46

عالمی انسانی بحران کا حقیقی حل

  • نیوز کوڈ : 2206
  • 06 August 2025 - 21:40
عالمی انسانی بحران کا حقیقی حل

عالمی انسانی بحران کا حقیقی حل

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

 تحریر : سید جہانزیب عابدی

انسانی تہذیب نے اپنے تاریخی سفر میں علم، تجربے اور شعور کی بنیاد پر اجتماعی انسانی مسائل کی شناخت میں بڑی پیشرفت کی ہے۔ سیاسی ناانصافی، اقتصادی استحصال، سماجی امتیاز، علمی بے راہ روی، اور اخلاقی گراوٹ جیسے مسائل نہ صرف شعور کا حصہ بنے بلکہ عالمی دانش نے انہیں بڑے شد و مد سے بیان بھی کیا۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جہاں ان مسائل کی شناخت نے انسانیت کو ایک نکتۂ احساس تک پہنچایا، وہیں ان کے حل کے لیے جو راستے اختیار کیے گئے، وہ یا تو ناکام رہے یا خود فساد کی نئی صورتوں میں ڈھل گئے۔ سرمایہ دارانہ نظام تو اب اپنی اصل بدصورتی، بےانصافی، استحصال اور ارتکازِ زر کے ساتھ دنیا پر عیاں ہو چکا ہے۔ اب اس نظام کے ناقدین کا جھکاؤ سوشلسٹ یا مارکسسٹ ماڈلز کی طرف ہے، لیکن یہ خود ایک دھوکہ ہے، ایک نئے رنگ میں پرانے زہر کا پیالہ۔

سوشلسٹ یا مارکسسٹ نظام کی بنیاد ایک طرح کی ردعملاتی جذباتیت پر رکھی گئی: سرمایہ دار کے خلاف مزدور کی بغاوت، نجی ملکیت کے خاتمے کا خواب، اور وسائل کی مساوی تقسیم کا نعرہ۔ یہ سب ایک خاص تناظر میں خوشنما اور پرکشش محسوس ہوتا ہے، خاص طور پر اُس طبقے کے لیے جو استحصال کا شکار ہو۔ مگر جب ہم اس نظام کی حقیقت میں جھانکتے ہیں تو وہی مادہ پرستی، وہی طاقت کی مرکزیت، اور وہی اشرافیہ کا نیا روپ سامنے آتا ہے، جو پہلے تاجروں اور جاگیرداروں کی شکل میں نظر آتا تھا، اب وہی استحصالی مزاج “عوامی ریاست” کے نام پر حکمرانوں کے چہروں پر چھپا ہوتا ہے۔ سوویت یونین، چین، شمالی کوریا، کیوبا — یہ سب مثالیں ہیں جہاں عوام کے نام پر ریاستی ڈھانچہ تو بدلا، مگر انسان کی روحانی آزادی، اخلاقی خودمختاری اور فطری ترقی کا گلا گھونٹ دیا گیا۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ تمام نظام، چاہے وہ سرمایہ داری ہو یا سوشلزم، انسانی فطرت کی ان جہتوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں جو مادی وجود سے ماورا ہیں۔ انسان صرف پیٹ، لباس اور مکان کا نام نہیں؛ انسان کے اندر ایک روح ہے، ایک لاشعور ہے، ایک عبدیت کی طلب ہے، جو مقصدیت اور بندگی کے بغیر چین نہیں پاتی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سوشلسٹ نظام بھی ناکام ہو جاتا ہے، کیونکہ اس نے انسان کو محض مادی برابری اور ریاستی نظم میں محدود کر دیا، جب کہ انسان اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور بلند تر ہستی ہے۔

اسلام، بالخصوص قرآن اور اہلبیت علیہم السلام کی تعلیمات، انسانی سماج کے مسائل کا ایک ایسا حل پیش کرتی ہیں جو نہ صرف عدلِ اجتماعی کو یقینی بناتی ہے بلکہ روحانی توازن، اخلاقی تربیت اور اخروی ذمہ داری کے ایسے عناصر ککو نظام کا حصہ بناتی ہے جو کسی مادی فلسفے میں ممکن نہیں۔ اسلام معاشی مساوات کی بات ضرور کرتا ہے، مگر صدقہ، زکات، خمس، وقف، بیت المال اور وراثت جیسے اداروں کے ذریعے، اور ساتھ ہی ساتھ انسان کو مال و زر سے بے نیاز رہنے، زہد و قناعت اپنانے، اور آخرت کی جوابدہی کا احساس رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ صرف معاشی ڈھانچے کی بات نہیں بلکہ ایک ایسا اخلاقی وجود تشکیل دینے کی کوشش ہے جو خود ظلم نہ کرے اور نہ ظلم برداشت کرے۔

اہلبیتؑ کا ماڈل خاص طور پر اس بات کا مظہر ہے کہ حق کی حکومت طاقت سے نہیں بلکہ تقویٰ، علم، عدل اور قربانی سے قائم ہوتی ہے۔ امام علیؑ کی خلافت کا مختصر دور، ان کے خطوط، ان کی عملی زندگی اور حکومتی پالیسی اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلام نے انسان کی مادی اور روحانی دونوں ضروریات کو ایک جامع نظام میں سمویا ہے۔ نہ دولت جمع کرنے کی اجازت دی گئی، نہ غیر اخلاقی مساوات قائم کی گئی، بلکہ ہر انسان کو اس کے تقویٰ، خدمت، اخلاص اور کوشش کے مطابق مقام دیا گیا۔ یہاں نہ اشرافیہ کی اجارہ داری ہے، نہ عوام کو محض نعرہ بازی میں مبتلا کیا گیا۔

آج کے جدید سیکولر دانشور، جب سرمایہ دارانہ نظام کی بے رحمی کو دیکھ کر سوشلسٹ نظام کی طرف جھکتے ہیں تو دراصل وہ ایک غلط بنیاد پر ایک اور خام حل تجویز کرتے ہیں۔ شاید اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اسلامی نظامِ عدل کو سمجھنے کے لیے جس اخلاقی تربیت، جس روحانی سچائی، اور جس تزکیۂ نفس کی ضرورت ہے، وہ اُن کے لیے سخت اور تکلیف دہ ہے۔ سوشلسٹ ماڈل میں، کم از کم سطحی طور پر، انسان اپنی خواہشات کو خدا کی اطاعت کے بغیر پورا کرنے کا خواب دیکھتا ہے، جبکہ اسلام میں خواہشات کی قربانی، نفس کی مجاہدہ، اور دنیا کی ظاہری زینت سے بے نیازی مطلوب ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جدید انسان ٹھٹھک جاتا ہے۔ وہ نجات تو چاہتا ہے، مگر قربانی کے بغیر؛ مساوات تو مانگتا ہے، مگر عبادت کے بغیر؛ عدل کا مطالبہ کرتا ہے، مگر بندگی سے انکار کرتا ہے۔

اسی لیے اسلامی حل، جو قرآن و اہلبیتؑ کے ماڈل میں موجود ہے، دنیاوی دانشوروں کے لیے مشکل، بلکہ غیر محبوب ہے، کیونکہ اس میں اقتدار و حاکمیت، خواہش و مال، غلبہ و مقابلہ — ان سب کی قربانی مانگی جاتی ہے، اور ان کی جگہ تقویٰ، قناعت، خدمت، قربانی اور معرفت کو رکھا جاتا ہے۔ اس لیے نہ سرمایہ دار کو یہ راستہ بھاتا ہے، نہ سوشلسٹ قائد کو، اور نہ ہی مادہ پرست عوام کو۔ یہ وہی “صراط مستقیم” ہے جو تنگ ہے، مشکل ہے، مگر نجات کا واحد راستہ ہے۔

آج کے عالمی بحران، جس میں سیاست بے روح ہے، معیشت ظالم ہے، تعلیم معطل ہے، اور تہذیب بے سمت ہے، اس کا حل نہ کسی ازم میں ہے نہ کسی تحریک میں، بلکہ اس نظامِ ربانی میں ہے جو انسان کو زمین کا خلیفہ، مال کا امین، عدل کا طالب، اور خدا کا عبد بناتا ہے۔ یہ وہ نظام ہے جسے نہ صرف نافذ کرنے بلکہ پہلے خود میں اختیار کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اسلامی انقلاب بندوق سے نہیں، روح سے آتا ہے؛ اور حقیقی نظامِ عدل، کاغذوں سے نہیں، کرداروں سے بنتا ہے۔ یہی وہ ماڈل ہے جو اہلِ بیتؑ نے پیش کیا، اور یہی وہ حقیقت ہے جو سوشلسٹ بھی بھول جاتے ہیں، اور سرمایہ دار بھی۔

اسلامی تاریخ کے وہ صفحات جن پر عدل، شفافیت، اور الٰہی اصولوں کی روشنی میں نظامِ حکومت کے نقوش ثبت ہوئے، ان میں سب سے درخشاں کردار امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالبؑ کا ہے۔ خلافت کا موقع آیا تو آپ نے اسے اقتدار یا مقام کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک الٰہی امانت سمجھا۔ جب حکومت آپ کے ہاتھ آئی تو مدینے سے کوفہ منتقل ہو کر آپ نے عملی طور پر ایک ایسا عادلانہ نظام قائم کیا جس میں نہ کسی کو حسب و نسب کی بنیاد پر رعایت دی گئی، نہ کسی کے سابقہ تعلقات یا خاندانی وقار کو شفافیت کے اصول پر فوقیت دی گئی۔

علیؑ کے دورِ خلافت کا ایک نمایاں واقعہ یہ ہے کہ آپ نے اپنے بھائی عقیل کو بیت المال سے اضافی رقم دینے سے انکار کر دیا، حالانکہ وہ سخت مالی تنگی کا شکار تھے۔ جب عقیل نے اصرار کیا تو آپ نے گرم لوہے کی چھڑی عقیل کے قریب کر کے کہا کہ اگر تم دنیا کی آگ سے ڈرتے ہو تو سوچو میں کیسے خدا کے عذاب سے نہ ڈروں؟ یہ وہ مقام ہے جہاں رشتہ داری، محبت، مروّت سب کچھ عدل کے مقابلے میں ثانوی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔ اسی علیؑ نے جب دیکھا کہ بیت المال سے گندم یا جو میں فرق کیا جا رہا ہے تو حکم دیا کہ سارا مال دوبارہ تقسیم ہو، کیونکہ ان کے نزدیک ریاستی وسائل سب کے لیے برابر تھے۔

ایک اور مشہور واقعہ قاضی شریح کا ہے۔ ایک یہودی کے ساتھ علیؑ کا مقدمہ عدالت میں پیش ہوا۔ علیؑ نے اپنا دعویٰ گواہ کے ذریعے ثابت کرنے کی کوشش کی، مگر چونکہ گواہ ان کے بیٹے حسنؑ تھے، قاضی نے انہیں فریق کا قریبی عزیز ہونے کی وجہ سے مسترد کر دیا۔ علیؑ نے فیصلہ قبول کیا اور مقدمہ ہار گئے، حالانکہ وہ حاکمِ وقت تھے۔ جب وہ یہودی نے یہ منظر دیکھا تو خود کہنے لگا کہ جس دین کا حاکم عدالت میں آ کر مقدمہ ہار جائے، وہی دین برحق ہو سکتا ہے۔ اس واقعے سے نہ صرف قضاوت کی آزادی کا ثبوت ملتا ہے بلکہ حاکمِ وقت کی انکساری اور شفافیت کا بھی اظہار ہوتا ہے۔

امام حسنؑ کا دورِ صلح بھی اس نظام کی عظمت کا مظہر ہے۔ جب آپ نے دشمن کے ساتھ صلح کی تو یہ سیاسی مصلحت نہیں بلکہ امت کی بقا کے لیے ایک اخلاقی فیصلہ تھا۔ آپ نے وہ تمام شرائط منوائیں جو نہ صرف دینی اصولوں کا تحفظ کرتی تھیں بلکہ آئندہ کے لیے ایک محفوظ راستہ بھی فراہم کرتی تھیں۔ انہوں نے اقتدار کی کرسی کو نہیں، امت کے امن کو ترجیح دی، تاکہ خونریزی نہ ہو، اور یہ فیصلہ اپنے دشمن کے باوجود کیا۔

امام حسینؑ نے کربلا میں جو قیام کیا، وہ محض کسی تخت کے لیے نہیں تھا بلکہ اس اصولی مؤقف کے لیے تھا کہ جب باطل نظام دین کے نام پر حاوی ہو جائے، اور ظلم کو شریعت کا لباس پہنا دیا جائے، تو خاموشی خیانت بن جاتی ہے۔ حسینؑ نے فرمایا: ’’میں اس لیے قیام کر رہا ہوں تاکہ امتِ جدمیں اصلاح کروں، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کروں، اور نانا اور بابا کی سیرت پر عمل کروں۔‘‘ کربلا کی جنگ اگرچہ عسکری میدان میں لڑی گئی، مگر اس کی بنیاد سیاسی و اخلاقی نظام کے انحراف کے خلاف تھی۔ حسینؑ نے یزید کو صرف اس لیے مسترد کیا کہ وہ ظاہری مسلمان ہونے کے باوجود ظلم، فساد، اور بدکرداری کی علامت بن چکا تھا۔ حسینؑ کی شہادت نے تاریخ کو بتا دیا کہ خلافت صرف نام یا وراثت سے جائز نہیں ہو جاتی بلکہ اسے عدل، شفافیت، اور خدا ترسی کے تقاضے پورے کرنے ہوتے ہیں۔

امام زین العابدینؑ نے قید و بند اور مظلومیت کے عالم میں بھی عدل و انسانیت کے اصولوں کو سربلند رکھا۔ کوفہ و شام کے درباروں میں ان کا اندازِ خطابت، صبر، اور وقار اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ دین کی اصل قیادت ظاہری جاہ و جلال نہیں بلکہ تقویٰ، علم، اور اخلاقی بلندی سے پہچانی جاتی ہے۔ ان کا صحیفہ، جس میں دعاؤں کے ذریعے روحانی اور سماجی تربیت کی گئی، خود اسلامی نظام کی داخلی شفافیت کا آئینہ ہے۔

امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ نے اپنے علمی دور میں نہ صرف فقہ اور علومِ دین کی تدوین کی بلکہ اسلامی حکومت کی نظریاتی بنیادوں کو بھی واضح کیا۔ جب حکومتی نمائندے، چاہے وہ عباسی ہوں یا اموی، فتاویٰ اور مذہبی جواز کے لیے آپ کی طرف رجوع کرتے تو آپ نے واضح کر دیا کہ حق وہی ہے جو قرآن اور نبی کی سنت سے مطابقت رکھتا ہو، اور کوئی دنیاوی طاقت یا منصب اس حق میں تبدیلی نہیں لا سکتا۔ امام صادقؑ کے متعدد اصحاب نے جب سرکاری مناصب میں کام کیا تو ان پر تنبیہ کی گئی کہ اگر وہ کسی ظالم نظام کی مدد کریں گے تو وہ دین میں خیانت کے مرتکب ہوں گے۔

ان تمام واقعات اور کرداروں کا ایک ہی پیغام ہے: کہ اسلامی حکومت صرف اس وقت حقیقی ہوتی ہے جب اس کا ہر عمل خدا کی رضا، عدل، شفافیت، انسانی کرامت، اور آخرت کی جوابدہی کے اصولوں پر استوار ہو۔ یہ نظام اقتدار کی جنگ نہیں، روح کی تربیت اور سماج کی اصلاح کا ذریعہ ہے۔ یہی وہ نظام ہے جو نہ صرف فساد کا واحد حل ہے بلکہ انسانیت کی نجات کا راستہ بھی، بشرطیکہ اسے محض تاریخی روایت نہ سمجھا جائے بلکہ عملی اصول کے طور پر اپنایا جائے۔

اسلامی نظام جب بھی اپنی اصل پر قائم ہوا، وہ نہ صرف ظاہری انصاف اور سماجی مساوات کا ضامن رہا بلکہ اندرونی طہارت، نیت کی پاکیزگی، اور حکومتی شفافیت کا بھی اعلیٰ ترین معیار بنا۔ اس میں نہ طبقاتی اجارہ داری تھی، نہ سرمایہ دارانہ سیاست، نہ لبرل نعرے، اور نہ سوشلسٹ فریب۔ اس میں صرف ایک چیز تھی: خدا کی بندگی اور مخلوق کی خدمت۔ یہی وہ نظام ہے جو آج بھی واحد حل ہے، بشرطیکہ اس کی اصل پہچانی جائے، اس کے تقاضے قبول کیے جائیں، اور اسے محض نظریاتی یادگار کے طور پر نہیں بلکہ عملی ماڈل کے طور پر اپنایا جائے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2206

ٹیگز

تبصرے