جب شاہ عباس مشہد کی طرف جا رہے تھے، راستے میں انہوں نے قافلے میں شریک دونوں بزرگوں کو آزمانے کا ارادہ کیا۔
اُنہوں نے شیخ بہائیؒ سے کہا
“دیکھیں! میر داماد کیسے نکمّے ہیں، اُن کا گھوڑا ہمیشہ پیچھے رہ جاتا ہے۔”
شیخ بہائیؒ نے شاہ عباس کو جواب دیا
“ان کے گھوڑے پر علم و معرفت کا پہاڑ سوار ہے، اتنا وزن گھوڑا کیسے برداشت کرے؟”
تھوڑی دیر بعد شاہ عباس میر دامادؒ کے پاس پہنچے اور میر داماد کہنے لگے کہ
“جناب شیخ بہائی تو بلکل بھی لحاظ نہیں کرتے، ہمیشہ اپنے گھوڑے کے ساتھ آگے آگے دوڑتے رہتے ہیں۔”
میر دامادؒ نے شاہ عباس کی بات سنکر جواب دیا
“اُن کا گھوڑا خوشی سے دیوانہ ہو رہا ہے کہ ایک عظیم انسان جیسے شیخ بہائی اُس پر سوار ہیں، اسی جوش و شوق میں اڑنے کو تیار ہے اور دوڑے جارہا ہے!”
سبق اور پیغام
جب دوست غیر موجود ہو، اُس کی عزت، آبرو اور اس کی شخصیت کی حفاظت کی جائے۔
حدیثِ معصومؑ ہے کہ
جو شخص کسی مجلس میں اپنے مؤمن بھائی کی غیبت سنے اور اس کی طرف سے دفاع کرے، اللہ تعالیٰ اس سے دنیا و آخرت کی ہزار برائیاں دور کر دیتا ہے۔
(وسائل الشیعہ، ج ۸، ص ۶۰۷)
“دوستی کا اصل کمال یہ نہیں کہ ہم ایک دوسرے کی موجودگی میں عزت کریں، بلکہ اصل امتحان یہ ہے کہ ہم اس کی غیر موجودگی میں بھی اُسکی عزت کو قائم رکھیں!
ھیھات_من_الذلۃ
اﻟﻠَّﻬُﻢَّ ﺻَﻞِّ ﻋَﻠٰﻰ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭﺁﻝِ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭﻋَﺠِّﻞْ ﻓَﺮَﺟَﻬُﻢْ
