41

مہدوی سوال و جواب  اعمال کی قبولیت اور عقیدۂ امامت

  • نیوز کوڈ : 2231
  • 20 August 2025 - 21:50
مہدوی سوال و جواب  اعمال کی قبولیت اور عقیدۂ امامت

مہدوی سوال و جواب  اعمال کی قبولیت اور عقیدۂ امامت

مہدویت کے موضوع پر ایک اہم نشست میں استادِ مہدویت مولانا علی اصغر سیفی صاحب نے ایک سوال کے جواب میں تفصیلی وضاحت پیش کی۔ ان سے پوچھا گیا کہ:

سوال:

کچھ لوگ عقیدۂ امامت کا باقی واجبات سے تقابل کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنے دیگر واجبات پر باقاعدگی سے عمل کرے لیکن اس کا عقیدہ امام مہدی (عج) یا امامت کے بارے میں درست نہ ہو، تو باقی واجبات کا اللہ کے سامنے قبولیت کا کیا معیار ہو گا؟ کیا عقیدۂ امامت کے بغیر اعمال کی قبولیت ممکن ہے؟

جواب:

مولانا علی اصغر سیفی نے کہا:

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ابتداء میں صرف توحید ہی اعمال کی قبولیت کے لیے کافی تھی، جب رسول اکرم ﷺ کو پیغمبر کے طور پر مبعوث نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن جب آنحضرت ﷺ کو رسالت پر فائز کیا گیا تو پھر توحید کے ساتھ ساتھ نبوت کا اقرار بھی ضروری قرار پایا، تاکہ اعمال قبولیت تک پہنچ سکیں۔

انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نیک اعمال وہی ہیں جو خدا کے رسول ﷺ بتائیں، اور جب غدیر خم کے مقام پر ولایت کا اعلان ہوا تو اس کے بعد اعمال کی قبولیت کا معیار خدا، رسول اور حجتِ خدا بن گیا۔ لہٰذا ہر زمانے کی حجت یہ مقام رکھتی ہے کہ اگر اس کی امامت پر ایمان نہ ہو تو اعمال قبولیت تک نہیں پہنچ پاتے۔

مولانا سیفی نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے اللہ تعالیٰ ایسے افراد کے اعمال کو دنیا میں قبول کرے اور ان کا اجر انہیں دنیا میں عطا کر دے، لیکن آخرت میں وہ بلند مقامات اور وہ مرتبہ حاصل نہیں کر سکیں گے جس کی امید رکھتے ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے ایک حدیث بھی نقل کی:

> عن جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ آبَائِهِ عَنِ النَّبِیِّ ص قَالَ:

الْأَئِمَّةُ بَعْدِی اثْنَا عَشَرَ، أَوَّلُهُمْ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ وَ آخِرُهُمُ الْقَائِمُ، فَهُم خُلَفَائِی وَ أَوْصِیَائِی وَ أَوْلِیَائِی وَ حُجَجُ اللَّه عَلَی أُمَّتِی بَعْدِی، الْمُقِرُّ بِهِمْ مُؤْمِنٌ وَ الْمُنْکِرُ لَهُمْ کَافِرٌ

(شیخ صدوق، من‏ لا یحضره‏ الفقیه، ج 4، ص 180)

امام جعفر صادق علیہ السلام، نبی کریم سے نقل کرتے ہیں:

میرے بعد بارہ امام ہیں؛ ان میں سے پہلا علی ابن ابی طالبؑ ہیں اور آخری قائمؑ ہیں۔ یہ سب میرے خلیفہ، وصی، ولی اور میری امت پر اللہ کی حجت ہیں۔ جو ان کا اقرار کرے وہ مومن ہے اور جو ان کا انکار کرے وہ کافر ہے۔”

مولانا علی اصغر سیفی نے کہا کہ اس حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ امامت پر ایمان لائے بغیر اعمال آخرت میں مطلوبہ قبولیت اور درجہ حاصل نہیں کر سکتے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2231

ٹیگز

تبصرے