بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
قیام اور سکوت، یعنی حق کے لیے اٹھ کھڑے ہونے یا وقتی خاموشی اختیار کرنے کا فیصلہ ایک الٰہی قائد یا معصوم امام یا فقیہ بصیر کے لیے کبھی بھی وقتی جذبات یا محض عددی قوت کی بنیاد پر نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک عمیق دینی، سماجی، اور نفسیاتی تجزیے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ قرآن، روایات اور سیرت اہل بیتؑ ہمیں سکھاتی ہے کہ قیام کا فیصلہ اس وقت کیا جاتا ہے جب “حجت” خدا کی طرف سے تمام ہو جائے، اور قیادت کو وہ مخلص، بافہم، باعزم اور قربانی کے لیے تیار افراد میسر آ جائیں جو صرف مقصد کے لیے جیتے ہوں، نہ کہ جذباتی ہجوم، بے بصیرت نعرے یا وقتی جذبات۔
قرآن مجید میں حضرت موسیٰؑ کا واقعہ (سورہ مائدہ 5:24-26) اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ بنی اسرائیل کی نجات کے لیے قیام کا امکان اس وقت موقوف ہو گیا جب قوم نے کہا: “اے موسیٰ! جب تک وہ لوگ اس سرزمین میں موجود ہیں ہم ہرگز داخل نہ ہوں گے، تم اور تمہارا رب جا کر لڑو، ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔” موسیٰؑ نے اللہ سے دعا کی اور فرمایا: “میں اپنے اور اپنے بھائی کے سوا کسی پر اختیار نہیں رکھتا، پس ہمارے اور فاسق قوم کے درمیان جدائی ڈال دے۔” اللہ نے فرمایا کہ اب چالیس سال یہ قوم بھٹکتی رہے گی۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر قیادت کو سچے ساتھی نہ ملیں تو الٰہی حکم بھی ملتوی ہو سکتا ہے۔ حجت قائم ہو چکی تھی مگر مخلصین مفقود تھے۔
امام حسینؑ نے مدینہ سے مکہ اور پھر کربلا تک سفر کا آغاز اس وقت کیا جب صورتِ حال ایسی بن چکی تھی کہ قیام نہ کرنا ذلت، دین کی موت اور امامت کا انکار بن جاتا۔ لیکن مکہ سے کربلا تک ہر قدم مشورہ، موازنہ، بصیرت اور آزمائش سے بھرا تھا۔ امام نے وہاں بھی اس وقت جنگ کا آغاز کیا جب دشمن نے بیعت کا تقاضا تلوار کی نوک پر کیا اور امام کے لیے سکوت ممکن نہ رہا۔ اس سے پہلے وہ بارہا فرمایا کرتے تھے: اگر مجھے امان دی جائے تو میں کسی سرحد کی طرف چلا جاتا ہوں تاکہ امت رسول کو فتنے سے بچایا جا سکے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ امام قیام کو آخری چارہ سمجھتے تھے، اور قیام کے لیے شرط “امت میں بیداری اور قربانی کی آمادگی” تھی، نہ کہ محض جوش یا جذبہ۔
سیرت امیرالمومنین علیؑ میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ خلافت کے بعد جب طلحہ و زبیر نے بغاوت کی اور جنگ جمل کی نوبت آئی، تو امام علیؑ نے ان افراد سے بارہا بات کی، دلائل دیے، خطوط لکھے، حتیٰ کہ میدان جنگ میں بھی نصیحت کی۔ مگر جب وہ باز نہ آئے اور حق کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے، تب امام نے قیام کیا۔ یہاں امام کے لیے حجت اس وقت تمام ہوئی جب مخالفین نے فساد کو اپنا علَم بنا لیا اور حق کے مقابل صف آرا ہو گئے۔ لیکن اس کے برعکس خلافت سے پہلے کے 25 سال امام علیؑ نے سکوت اختیار کیا کیونکہ قیام کا مطلوبہ ماحول اور افراد نہ تھے۔ وہ خود فرماتے ہیں: “اگر نہ ہوتا یہ عہد اللہ کا جو علماء سے لیا گیا ہے کہ وہ ظالم کی شکم سیری اور مظلوم کی بھوک پر خاموش نہ رہیں، تو میں خلافت کی رسی کو اسی طرح چھوڑ دیتا جیسے اونٹ کی نکیل کو گردن سے کھسکا دیا جاتا ہے۔”
الٰہی قیادت کے لیے سکوت اس وقت مشروع ہوتا ہے جب قیام نقصان دہ ہو، جب فتنے کی شکل میں حق کی پہچان کھو جائے، جب مخلص افراد کی تعداد اتنی کم ہو کہ نظام ظہور و اقامتِ دین ممکن نہ ہو سکے، یا جب قوم میں جہالت غالب ہو اور نیتیں پراگندہ ہوں۔ سکوت انبیاء و اوصیاء کا استحکام ہے نہ کہ کمزوری، کیونکہ وہ اصولوں پر مبنی ہوتا ہے۔ امام صادقؑ کی طویل خاموشی، امام زین العابدینؑ کی دعا و تربیت پر مشتمل تحریک، امام حسنؑ کی صلح — سب اسی بنیاد پر تھے۔
اب سوال یہ ہے کہ جب الٰہی قائد پر حجت تمام ہوتی ہے تو کن صفات کے افراد موجود ہونے چاہئیں؟ سب سے پہلے بصیرت، یعنی حق و باطل کو زمانے کے فتنوں کے پردوں میں پہچاننے کی صلاحیت۔ دوم اخلاص، یعنی مقصد صرف خدا ہو، نہ اپنی قیادت، نہ فرقہ، نہ شہرت۔ سوم وفا، یعنی آزمائش میں پیچھے نہ ہٹنا۔ چہارم استقامت، یعنی سختیوں اور ناکامیوں کے باوجود مقصد سے پیچھے نہ ہٹنا۔ پنجم قربانی، یعنی مال، وقت، جان حتیٰ کہ سماجی تعلقات کو بھی خدا کے لیے چھوڑنے کا حوصلہ۔ جب یہ لوگ موجود ہو جائیں اور ان کی تعداد اتنی ہو جائے کہ قیادت ان کے ذریعے اپنے مقاصد کو عملی سطح پر نافذ کر سکے، تب حجت تمام ہو جاتی ہے اور قیام نہ کرنا جرم بن جاتا ہے۔
کسی قائد کے لیے قیام کی شرائط میں ایک طرف داخلی طور پر ان کے ماننے والوں کی تربیت، خلوص، اتحاد اور فہم شامل ہے، تو دوسری طرف خارجی حالات جیسے ظلم کی شدت، معاشرے میں ظلم پر خاموشی، یا حق کی صورت مسخ ہونے کا خطرہ شامل ہوتا ہے۔ یہ سب عوامل مل کر الٰہی حجت کو کامل کرتے ہیں اور اس وقت قیادت اگر خاموش رہے تو وہ ذمہ دار ٹھہرتی ہے۔ لیکن جب یہ عناصر غائب ہوں تو سکوت بذات خود ایک الٰہی فریضہ بن جاتا ہے۔
اس پوری بحث سے نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ قیام و سکوت کا فیصلہ جذبات کا نہیں، بلکہ بصیرت کا فیصلہ ہے۔ اور الٰہی قیادت، چاہے معصوم ہو یا فقیہ، اس فیصلہ کو فقط خدا کی رضا اور مخلوق کی ہدایت کی بنیاد پر کرتی ہے۔ ان کے لیے قیام اس وقت فرض ہوتا ہے جب قوم “یا لیتنا کنا معکم” کے نعرے سے بڑھ کر “انا معک” کہنے کے مقام پر آ چکی ہو۔
