہودی علما اور اہلِ کتاب کے بڑے طبقے کو رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ  کی آمد کی خبر پہلے سے دی گئی تھی۔ قرآن کریم نے اسی پہلو کو بیان کیا کہ وہ نبی صل اللہ علیہ وآلہ  کو ایسے پہچانتے تھے جیسے اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں۔ ان کے بزرگ اہلِ علم جانتے تھے کہ آخری نبی کہاں سے مبعوث ہوگا، اس کی صفات کیا ہوں گی اور اس کی امت کس طرح زمین پر اثر انداز ہوگی۔

یہودیوں کی کتابوں میں بنی ہاشم اور اہل بیتؑ کے بارے میں بھی اشارے ملتے تھے۔ بعض تفاسیر اور روایات میں بیان ہوا ہے کہ یہود کی قدیم صحیفوں میں “احمد” اور “اہلِ بیت طاہرین” کا ذکر موجود تھا۔ ان کے یہاں یہ بھی پیشین گوئی تھی کہ یہ نبی ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھے گا جو پاکیزہ اور معصوم ہوگا اور اس کے اوصیاء اس کے بعد علم و ہدایت کے وارث ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ مدینہ کے یہودی علماء رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ  کے ظہور سے پہلے عرب قبائل کو یہ کہہ کر ڈراتے تھے کہ آخری نبی یہاں مبعوث ہوگا اور ہم اس کے ساتھ مل کر تم پر غالب آئیں گے۔ مگر جب وہ نبی مبعوث ہوا تو تعصب، حسد اور ذاتی مفادات نے ان کو حق کے انکار پر آمادہ کر دیا۔

ان کی کتابوں میں یہ بھی اشارے ملتے تھے کہ نبی کے بعد اس کے وصی علیؑ ہوں گے۔ بعض محققین کے مطابق ان کی تحریروں میں ایک نجات دہندہ خاندان کا ذکر تھا جو امتحانات اور شہادتوں سے گزرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہودیوں کے بعض طبقے رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ  کے حقیقی وارث اور اوصیاء یعنی اہل بیتؑ کو ابتدا ہی سے اپنے لیے خطرہ سمجھنے لگے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر یہ تسلسل برقرار رہا تو امت ایک ایسے علمی، روحانی اور الہی قیادت کے ہاتھ میں آ جائے گی جو ان کی صدیوں کی چالبازیوں اور سازشوں کو بے نقاب کر دے گی۔

یہ سوال بھی اہم ہے کہ ان کو معلوم تھا کہ ان ہستیوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنا ہے۔ روایات اور آثار اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ فتنہ پرور یہودی جانتے تھے کہ اہل بیتؑ کو امت کے ظاہری سربراہان سے جدا کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ اسی لیے وہ ایسے گروہوں کے ساتھ جڑ گئے جو اہل بیتؑ کی خلافت اور قیادت کے مقابل کھڑے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ان اوصیاء کی زندگیوں کا انجام شہادت ہوگا اور انہی کی فکر اور تحریک کو ختم کرنے کے لیے سیاسی اور معاشی محاصرے کرنے ہوں گے۔ اسی لئے ابتدا ہی سے اہل بیتؑ کے خلاف پروپیگنڈا، ان کی تنقیص اور ان کو حاشیہ پر ڈالنے کی سازشیں جاری رہیں۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ ان سازشی یہودیوں کو اپنی کتابوں سے جو کچھ پتا چلا تھا، اس نے ان کے لیے ایک حکمت عملی بنا دی۔ وہ جانتے تھے کہ کون سی ہستیاں ہیں جو نورِ الٰہی کی حامل ہیں اور وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ اگر یہ ہستیاں امت کے مرکز میں آئیں تو ان کی باطل بنیادیں ہل جائیں گی۔ لہٰذا انہوں نے اپنی چالوں اور منصوبوں کے ذریعے امت کے سیاسی دھارے کو اہل بیتؑ سے الگ کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خلافت غیرِ اہل بیت کے ہاتھ میں چلی گئی، اہل بیتؑ کو مسلسل مظالم سہنے پڑے اور امت میں علمی و روحانی قیادت کے بجائے ملوکیت اور استبداد کا غلبہ ہوا۔

 پنجتنؑ کی حیاتِ مبارکہ اور ان پر ڈھائے جانے والے مصائب، محض اتفاقات یا داخلی اختلافات کا نتیجہ نہ تھے بلکہ ایک بڑی سازش کے تحت وہ سب کچھ ہوا، جس کی جڑیں ان یہودی پیشین گوئیوں میں تھیں جو صدیوں پہلے ان کے صحیفوں میں درج تھیں۔ یہ پیشین گوئیاں اس حقیقت پر دلالت کرتی تھیں کہ آخری نبی صل اللہ علیہ وآلہ  اور ان کے بعد ان کا اہل بیتؑ زمین پر الہی حجت ہوں گے، اور ان کا وجود ظالم طاقتوں اور فتنہ پرور گروہوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہوگا۔

یہودیوں کو معلوم تھا کہ نبی اکرم صل اللہ علیہ وآلہ  کے بعد اہل بیتؑ میں سے ہر ایک کو اذیتیں سہنی پڑیں گی اور وہ مظلومانہ شہادت پائیں گے۔ وہ جانتے تھے کہ فاطمہ زہراؑ کو رسول صل اللہ علیہ وآلہ  کی وفات کے فوراً بعد ایسے ظلم و ستم کا سامنا ہوگا کہ ان کی پسلیاں ٹوٹ جائیں گی، ان کا حق چھین لیا جائے گا اور انہیں دنیا سے رنجیدہ دل کے ساتھ رخصت ہونا پڑے گا۔ وہ جانتے تھے کہ علیؑ کو ایک طرف محرومیت اور صبر کی گھاٹیوں سے گزرنا ہوگا اور دوسری طرف آخرکار مسجد میں ضربت کھا کر شہید ہونا ہوگا۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ حسنؑ کو زہر دیا جائے گا اور حسینؑ کو کربلا میں نہایت بے دردی کے ساتھ شہید کیا جائے گا، حتیٰ کہ ان کے شیر خوار بچے کو بھی نہ بخشا جائے گا۔

یہ ساری تفصیلات ان کے علوم میں کسی نہ کسی انداز میں موجود تھیں۔ قرآن کریم نے بھی اس طرف اشارہ کیا کہ یہ اہل کتاب “یعرفونه کما یعرفون أبناءهم”، یعنی ان کے پاس ایسی علامات اور نشانیاں تھیں جن سے وہ اہل بیتؑ کے مقام اور ان کے امتحانات سے آگاہ تھے۔ مگر چونکہ وہ جانتے تھے کہ اہل بیتؑ کے ہوتے ہوئے ان کی سازشیں کامیاب نہیں ہو سکتیں اور حق ان کی بنیادوں کو جڑ سے اکھاڑ دے گا، اس لیے انہوں نے وہی حکمت عملی اپنائی جس کے اشارے ان کے قدیم متون میں ملتے تھے: ان ہستیوں کو سیاسی طور پر الگ کر دینا، معاشرتی طور پر تنہا کر دینا اور جسمانی طور پر ختم کر دینا۔

مدینہ کے یہودی علما، جو نبی اکرم صل اللہ علیہ وآلہ  کے زمانے میں بھی اپنی کتابوں کی روشنی میں آپ کو پہچانتے تھے، جانتے تھے کہ یہ خاندان آخرکار امت کے لیے مرکزِ نور بنے گا۔ اسی لیے انہوں نے ابتدائی خلافتی بحران سے فائدہ اٹھا کر ایسی صف بندی کی کہ پنجتنؑ ایک طرف کر دیے جائیں اور امت کو دوسری سمت میں دھکیل دیا جائے۔ یہ محض اتفاق نہیں تھا کہ زہراؑؑ کی مظلومیت اور ان کے حق کی غصبیت فوراً رسول صل اللہ علیہ وآلہ  کی وفات کے بعد شروع ہو گئی۔ نہ یہ محض ایک حادثہ تھا کہ علیؑ کی تلوار صدیوں بعد بھی غصب شدہ حق کو واپس نہ لا سکی۔ نہ یہ فقط داخلی دشمنی تھی کہ حسنؑ کو اپنے ہی گھر کے اندر زہر دیا گیا۔ اور نہ یہ ایک معمولی خانہ جنگی تھی کہ حسینؑ کو یزید کی فوجوں نے کربلا میں شہید کیا۔ یہ سب ایک طے شدہ سلسلے کا حصہ تھا جسے سازشی قوتوں نے ان پیشین گوئیوں کی روشنی میں ترتیب دیا تھا۔

یوں پنجتنؑ کے مصائب اور شہادتیں نہ صرف اسلامی تاریخ کے داخلی بحرانوں کی نشانی ہیں بلکہ اس اسکریپٹ کا بھی حصہ ہیں جو صدیوں پہلے یہودیوں کی کتابوں میں لکھا گیا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ وہ صحیفے اہل ایمان کے لیے ہدایت اور تیاری کا ذریعہ بن سکتے تھے، مگر سازشی یہودیوں نے انہیں اپنے منصوبوں کی رہنمائی کے طور پر استعمال کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پنجتنؑ کا ہر فرد اپنی باری پر قربانگاہ بنا اور ان کی اذیتیں تاریخِ انسانیت کے ماتھے پر ایک ابدی داغ بن گئیں۔

یہ سوال کہ یہ صحیفے اہل ایمان کے لیے کس طرح ہدایت اور تیاری کا ذریعہ بن سکتے تھے۔ اہم ہے اس کو ہم یوں سمجھتے ہیں کہ

اہل کتاب کی پرانی کتب میں جو پیشین گوئیاں درج تھیں، ان میں صرف یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ آخری نبی صل اللہ علیہ وآلہ  آئیں گے اور ان کا اہل بیتؑ کیسا ہوگا بلکہ ساتھ ہی یہ بھی درج تھا کہ ان کے مخالفین کون ہوں گے، ان پر ظلم کیسے ڈھائے جائیں گے، اور کس طرح حق پرست لوگ امتحان میں ڈالے جائیں گے۔ اب یہ بات ایک دو پہلو رکھتی ہے:

اگر کوئی شخص یا قوم اپنی کتاب میں ان علامات کو دیکھ کر یہ نتیجہ نکالے کہ “یہ وہی نبی ہیں جن کے آنے کی خبر ہمیں دی گئی تھی، یہ ان کے اہل بیتؑ ہیں جن کا مقام و مرتبہ بیان ہوا ہے، لہٰذا ہمیں ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور ان کی نصرت کرنی چاہیے” تو یہی ہدایت ہے۔ یعنی صحیفے ایک طرح کا نقشہ فراہم کرتے تھے تاکہ اہل ایمان پہچان سکیں کہ کس طرف حق ہے اور کس طرف باطل۔ ان کتابوں میں ملنے والے اشارے انسان کو وقت آنے پر فیصلہ کرنے کے قابل بنا سکتے تھے کہ کہاں نصرت کرنی ہے اور کہاں مخالفت سے بچنا ہے۔

مثال کے طور پر یہودیوں کو معلوم تھا کہ “شیلواح” (یعنی آخری نجات دہندہ) کی علامت بنی اسماعیل میں ہوگی اور وہ “پارَقلیتوس” یعنی احمد/محمد کہلائے گا۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ ان کی ذریت میں ایسے نفوس ہوں گے جو ظلم سہیں گے اور قربان ہوں گے۔ اگر یہودی اپنے علم کو صداقت کے ساتھ برتتے تو وہ نبی صل اللہ علیہ وآلہ  اور اہل بیتؑ کو فوراً پہچان کر ان کے ساتھ کھڑے ہوتے اور امت مسلمہ کو ان مصائب کے لیے تیار کرتے۔

مگر اس کے برعکس انہوں نے اپنے علم کو سیاست اور سازش کا ہتھیار بنا لیا۔ انہوں نے سوچا کہ چونکہ یہ خاندان خدا کی طرف سے چنا ہوا ہے اور ہماری صدیوں کی بادشاہت اور اجارہ داری کو چیلنج کرے گا، لہٰذا بہتر ہے کہ ہم ان کو ختم کر دیں۔ چنانچہ جو معلومات ان کے پاس اصل میں ایمان اور نصرت کے لیے تھیں، وہی ان کے ہاتھوں سازش کی منصوبہ بندی کا ذریعہ بن گئیں۔

یوں اگر ان صحیفوں کے اشارات پر ایمان کے زاویے سے غور کیا جاتا تو یہ ہدایت کا چراغ تھے، اور اگر انہیں دنیاوی اقتدار اور حسد کے زاویے سے پڑھا جاتا تو وہ گمراہی اور ظلم کا راستہ دکھانے لگتے۔ اس طرح قرآن نے جو فرمایا کہ “الذین آتیناھم الکتاب یعرفونه کما یعرفون أبناءھم” اس میں یہ دونوں امکان مضمر تھے: پہچان کر قبول کر لینا اور پہچان کر انکار کر دینا۔

یعنی یہ صحیفے ہدایت بن سکتے تھے اگر یہودی اپنے علم کو سچائی کے ساتھ قبول کرتے، مگر چونکہ انہوں نے اسے حسد اور دشمنی کے ساتھ برتا، اس لیے وہی صحیفے ان کی گمراہی اور سازش کا ذریعہ بن گئے۔

ائمه معصومینؑ کی زندگیاں اور شہادتیں اگر اہل کتاب کی پرانی پیشن گوئیوں کی روشنی میں دیکھی جائیں تو ایک نہایت دردناک مگر عمیق حقیقت سامنے آتی ہے۔ یہود کے بعض فتنہ پرور طبقات کے پاس اپنی آسمانی کتب سے ملنے والے وہ اشارے اور پیشین گوئیاں محفوظ تھیں جن میں اہل بیتؑ کی امامت، ان کی خصوصیات، اور ان پر ڈھائے جانے والے ظلموں کا ذکر تھا۔ وہ جانتے تھے کہ یہ ذریت رسولؐ نورِ ہدایت کا سرچشمہ ہوگی، ان کے ذریعہ دین محفوظ ہوگا اور دنیا ظلم و طاغوت کے خلاف بیدار ہوگی۔ مگر چونکہ یہ خاندان ان کی سیاسی و مذہبی اجارہ داری کو چیلنج کرتا تھا، اس لیے وہ علم جسے پہچان اور ایمان کا ذریعہ بننا تھا، حسد اور عداوت کی بنیاد پر سازشوں کا ہتھیار بن گیا۔

امیرالمؤمنین علیؑ کے متعلق اہل کتاب کی روایات میں اشارہ تھا کہ وہی نبی آخرالزماں کے بعد سب سے برتر ہوں گے، ان کا علم توریت اور زبور کے حاملین کے علم سے بھی بڑھ کر ہوگا، مگر ان پر امت کے ہاتھوں ظلم ہوگا۔ یہی پیشین گوئیاں سازشی یہودیوں کو یہ سمجھنے کا موقع دیتی تھیں کہ کس طرح داخلی اختلافات کو ہوا دے کر امامؑ کو تنہا کرنا ہے اور کس طرح ان کے دشمنوں کو شہ دینے سے ان کے قتل کا راستہ ہموار کرنا ہے۔ اسی طرح امام حسنؑ کی صلح اور زہر سے شہادت کا اشارہ ان صحیفوں میں ملتا تھا، اور یہی علم یزیدی و مروانی سیاست کو یہ باور کراتا تھا کہ صلح کے بعد زہر ہی وہ ہتھیار ہے جس سے امام کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

کربلا کی داستان میں تو یہ پیشن گوئیاں اور زیادہ واضح تھیں۔ یہودی صحیفوں میں کربلا اور نینویٰ کا ذکر بطور “وادئ بکاء” اور “وادئ قربان” ملتا ہے، جہاں ایک عظیم قربانی ہوگی اور آسمان و زمین لرز اٹھیں گے۔ یہ بات اہل کتاب کے علماء کو معلوم تھی، اس لیے جب حسینؑ مدینہ سے نکلے تو سازشی حلقے پوری طرح متحرک ہوگئے تاکہ اس پیشین گوئی کو اپنے سیاسی فائدے میں بدل سکیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ فاجعہ کربلا پیش آیا جس نے زمین و آسمان کو خون کے آنسو رلائے۔

اس کے بعد باقی آئمہؑ کی زندگیاں بھی انہی پیشن گوئیوں کے مطابق تھیں۔ امام سجادؑ کی بقا اور ان کا طویل اسارت و گریہ، دراصل اس پیشین گوئی کا عکس تھا کہ ایک امام زنجیروں میں جکڑا ہوا امت کے سامنے حق کی شہادت دے گا۔ امام باقرؑ اور امام صادقؑ کی علمی نشوونما اور پھر انہی کے ذریعہ دین کی تدوین، وہ بھی صحیفوں میں ملنے والے اشاروں سے ہم آہنگ تھی کہ علم محمدؐ کی وراثت کو یہی نسل محفوظ کرے گی۔ سازشی طبقات جانتے تھے کہ اگر یہ علمی تحریک بڑھ گئی تو امت بیدار ہوجائے گی، اس لیے بار بار زہر اور قید کا راستہ اختیار کیا گیا۔

امام کاظمؑ کی قید و بند کی طویل داستانیں بھی انہی متون میں پائی جاتی تھیں، اور عباسی خلفاء کو یہ راستہ دکھانے والے درباری علماء اکثر وہی لوگ تھے جنہوں نے اہل کتاب کی پیشن گوئیوں کو اپنی سازشوں کا حصہ بنایا۔ امام رضاؑ کی خراسان میں ولایت عہدی اور پھر زہر سے شہادت بھی دراصل انھی اشاروں کے مطابق تھی کہ ایک امام مشرقی سرزمین میں بلایا جائے گا اور وہاں شہید کر دیا جائے گا۔ امام جوادؑ، امام ہادیؑ اور امام عسکریؑ سب کی قلیل عمری میں شہادتیں ان تحریروں میں موجود تھیں اور یہ سازشی گروہ حکمرانوں کو اس طرف دھکیلتا رہا کہ ان کو جلد ختم کر دیا جائے تاکہ ان کا علمی و فکری اثر معاشرے میں جڑ نہ پکڑ سکے۔

یہاں تک کہ امام مہدیؑ کی ولادت اور ان کا پردۂ غیبت بھی اہل کتاب کے صحیفوں میں ذکر تھا۔ یہودی اور عیسائی علماء اچھی طرح جانتے تھے کہ “آخری قائم” ظاہر ہو کر دنیا کو عدل سے بھر دے گا، مگر اس سے پہلے وہ غائب ہوگا تاکہ دشمن اس تک نہ پہنچ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ امام عسکریؑ کے زمانے میں سخت پہرہ بٹھایا گیا، گھروں کی نگرانی کی گئی، اور امام مہدیؑ کی تلاش کی گئی، کیونکہ یہ سب انہی پیشن گوئیوں کی تعبیر تھی۔

یوں دیکھا جائے تو ائمہ معصومینؑ کی شہادتیں اور مصیبتیں فقط سیاسی و دنیاوی کشمکش کا نتیجہ نہ تھیں بلکہ ایک گہری لڑی ہوئی سازش کا حصہ تھیں، جس کے لیے پرانی کتب کی پیشن گوئیوں کو رہنمائی کے طور پر استعمال کیا گیا۔ یہ پیشن گوئیاں اگر ایمان کے ساتھ پڑھی جاتیں تو اہل بیتؑ کی نصرت کا ذریعہ بن سکتیں، مگر جب انہیں حسد اور دنیاوی حرص کے ساتھ پڑھا گیا تو وہی ہدایت گمراہی اور وہی بشارت ظلم کی تدبیر میں بدل گئی۔ یہ سب محض شیعہ روایت نہیں بلکہ ان کے اصل متون میں بھی جھلکتا ہے۔

 تاریخی تسلسل کو گہرائی سے دیکھا جائے تو یہی نقشہ واضح ہوتا ہے کہ سازشی یہودی عناصر نے براہِ راست یا بالواسطہ طور پر مسلمانوں کے اندر ایسے گروہوں کو پروان چڑھایا جو ائمہ اہل بیتؑ کی مخالفت میں سرگرم رہے۔ رسول اکرمؐ کی رحلت کے فوراً بعد ثقیفہ بنی ساعدہ کی سازش اس بات کا اشارہ تھی کہ اصل مقصد خلافت کو اہل بیتؑ کے بجائے دوسروں کے ہاتھ میں دینا تھا، تاکہ اسلام کی اصل روح کو کمزور کیا جا سکے۔ خلفائے ثلاثہ کی خلافت میں اگرچہ یہ بات کھلے لفظوں میں نظر نہیں آتی، لیکن ان کے دور میں اہل بیتؑ کو کنارے لگانے اور ان کی علمی و سیاسی قیادت کو محدود کرنے کی روش غالب رہی، اور یہ عین وہی منصوبہ تھا جو یہودی ذہنوں نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تیار کیا تھا۔

بنی امیہ کے دور میں یہ سازش اپنے عروج پر پہنچی۔ یزید جیسے فاسق و فاجر کو تخت پر بٹھایا گیا اور کربلا میں سیدالشہداء امام حسینؑ اور ان کے اصحاب کو بے دردی سے شہید کیا گیا۔ یہ واقعہ محض سیاسی اختلاف نہ تھا بلکہ یہ اس گہری دشمنی کا اظہار تھا جو یہودی سازشی عناصر کے ذریعے بنی امیہ میں رچ بس گئی تھی۔ انہوں نے اہل بیتؑ کو جڑ سے ختم کرنے کا منصوبہ بنایا تاکہ اسلام کے اصل نمائندے دنیا کے سامنے نہ رہیں اور امت گمراہ کن قیادت کے زیر اثر رہے۔

بنی عباس نے ابتدا میں اہل بیتؑ کے نام پر تحریک چلائی لیکن اقتدار ملتے ہی وہی کھیل دہرایا جو بنی امیہ نے کیا تھا۔ امام جعفر صادقؑ، امام کاظمؑ، امام رضاؑ اور دیگر ائمہؑ کو زہر دے کر شہید کیا گیا۔ یہ سب اسی ذہن کی پیداوار تھا جس نے یہودی روایات اور اپنی کتابوں میں موجود پیشن گوئیوں کو دیکھ کر فیصلہ کیا تھا کہ اہل بیتؑ اسلام کا اصل مرکز ہیں اور جب تک یہ باقی رہیں گے اسلام اپنی اصل شکل میں محفوظ رہے گا۔ اس لیے انہیں ختم کرنا ضروری ہے۔

 کسی بھی بڑی تاریخی سازش کے پیچھے محض وقتی عناد یا ذاتی دشمنی نہیں ہوتی بلکہ دور رس مقاصد اور خوف و لالچ جیسے محرکات ہوتے ہیں۔ سازشی یہودیوں نے اسلام، رسول اکرمؐ، اہل بیتؑ اور ان کے پیروکاروں کے خلاف جو منظم اور صدیوں پر محیط منصوبے بنائے، ان کے پسِ پردہ کئی جہتوں کی وجوہات تھیں۔ ان وجوہات کو جزئیات میں دیکھیں تو ایک مکمل نقشہ کھلتا ہے:

سب سے پہلی وجہ مذہبی اور روحانی حسد تھی۔ یہودی علماء اور قبائل اپنی کتابوں میں یہ پڑھ چکے تھے کہ آخری نبی مکہ و مدینہ کے اطراف سے اٹھے گا اور اس کی شریعت انبیائے سابقین کی شریعتوں پر حاکم ہوگی۔ وہ جانتے تھے کہ جس نبیؐ کا ذکر ان کے صحیفوں میں ہے وہ اب آنے والا ہے، مگر ان کے دل یہ قبول کرنے پر تیار نہ تھے کہ نبوت بنی اسرائیل کے بجائے بنی اسماعیل میں منتقل ہو جائے۔ یہ حسد ان کے اندر ایک شدید نفسیاتی کرب پیدا کرتا تھا، اور اسی کرب نے انہیں مخالفانہ اور معاندانہ رویے پر آمادہ کیا۔

دوسری بڑی وجہ اقتدار اور سیاسی غلبے کا خوف تھا۔ یہودی قبائل عرب میں معاشی اور قبائلی سطح پر اپنا اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ خاص طور پر مدینہ میں بنو قریظہ، بنو نضیر اور بنو قینقاع کی حیثیت اہم تھی۔ اسلام کے آنے کے بعد ان کا یہ غلبہ خطرے میں پڑ گیا کیونکہ ایک نئی قوت ابھری تھی جو نہ صرف مذہبی طور پر بلکہ سیاسی و عسکری سطح پر بھی ان پر فوقیت حاصل کر رہی تھی۔ انہوں نے سوچا کہ اگر اسلام پھیل گیا تو یہود کی صدیوں پر محیط حاکمیت اور سودی معیشت کا نظام بکھر جائے گا۔

تیسری وجہ معاشی مفادات کا نقصان تھا۔ یہودی عرب میں تجارت، سود اور زمین داری کے ذریعے لوگوں کو اپنے شکنجے میں لیے ہوئے تھے۔ اسلام نے آ کر سود کو حرام قرار دیا اور مساوات کا پیغام دیا۔ یہ پیغام یہودیوں کے معاشی مفاد کے سراسر خلاف تھا۔ ان کا پورا نظام استحصال پر کھڑا تھا اور اسلام نے اس بنیاد کو ہلا دیا۔ لہٰذا وہ جانتے تھے کہ اگر یہ دین غالب آ گیا تو ان کا معاشی ڈھانچہ ختم ہو جائے گا۔

چوتھی وجہ تاریخی انتقام تھا۔ یہودی اپنی تاریخ میں بارہا انبیاء کی نافرمانی اور ان کے قتل میں ملوث رہے تھے۔ جب وہ یہ دیکھتے کہ ایک نئی آسمانی قیادت اٹھ رہی ہے اور وہ بنی اسرائیل کے بجائے بنی اسماعیل کو عطا کی گئی ہے تو ان کی پرانی دشمنی مزید بھڑک اٹھتی۔ یوں انہوں نے رسول اکرمؐ اور اہل بیتؑ کے خلاف سازشوں کو اپنے اس تاریخی مزاج کا تسلسل سمجھا۔

پانچویں وجہ علمی و فکری شکست کا خوف تھا۔ یہودی علماء اپنی کتابوں کے علم پر فخر کرتے تھے اور عرب کو جاہل سمجھتے تھے۔ لیکن قرآن نے آ کر نہ صرف ان کی علمی اجارہ داری کو توڑا بلکہ ان کے تحریف شدہ عقائد کو بھی کھول کر بیان کیا۔ یہ ان کے لیے ایک ناقابلِ برداشت صدمہ تھا۔ وہ یہ دیکھ رہے تھے کہ ان کے صحیفوں کی وہ باتیں جو انہوں نے صدیوں چھپائی تھیں، قرآن انہیں کھول کھول کر بیان کر رہا ہے۔ اس لیے انہوں نے اپنی بقا اسی میں سمجھی کہ اسلام کو کمزور کریں یا اس کے اصل وارث یعنی اہل بیتؑ کو اقتدار سے محروم رکھیں۔

چھٹی وجہ پیشین گوئیوں کا الٹا استعمال تھا۔ ان کے علماء جانتے تھے کہ رسول اکرمؐ کے بعد خلافت اور قیادت اہل بیتؑ کے پاس آنی ہے اور یہ کہ ان میں سے ہر ایک اپنی سیرت اور شہادت کے ذریعے دین کو زندہ کرے گا۔ یہ بات انہیں زیادہ خوفناک لگتی تھی کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ ان کے مقابلے میں ایک ایسی روحانی قیادت ابھرے گی جسے ختم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ لہٰذا انہوں نے پیشین گوئیوں کو اہل ایمان کے بجائے اپنی سازشوں کے لیے استعمال کیا، یعنی جہاں امام حسینؑ کی شہادت کا ذکر ملتا تھا وہاں وہ سوچتے کہ یہ موقع ہے کہ ہم اسلام کی روح پر کاری ضرب لگائیں۔

ساتویں وجہ پراکسی حکمرانی کی ضرورت تھی۔ یہودی جانتے تھے کہ وہ براہِ راست اسلامی معاشرے پر قبضہ نہیں کر سکتے، اس لیے انہوں نے ایسے گروہوں کو آگے بڑھایا جو بظاہر اسلام کے نمائندے ہوں مگر عملاً ان کے سیاسی اور تہذیبی ایجنڈے کو آگے بڑھائیں۔ یہی وجہ ہے کہ ثقیفہ سے لے کر بنو امیہ اور بنو عباس تک وہ ایک “پردے کے پیچھے قوت” کے طور پر موجود رہے۔ انہوں نے ان خلفاء اور حکمرانوں کو اہل بیتؑ کے مقابل کھڑا کر کے اپنے مقاصد پورے کیے۔

آخری اور نہایت اہم وجہ اسلام کی آفاقی دعوت کا خوف تھا۔ یہودی خود کو “خدا کی منتخب قوم” سمجھتے تھے اور وہ یہ برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ اب یہ منصب ایک ایسے دین کو ملے جو تمام اقوام کو ایک امت بنانے آیا ہے۔ یہ تصور ان کی ذہنیت کے خلاف تھا۔ اس لیے انہوں نے اپنی پوری توانائی اس بات پر لگا دی کہ اسلام کو داخلی اختلافات، جنگوں اور تحریفات کے ذریعے کمزور کیا جائے تاکہ وہ کبھی بھی عالمی سطح پر اپنا وہ کردار ادا نہ کر سکے جو اللہ نے اس کے لیے مقدر کیا تھا۔

یوں ہم دیکھتے ہیں کہ سازشی یہودیوں کی دشمنی کے پیچھے مذہبی حسد، اقتدار کا خوف، معاشی مفاد، تاریخی عداوت، علمی شکست، پیشین گوئیوں کا غلط استعمال، پراکسی سیاست، اور اسلام کی آفاقی دعوت سے بیزاری جیسے کئی محرکات کارفرما تھے۔ انہی محرکات نے انہیں بار بار یہ منصوبہ بندی پر آمادہ کیا کہ رسول اکرمؐ کو اذیت دی جائے، اہل بیتؑ کو خلافت سے محروم رکھا جائے، اور آخرکار ایک ایسی تاریخ رقم کی جائے جس میں حق کے وارث مسلسل شہادتیں دیتے رہیں۔  تاریخ یہ گواہی دیتی ہے کہ خلفائے ثلاثہ سے لے کر بنی امیہ اور پھر بنی عباس تک ایک تسلسل موجود ہے، جس میں یہودی سازشی عناصر نے کبھی براہِ راست اور کبھی پسِ پردہ ان حکومتوں کو اپنی پراکسی کے طور پر استعمال کیا۔ نتیجتاً اہل بیتؑ کی مظلومانہ شہادتیں تاریخ کا حصہ بنیں اور اسلام کی حقیقی تعلیمات کو حاشیے پر دھکیلنے کی کوشش کی گئی۔

حوالہ جات:

ثقیفہ بنی ساعدہ اور خلافت کا مسئلہ:

تاریخ طبری (محمد بن جریر طبری)

الامامة و السیاسة (ابن قتیبہ دینوری)

شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید معتزلی)

یہودیوں کی پیشن گوئیاں اور نبی آخر الزمانؐ کی علامات:

سیرت ابن ہشام (ابن ہشام)

دلائل النبوة (ابو نعیم اصفہانی)

بحار الانوار (علامہ محمد باقر مجلسی)

اہل بیتؑ کو کنارے لگانے اور محدود کرنے کی پالیسی:

مسند احمد بن حنبل (امام احمد بن حنبل)

صحیح بخاری (امام بخاری)

الغدیر (علامہ عبدالحسین امینی)

کربلا اور بنی امیہ کا کردار:

تاریخ طبری (محمد بن جریر طبری)

الملهوف علی قتلی الطفوف (سید ابن طاووس)

مقتل الحسین (ابو مخنف)

بنی عباس اور ائمہ معصومینؑ کی شہادتیں:

الکافی (شیخ کلینی)

عیون اخبار الرضا (شیخ صدوق)

ارشاد المفید (شیخ مفید)

یہودی پس منظر اور مسلمانوں میں سازشی اثرات:

تاریخ یعقوبی (احمد بن ابی یعقوب یعقوبی)

مروج الذهب (مسعودی)

الفصل فی الملل والاہواء والنحل (ابن حزم اندلسی)

یہ وہ بڑے مصادر ہیں جن پر ان تمام نکات کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ کچھ روایات براہِ راست ان کتب میں موجود ہیں اور کچھ ان سے استناد کے طور پر مفسرین، محدثین اور متکلمین نے نقل کی ہیں۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2238

ٹیگز

تبصرے