44

سہولتوں کے پردے میں غلامی استعماری طاقتوں کی نئی سازش

  • نیوز کوڈ : 2228
  • 20 August 2025 - 21:04
سہولتوں کے پردے میں غلامی استعماری طاقتوں کی نئی سازش

سہولتوں کے پردے میں غلامی استعماری طاقتوں کی نئی سازش

 سید جہانزیب عابدی

اسلامک اسکالر سید جہانزیب عابدی نے اپنے تجزیہ میں کہا کہ استعماری طاقتوں نے ہمیشہ یہ حربہ آزمایا ہے کہ قوموں کو براہِ راست جنگ یا عسکری دباؤ سے ختم کرنے کے بجائے انہیں سہولتوں، آسائشوں اور لذتوں میں ڈبو دیا جائے تاکہ ان کے اندر سے مقصدیت، غیرت اور اجتماعی شعور ختم ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ جب مشرقی اقوام کو لوٹا اور غلام بنایا گیا تو صرف زمین اور وسائل ہی نہیں چھینے گئے بلکہ ان کی روحانی توانائی، فکری خودمختاری اور جدوجہد کا حوصلہ بھی سلب کر لیا گیا۔ مغرب نے اپنی سامراجی سیاست کے تحت ایسے سماجی ڈھانچے تشکیل دیے جن میں فرد کی تمام تر توجہ ذاتی خواہشات، آسائشوں اور وقتی لذتوں پر مرکوز ہو جائے اور وہ کسی اجتماعی ذمہ داری یا اعلیٰ مقصد کے لیے قربانی دینے کی ضرورت ہی محسوس نہ کرے۔

سید جہانزیب عابدی کے مطابق جدید سرمایہ دارانہ تہذیب نے ایک ایسی طرزِ زندگی تراشی ہے جس میں انسان مسلسل استعمال کرتا ہے، کھاتا ہے، دیکھتا ہے اور عیش کرتا ہے، لیکن سوال کرنے، لڑنے یا کسی مقصد کے لیے کھڑے ہونے کی صلاحیت سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وہ گہری سازش ہے جس کے نتیجے میں مغربی معاشرے اگرچہ مادی اعتبار سے آسودہ اور محفوظ دکھائی دیتے ہیں مگر اندرونی طور پر شدید بحران کا شکار ہیں۔ خاندانی نظام ٹوٹ چکا ہے، تنہائی بڑھ رہی ہے، ذہنی امراض اور خودکشی کی شرحیں خطرناک سطح تک جا پہنچی ہیں، اور نئی نسل کسی اجتماعی نصب العین کے بجائے محض تفریح اور لذتوں کو زندگی کا مقصد سمجھ رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ استعماری مراکز اس صورتحال کو اپنی بقا کے لیے نہایت مفید سمجھتے ہیں، کیونکہ ایک بے مقصد اور لاابالی معاشرہ نہ تو بغاوت کر سکتا ہے اور نہ ہی کسی بڑی تبدیلی کی قوت رکھتا ہے۔ اسی حکمتِ عملی کو مشرقی معاشروں میں منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کبھی تعلیم کے نصاب سے روحانیت اور اخلاقی اقدار کو نکال کر، کبھی میڈیا کے ذریعے سطحی لذتوں اور غیر ذمہ دارانہ آزادی کو عام کر کے، اور کبھی نوجوانوں کو ایسی مصنوعی خواہشات میں الجھا کر کہ وہ اپنی اصل جدوجہد اور مقصد کو فراموش کر دیں۔

سید جہانزیب عابدی نے آخر میں کہا کہ یہ سہولتوں اور آزادیوں کا جو سیلاب دکھائی دیتا ہے حقیقت میں وہ معاشرتی موت ہے۔ جب مقصدیت ختم ہو جائے تو آسائش زہر بن جاتی ہے۔ استعماری قوتیں جانتی ہیں کہ کسی قوم کو ختم کرنے کا سب سے خطرناک طریقہ یہ ہے کہ اس کے افراد کو سہولت پسند اور نفس پرست بنا دیا جائے تاکہ وہ اپنی بقا اور آزادی کے لیے قربانی دینے کی سکت ہی کھو بیٹھیں۔ یہی وہ انجام ہے جس کی جھلک مغرب میں آج شدت سے دیکھی جا سکتی ہے اور جسے مشرق میں دہرانے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2228

ٹیگز

تبصرے