43

2006 نہیں بھولیں گے سامرہ پر حملہ – ایمان کے لیے لمحۂ فکریہ

  • نیوز کوڈ : 2169
  • 18 July 2025 - 13:40
2006 نہیں بھولیں گے سامرہ پر حملہ – ایمان کے لیے لمحۂ فکریہ

2006 نہیں بھولیں گے سامرہ پر حملہ – ایمان کے لیے لمحۂ فکریہ

 تحریر: مولانا سید عمار حیدر زیدی

“23 محرم 2006″… یہ صرف ایک تاریخ نہیں، ایک زخم ہے — ایسا زخم جو امت مسلمہ کے شعور، غیرت اور عقیدت کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔

اسی دن عراق کے شہر سامرہ میں واقع عظیم المرتبت ہستیوں، امام علی نقی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے روضہ مقدس پر بزدلانہ حملہ کیا گیا۔ دہشت گردوں نے ان ہستیوں کے قبے کو بم دھماکے سے اڑا دیا۔ ان کا جرم؟ بس یہی کہ وہ “ذریۃ رسول” تھے، وہ جنہوں نے دین کو زندہ رکھا، باطل کو للکارا، علم و عرفان کی شمعیں روشن کیں۔

یہ پہلا حملہ نہ تھا، اور افسوس کہ آخری بھی نہ رہا۔ سامرہ کے بعد وہی فتنہ، وہی سیاہ ذہنیت شام میں حضرت زینبؑ کے روضے پر چڑھ دوڑی۔ پھر رسولؐ کے وفادار صحابی، حجر بن عدیؓ کی قبر کو بھی نہ بخشا گیا۔ گویا ان درندوں کو نہ نسل رسول سے سروکار ہے، نہ اصحاب رسول سے۔ یہ اسلام کی جڑیں کاٹنے والے، وحدت کو پارہ پارہ کرنے والے لوگ ہیں۔

سوال یہ ہے:

“امت مسلمہ کہاں کھڑی ہے؟”

قرآن ہمیں حکم دیتا ہے:

> “قُل لّا أسألكم عليه أجراً إلّا المودّة في القربىٰ”

(الشورىٰ: 23)

مگر ہم نے اس محبت کو صرف میلاد کی محفلوں، یا زبانوں تک محدود رکھا۔ جب ان کے مزارات اڑائے گئے، ہم نے مذمتی بیان سے زیادہ کچھ نہ کیا۔

جو امت آج اجرِ رسالت کو بھول بیٹھی ہے، جو آل محمدؐ کی قبروں کی حرمت کا دفاع نہیں کر سکتی، وہ کس منہ سے شفاعت کی امید رکھے گی؟

کیا ہم ان سے شفاعت کی امید رکھتے ہیں جن کی قبریں ہم نے خاموشی سے اڑتے دیکھی؟

کیا زینبؑ ہمیں پہچانیں گی جب ہم ان کے روضے کی پامالی پر بھی خاموش رہے؟

یہ حملے اہل تشیع یا اہل سنت پر نہیں، یہ اسلام پر حملے ہیں۔ سامرہ کی اینٹیں چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ “ہمیں دشمن نے نہیں گرایا، تم نے ہمیں بچایا نہیں!”۔

امت کو چاہیے کہ:

مکتبِ اہل بیتؑ کو سیاسی نہیں، اسلامی اساس سمجھیں

قبور کی حرمت کو مذاہب سے بالا ہو کر اسلامی فریضہ سمجھیں

سامرہ، زینبیہ، جنت البقیع… ہر مقام کو حرمت دین کا قلعہ سمجھیں

2006 کا سامرہ آج بھی پکار رہا ہے:

“مسلمانو! رسول کی اولاد کے ساتھ یہ سلوک؟ یہ تمہارا اجر رسالت ہے؟”

اٹھو، سنبھلو، اور ان مقاماتِ مقدسہ کے دفاع کو اپنی غیرتِ ایمانی کا معیار بناؤ۔

اگر آج خاموش رہے، تو کل شاید مدینہ و مکہ بھی محفوظ نہ رہیں۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2169

ٹیگز

تبصرے