حوزہ علمیہ کے ممتاز استاد، حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا علی اصغر سیفی حفظہ اللہ نے اپنی حالیہ مجلس میں انتہائی اہم اور بیدار کن انداز میں توحید کی اصل روح اور اس کے عملی تقاضوں پر گفتگو فرمائی۔ آپ نے واضح کیا کہ:
توحید صرف زبانی دعویٰ کا نام نہیں، بلکہ عملی میدان میں مکمل بھروسے اور اعتماد کا نام ہے۔
مولانا نے فرمایا:
توحید یہ نہیں کہ زبان سے کہہ دیا جائے کہ میں اللہ کو واحد مانتا ہوں، اور عملی زندگی میں ہر جائز و ناجائز ذریعے سے کام نکالنے کی کوشش کی جائے۔ توحید یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے ہر شعبے میں صرف اللہ پر بھروسہ کرے، اور اپنے تمام کاموں میں اسی سے مدد طلب کرے۔
آپ نے سورہ حج کی آیت پیش کی:
ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْبَاطِلُ
(یہ سب اس لیے ہے کہ اللہ ہی حق ہے، اور اس کے سوا جنہیں تم پکارتے ہو وہ سب باطل ہیں)
آپ نے فرمایا کہ:
جب انسان اپنے مقصد تک پہنچنے کے لیے جھوٹ، دھوکہ، فریب یا ناجائز طریقے اپناتا ہے تو وہ عملاً باطل سے مدد لے رہا ہوتا ہے، اور یہ توحید کے سراسر خلاف ہے۔
آپ نے ایک جملے میں توحید کا اثر یوں بیان کیا:
اہل توحید کی سب سے بڑی نشانی صداقت ہے۔
جھوٹ، دوغلا پن، فریب، رشوت، چاپلوسی جیسے اعمال اس بات کی علامت ہیں کہ انسان کی توحید ابھی مکمل نہیں ہوئی۔
آپ نے سورہ فاتحہ کے اس مرکزی پیغام کو بھی واضح کرتے ہوئے فرمایا:
“کیا یہ ممکن ہے کہ زبان سے کہو: ایاک نعبد و ایاک نستعین (ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں) اور عملاً مدد جھوٹ، مکر، چاپلوسی یا دنیا پرستی سے لی جائے؟”
آخر میں مولانا نے فرمایا:
“آج ہمارے فردی و اجتماعی تمام مسائل، برائیاں، مظالم اور بےچینیاں — سب کی اصل جڑ توحید سے دوری ہے۔”
ہم اگر اپنے عقائد، اخلاق اور اعمال کو سچے توحید پر استوار کر لیں، تو یہی عقیدہ ہمیں ظلم سے، جھوٹ سے، فریب سے اور دنیا پرستی سے نجات دلا سکتا ہے۔
