45

سکردو: شیخ حسن جوہری کا زینبیہ المرتضیٰ کالونی میں پرجوش خطاب — آزادی، حقوق اور معاشرتی بیداری پر دو ٹوک مؤقف

  • نیوز کوڈ : 2216
  • 14 August 2025 - 21:06
سکردو: شیخ حسن جوہری کا زینبیہ المرتضیٰ کالونی میں پرجوش خطاب — آزادی، حقوق اور معاشرتی بیداری پر دو ٹوک مؤقف

سکردو: شیخ حسن جوہری کا زینبیہ المرتضیٰ کالونی میں پرجوش خطاب — آزادی، حقوق اور معاشرتی بیداری پر دو ٹوک مؤقف

— امام بارگاہ زینبیہ المرتضیٰ کالونی سکردو میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے معروف عالم دین شیخ حسن جوہری نے ملکی و علاقائی حالات پر شدید تنقید کی اور کہا کہ موجودہ حالات میں “ہم آزادی کیسے منائیں؟” جب عوام شدید لوڈشیڈنگ، مہنگائی، بیروزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام اپنے بنیادی حقوق کے لیے سڑکوں پر ہیں، تاجر سوست بارڈر پر احتجاج پر مجبور ہیں، پولیس اہلکار تنخواہوں کے لیے مظاہرے کر رہے ہیں، وکلاء مراعات کے لیے دھرنوں پر بیٹھے ہیں، اور عوام آٹے کی بوری کے لیے گھنٹوں قطاروں میں ذلیل ہو رہے ہیں۔ “محض ایک شناختی کارڈ رکھنا آزادی نہیں، جب تک انصاف اور سہولتیں ہر شہری تک نہ پہنچیں۔”

شیخ حسن جوہری نے گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت کاظم میثم کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ صرف اداروں کے دھرنوں میں شریک ہوتے ہیں مگر سیلاب زدہ کندوس اور شگر برگی کے عوام کی خبر نہیں لیتے، حالانکہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے انہیں ووٹ دیا۔

خطیب نے جمعہ کے خطبوں پر بھی سوال اٹھایا کہ معاشرتی مسائل اور نوجوانوں کے چیلنجز پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے جبکہ محسن نقوی جیسے کرداروں کے لیے دعائے خیر کی جاتی ہے، جو افسوسناک ہے۔

سیاحت کے منفی اثرات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہوٹلوں میں بے حیائی کو فروغ دیا جا رہا ہے اور سرینا ہوٹل سمیت بعض مقامات پر خواتین کی تعیناتی کو “غیرت کے منافی” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “ناموس کی حفاظت کے لیے اگر قربانی دینی پڑی تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”

انہوں نے بلتستان یونیورسٹی میں بڑھتی ہوئی بے حیائی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ جب تک معاشرے میں انصاف، غیرت اور دین غالب نہیں آتا، اس آزادی کو منانے کا کوئی حقیقی مطلب نہیں۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2216

ٹیگز

تبصرے