بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
مقصدِ حیات کا سوال انسان کی فطرت سے جڑا ہوا ہے۔ ہر انسان، چاہے وہ کسی بھی خطے، مذہب یا معاشرت سے تعلق رکھتا ہو، اپنے وجود کی حقیقت کو جاننے کے لیے کبھی نہ کبھی ضرور متفکر ہوتا ہے۔ یہ سوال کہ “میں کون ہوں؟ کہاں سے آیا ہوں؟ کیوں آیا ہوں؟ اور کہاں جانا ہے؟” دراصل وہی سوال ہے جو انسان کو کسی نہ کسی مقام پر جھنجھوڑ کر بیدار کرتا ہے، اور یہی بیداری دراصل زندگی کے اصلی سفر کی شروعات ہوتی ہے۔
اسلامی نقطۂ نظر سے مقصدِ حیات اللہ کی بندگی اور اس کے بتائے ہوئے نظام کے مطابق زندگی گزارنا ہے۔ قرآن مجید میں واضح الفاظ میں بیان ہوا: “وَما خَلَقتُ الجِنَّ وَالإنسَ إلّا لِيَعبُدونِ” یعنی “ہم نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے”۔ لیکن یہ عبادت صرف نماز، روزہ اور ظاہری عبادات تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ زندگی ہے جس میں ہر پہلو، چاہے وہ تعلیم ہو، معیشت ہو، سیاست ہو یا معاشرت، سب اللہ کی اطاعت اور رضائے الٰہی کے تحت آتے ہیں۔
انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے اہداف اس شعور کے ساتھ طے کرے کہ وہ دنیا میں آزمائش کے لیے آیا ہے اور اس کا ہر عمل اس کی آخرت پر اثر انداز ہوگا۔ اسے یہ جان لینا چاہیے کہ کامیابی کا مطلب صرف مادی ترقی، شہرت یا دولت نہیں بلکہ کامیابی اس میں ہے کہ وہ اپنے رب کو راضی کرے اور اہل بیتؑ کے نقش قدم پر چل کر ایک پاکیزہ، با مقصد اور با اثر زندگی گزارے۔ یہی وہ راستہ ہے جو اسے نہ صرف دنیا میں عزت عطا کرتا ہے بلکہ آخرت میں نجات بھی۔
اہل بیتؑ علیہم السلام کی معرفت درحقیقت دین کی روح ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، کتاب اللہ اور میری عترت، اہل بیتؑ۔ یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے آ ملیں۔” اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن کی سمجھ بھی اہل بیتؑ کے در سے وابستہ ہے۔ معرفتِ اہل بیتؑ حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلا قدم ان کی سیرت کا مطالعہ ہے۔ ہمیں ان کی زندگیوں کے واقعات کو صرف تاریخی کہانیاں سمجھ کر نہیں بلکہ رہنمائی کے دستور کے طور پر پڑھنا ہوگا۔
جب ہم امام علیؑ کی عدالت، ان کی زہد و شجاعت، امام حسنؑ کی صلح میں حکمت، امام حسینؑ کی قربانی میں دین کی بقا، امام زین العابدینؑ کے صحیفہ میں مناجات، امام باقرؑ کی علمی گہرائی، امام جعفر صادقؑ کی تدریسی حکمت، اور بقیہ آئمہ معصومینؑ کی حیات میں دشمن کے مقابل صبر، تقویٰ، عزتِ نفس، اور دین کی حفاظت کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اپنی زندگی کے ہر مرحلے میں رہنمائی ملتی ہے۔
اہل بیتؑ کی معرفت محض محبت تک محدود نہیں بلکہ محبت کے تقاضے کو نبھانا یعنی ان کے نقش قدم پر چلنا اصل معرفت ہے۔ ہم زبان سے یا حسینؑ کہیں، یا علیؑ کے نعرے لگائیں لیکن اگر ہمارا کردار ظلم سے سمجھوتا کرے، ہماری تجارت دھوکہ پر ہو، ہمارا علم غرور کا ذریعہ ہو، ہماری زندگی مقصد سے خالی ہو، تو یہ محض جذبات ہیں، جن کا اہل بیتؑ کے مشن سے کوئی تعلق نہیں۔ اہل بیتؑ ہمیں بتاتے ہیں کہ معرفت عمل کے بغیر ادھوری ہے۔
زندگی کو اہل بیتؑ کے بتائے ہوئے طریقے سے گزارنے کے لیے سب سے پہلے ہمیں اپنی نیتوں کو خالص کرنا ہوگا۔ ان کی تعلیمات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ انسان کی سب سے بڑی طاقت اس کا تقویٰ ہے۔ ان کی زندگی سادگی، سخاوت، عدل، حلم، صداقت، دیانت، اور علم سے عبارت ہے۔ ہمیں اپنی زندگی میں ان اوصاف کو شامل کرنا ہوگا۔ عبادات، معاملات، اخلاق، حتیٰ کہ دشمنوں سے بھی ہمارا سلوک ایسا ہو کہ وہ گواہی دیں کہ یہ اہل بیتؑ کے ماننے والے ہیں۔
اہل بیتؑ کے طریقے سے زندگی گزارنے کے لیے ہمیں تعلیم حاصل کرنی ہوگی، نہ صرف دینی بلکہ دنیاوی علوم بھی تاکہ ہم امت کے مسائل کو سمجھ کر ان کا حل تلاش کر سکیں۔ ہمیں ظالم نظاموں کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنی نسل کو یہ شعور دینا ہوگا کہ وہ صرف ایک کامیاب انسان نہیں بلکہ ایک باوقار، صاحبِ معرفت، اور اہل بیتؑ کے مقصد کے محافظ بنیں۔ ہمیں سچ بولنا ہوگا، عدل کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، جھوٹے لبادوں سے باہر نکل کر صداقت کی راہ پر چلنا ہوگا۔
مقصدِ حیات یہی ہونا چاہیے کہ ہم معرفتِ خدا اور معرفتِ امام زمانہؑ حاصل کریں، اور اس معرفت کو عمل میں تبدیل کرکے ایک ایسی زندگی گزاریں جس پر ہمارے امامؑ اگر نظر ڈالیں تو ہم شرمندہ نہ ہوں بلکہ ان کی سپاہ کا ایک چھوٹا سا پرزہ بننے کے قابل ہوں۔ زندگی اس وقت کامیاب ہے جب وہ امامؑ کے مشن کی خدمت کرے، ورنہ وہ محض وقت کا ضیاع ہے۔
کسی بھی قوم یا امت کے اجتماعی اہداف کا حصول تبھی ممکن ہوتا ہے جب اس کے افراد، خواہ وہ مختلف سماجی پس منظر، تعلیم، معاشرتی درجے، یا مذہبی و فکری گروہوں سے تعلق رکھتے ہوں، ایک مشترکہ روحانی و اخلاقی مرکز پر متحد ہوں۔ اسلامی تعلیمات، خاص طور پر اہل بیت علیہم السلام کی روشنی میں، یہی بتاتی ہیں کہ اصل بنیاد معرفت ہے، اور معرفت وہ نور ہے جو فطرتِ انسانی کے اندر پہلے ہی سے ودیعت کیا گیا ہے۔ اس نور کو جگانے کے لیے صرف فکری رابطہ نہیں بلکہ قلبی بیداری بھی ضروری ہے۔
جب معاشرہ مختلف طبقات، زبانوں، ثقافتوں اور مسلکی تنوع پر مشتمل ہو تو بظاہر یہ انتشار کا سبب لگتا ہے، لیکن اگر ان سب کو ایک اعلیٰ تر اور جامع مقصد کے تحت منظم کیا جائے تو یہی تنوع طاقت بن سکتا ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ہم انسان کو اس کی اصل حیثیت سے پہچنوائیں، یعنی وہ ایک عبد ہے، مخلوق ہے، اور اس کے اندر حق و باطل کو پہچاننے کی صلاحیت ہے۔ یہ شعور سب کے اندر جگایا جا سکتا ہے، چاہے وہ ایک ان پڑھ دیہاتی ہو یا کسی یونیورسٹی کا پروفیسر، ایک مزدور ہو یا صنعتکار، ایک صوفی ہو یا فلسفی۔
مقصدِ حیات کو سب کے لیے قابلِ فہم بنانے کے لیے لازم ہے کہ دین کو طبقاتی زبان سے نکال کر انسانی فطرت کی زبان میں بیان کیا جائے۔ مثال کے طور پر جب امام حسینؑ نے کربلا میں فرمایا کہ “میں اصلاحِ امتِ جدی کے لیے نکلا ہوں”، تو یہ اصلاح کسی خاص فرقے، قبیلے، یا معاشرتی گروہ کے لیے نہ تھی بلکہ پوری انسانیت کی فطری ضرورت تھی۔ ہر وہ انسان جو ظلم، دھوکہ، جبر، حرص، غرور، اور بے معنویت کے خلاف لڑنا چاہتا ہے، وہ اس پیغام سے جڑ سکتا ہے۔
تعلیم اور شعور کی سطح مختلف ہو سکتی ہے، لیکن اگر زبان و انداز کو ہر گروہ کی سمجھ کے مطابق ڈھالا جائے تو ایک عام دکاندار کو بھی امامؑ کی قربانی کا مقصد سمجھ آ سکتا ہے، اور ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ دانشور کو بھی۔ ہمیں ہر طبقے تک ان کی زبان، ان کے انداز، اور ان کے رجحانات کے مطابق بات پہنچانی ہے۔ یہی اہل بیتؑ کا طریقہ تھا۔ کبھی وہ محراب میں علم کی بارش کرتے تھے، کبھی غلام سے بات کرکے اخلاق سکھاتے تھے، کبھی دشمنوں کو حلم و کرم سے رام کرتے تھے، اور کبھی مناظرے میں عقل کو قائل کرتے تھے۔
سماجی مقام کی تفریق کو مٹانے کا سب سے مؤثر ذریعہ عملی اخلاق اور خدمت ہے۔ اگر ایک دینی کارکن یا داعی اپنے قول و عمل میں مخلص ہو، اور کسی امیر و غریب، شیعہ و سنی، عالم و جاہل کے درمیان فرق نہ کرے بلکہ ان سب کے سامنے خود کو عبدِ خدا اور خادمِ خلق سمجھے، تو دلوں کے بند دروازے کھلتے ہیں۔ جب ہم کسی کے دکھ میں شریک ہوتے ہیں، اس کی ضرورت کو سمجھتے ہیں، اس کی عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہیں، تو ہم وہ دروازے کھولتے ہیں جہاں سے پیغامِ اہلبیتؑ رسائی حاصل کرتا ہے۔
مذہبی و فرقہ وارانہ تنوع کو دشمنی کا ذریعہ بنانے کے بجائے ہم اسے حقیقت کے شعور تک پہنچنے کا وسیلہ بنائیں۔ اہل بیتؑ کا طریقہ یہ نہیں تھا کہ وہ دوسروں کو صرف ظاہری اختلاف پر رد کرتے، بلکہ وہ انسانوں کو ان کی فطرت، نیت، اور سچ کی تلاش پر پرکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے چاہنے والے نہ صرف اہل تشیع میں تھے بلکہ اہل سنت، زاہدین، صوفیاء، اور عام لوگ بھی ان کی عظمت کو تسلیم کرتے تھے۔ ہمیں بھی یہی حکمت اپنانی ہوگی۔ کسی کو دشمن نہ سمجھا جائے بلکہ ایک بھولا ہوا بھائی تصور کیا جائے جو اپنی اصل سے دور ہو چکا ہے۔
ان سب کے ساتھ ایک اور ضروری نکتہ یہ ہے کہ ہر فرد کو اپنی جگہ ایک “مرکزِ تبدیلی” بننے کا شعور دیا جائے۔ وہ گھر ہو یا مدرسہ، مسجد ہو یا بازار، فیکٹری ہو یا میڈیا، سب میں اپنے مقام پر ایک اصلاحی اور ایمانی تحریک کا بیج بویا جائے۔ اس کام کے لیے ہمیں صرف کتابیں یا خطبے نہیں بلکہ زندہ مثالیں، روابط، اور تربیتی تسلسل کی ضرورت ہے۔ ہر فرد، اپنے ظرف، تعلیم، مقام اور دائرہ اثر کے مطابق اس مقصد کا ایک کارکن بن سکتا ہے۔
جب ہم ہر انسان کو مخاطب کریں، اس کی عزتِ نفس کو مجروح کیے بغیر، محبت، حکمت، اور خدمت کے ساتھ، اور مقصدِ زندگی کو اہل بیتؑ کی روشنی میں ایک جیتا جاگتا ہدف بنائیں، تو تب ایک ایسا معاشرہ جنم لیتا ہے جس میں تنوع باہمی احترام میں بدل جاتا ہے، فکری اختلاف تعلیم و حکمت کا دروازہ بن جاتا ہے، اور ہر دل سے لبیک یا حسینؑ کی صدا نکلتی ہے، جس کا مطلب صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک جہت ہے، ایک شعور ہے، اور ایک راستہ ہے امامِ زمانہؑ کی نصرت کا۔
الٰہی ہمیں اس حکمت، وسعتِ نظر، محبت، استقامت، اور اخلاص کی توفیق دے کہ ہم ہر دل کو تیرے ولی کی طرف موڑ سکیں، چاہے وہ کسی بھی قوم، قبیلے یا طبقے سے ہو۔ الٰہی ہمیں مقدس ہستیوں کی معرفت عطا فرما، ان کی اطاعت کی توفیق دے، اور ان کے ظہور کے لیے ہمیں انصارِ صادق بنا۔ آمین یا رب العالمین۔
