39

شام میں جاری حالیہ جنگ: دو بڑے منصوبوں کے مابین تصادم

  • نیوز کوڈ : 2175
  • 18 July 2025 - 14:01
شام میں جاری حالیہ جنگ: دو بڑے منصوبوں کے مابین تصادم

شام میں جاری حالیہ جنگ: دو بڑے منصوبوں کے مابین تصادم

تحریر: ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی

شام میں جاری حالیہ جنگ درحقیقت دو بڑے منصوبوں کے مابین جنگ ہے۔

ایک طرف اسرائیلی منصوبہ اور دوسری طرف ترکی و اخوانی منصوبہ۔

اسرائیلی منصوبہ کیا ہے؟

اسرائیلی منصوبہ یہ ہے کہ شام کو اور خطے کے ممالک کو چھوٹے چھوٹے اور کمزور ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ شام کے کچھ علاقوں پر کردوں کی حکومت ہو اور کچھ علاقوں پر علویوں کی حکومت ہو اور کچھ علاقوں پر درزیوں کی حکومت ہو اور کچھ علاقوں پر سنی حکومت ہو اور ان تمام چھوٹی چھوٹی حکومتوں کی پناہ گاہ اسرائیل ہو اور کوئی اسرائیل کے سامنے سر بھی نہ اٹھا سکے؛ سب بے بس، ذلیل اور تسلیم شدہ ہوں۔

ترکی کا منصوبہ کیا ہے؟

خطے کے تمام تر علاقے جو کبھی سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھے۔ رجب طیب اردغان اور ان کے اتحادی تکفیری مسلح گروہوں کا منصوبہ، ان سب علاقوں کو ترکی کے زیر تسلط لانا۔ اور تمام دینی و مذہبی اقلیات کا قلع قمع کرنا۔ انہیں جینے اور زندگی گزارنے کے حق سے محروم کرنا۔ انہیں عبید اور غلام بنا کر رکھنا۔ ان کی تحقیر و تذلیل کرنا۔ انہیں قتل و غارت کے ذریعے اور یا ہجرت پر مجبور کر کے انہیں ختم کر دینا۔

ترکی منصوبے کا عملی نمونہ: شام میں تباہی

اس کا عملی نمونہ بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد شام پر حاکم موجودہ حکمرانوں کا رویہ ہے۔ علوی علاقوں کو پہلے نہتہ کیا گیا اور عوام کو تکفیری دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ پھر وہاں پر قتل و غارت شروع کی گئی۔ عزتیں لوٹیں اور لوگوں کو زندہ جلایا گیا۔ بچے، بوڑھوں اور خواتین کو معاف نہیں کیا۔ ماؤں کے سامنے ان کے بچوں کو ذبح کیا گیا۔

جس علاقے میں حکومت کے حمایت یافتہ یا کارندے جاتے، وہاں سب جوانوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرتے۔ پھر ان کے کپڑے اتار کر ان پر طرح طرح کا تشدد کرتے۔ انہیں ذلیل و رسوا کرنے کے تمام حربے آزماتے، کتوں، گدھوں و دیگر حیوانات کی بولیاں بلواتے۔ ننگی گالیاں دیتے اور ان کے دین و مذہب پر سب و شتم کرتے۔ پھر آخر میں کچھ نوجوان اور خواتین کو گرفتار کر کے لے جاتے، اور کچھ پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دیتے۔

اور ایسے واقعات علویوں اور عیسائیوں اور بعض شیعہ نشین علاقوں میں گذشتہ چند ماہ سے مسلسل ہو رہے ہیں۔ جیلیں علوی، شیعہ و عیدائی مذہب کے لوگوں سے بھر چکی ہیں۔ فقط شیعہ علماء نہیں، ان کی فکر کے مخالف سنی علماء کو بھی قتل کیا گیا ہے۔ ہزاروں پروفیسرز، سائنسدان، ڈاکٹر و افسران قتل ہو چکے ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں شیعہ، علوی و عیسائی ہجرت کر چکے ہیں؛ وہ ہمسایہ ممالک یا پھر دنیا بھر میں جہاں جا سکتے تھے، وہاں کی طرف ہجرت کر چکے ہیں۔

درزی علاقوں کا پس منظر

اب ایک علاقہ سوریہ میں بچا تھا جہاں پر اکثریتی آبادی درزی مسلمانوں کی ہے۔ یہ سوریہ کے جنوب مشرق میں واقع سویداء نامی صوبہ ہے۔ درزی مذہب کے لوگ فلسطین، لبنان اور شام کے علاقوں میں آباد ہیں۔

بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد ان کے روحانی لیڈر حکمت ہِجری نے نئی حکومت کے سربراہ احمد الشرع الجولانی سے دمشق جا کر ملاقات کی۔ اور حکومت کو تسلیم کیا، لیکن ان کی شرط تھی کہ جب تک ملک کا نیا دستور و آئین نہیں بنتا اور انتخابات کے ذریعے آئینی و قومی حکومت نہیں آتی، اور نئی فوج تشکیل نہیں پاتی اور جب تک ملک کے عوام ان تکفیری مسلح گروہوں کے رحم و کرم پر ہیں، ہم اپنا اسلحہ تسلیم نہیں کریں گے۔ اور اپنی جان و مال و ناموس کی حفاظت خود کریں گے۔ کیونکہ وہ باقی اقلیتوں کا حشر دیکھ چکے تھے۔

سویداء پر چڑھائی اور اسرائیلی ردعمل

علوی ساحلی علاقوں میں قتل و غارت و تباہی اور جلانے کے بعد حکومت نے سویداء صوبہ پر اپنا تسلط قائم کرنے کے لیے عرب بدو سنی قبائل کو پہلے بھیجا، پھر اس کے بعد حکومتی فورسز بھی پہنچنا شروع ہوگئیں۔

تکفیری لشکروں نے اس صوبے کے خلاف جنگ کے لیے پورے ملک سے اس کی طرف رخ کیا۔ شمال، جنوب و مشرق ہر طرف سے جنگجو تکفیری رجز خوانی کرتے ہوئے اس درزی علاقے کو فتح کرنے کے لیے روانہ ہوئے۔

مقبوضہ فلسطین کے درزیوں کی ایک بڑی تعداد اسرائیلی فوج کا حصہ بھی ہے۔ درزیوں نے اسرائیل سے مدد مانگی۔ اسرائیل نے جولانی حکومت کو تنبیہ کی کہ وہ درزی علاقوں پر چڑھائی نہ کرے، لیکن جب سویداء کے اندر دونوں فریقین کے مابین جنگ شروع ہوئی تو اسرائیل بھی میدان جنگ میں عملی طور پر آ گیا اور اسرائیلی فضائیہ نے دمشق کی وزارتِ دفاع اور قصر جمہوری و دیگر مختلف علاقوں پر وحشیانہ بمباری کی۔ جو مسلح فورسز مختلف علاقوں سے سویداء کی طرف جا رہی تھیں، ان پر بھی شدید اسرائیلی حملے ہوئے۔

آخر کار جولانی حکومت نے پسپائی اختیار کی اور اپنی فورسز کی واپسی کا اعلان کیا۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2175

ٹیگز

تبصرے