🖋 رپورٹ: صراط ٹائمز | مذہبی افکار و معرفت
قم المقدسہ – اسلامی دنیا کے بزرگ فلسفی و مفسر قرآن، آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی (حفظہ اللہ) نے حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کی سیرت کو اسلامی معرفت اور وفاداری کا اعلیٰ ترین نمونہ قرار دیتے ہوئے فرمایا:
اگر امام حسینؑ کا کام دین کو بچانا تھا، تو حضرت عباسؑ کا فریضہ خود امامؑ کو بچانا تھا۔
آیت اللہ جوادی آملی کی تفسیری و عرفانی بیانات میں حضرت عباسؑ کی شخصیت ایک ایسی روحانی بلندی پر فائز نظر آتی ہے، جہاں بصیرت، وفاداری، اور معرفتِ ولایت اپنے اعلیٰ ترین مظاہر کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔
آیت اللہ جوادی آملی کے مطابق:
حضرت عباسؑ امام نہیں تھے، مگر ولایت کو ویسے پہچانا جیسے امام پہچانتا ہے۔ ان کی وفاداری کوئی جذباتی یا عشقی اقدام نہیں تھا، بلکہ ایک شعوری، فکری، اور عرفانی موقف تھا۔
وہ مزید فرماتے ہیں:
عباسؑ نے پانی پر ہاتھ رکھا، مگر جب امامؑ و اہل حرم کی پیاس یاد آئی، تو ہاتھ کھینچ لیا۔ یہ کوئی عام عمل نہیں بلکہ ایک امام شناس انسان کی معراج ہے۔
واقعۂ کربلا کی اہم ترین جہت حضرت عباسؑ کی وہ فداکاری ہے جو نہ صرف اہل بیتؑ کی حفاظت بلکہ امام حسینؑ کی نصرت میں نمایاں ہوئی۔ آیت اللہ جوادی آملی نے فرمایا:
حضرت عباسؑ کے ہاتھ کاٹ دیے گئے، لیکن علم کو زمین پر نہیں گرنے دیا۔ اس علم کی حفاظت صرف جسمانی طاقت نہیں، بلکہ ولایت کی معرفت کا تقاضا تھی۔
حضرت عباسؑ کی شخصیت کو بیان کرتے ہوئے آیت اللہ جوادی آملی نے قرآن کے مفہومِ “وفا” کو مکمل طور پر ان کی سیرت پر منطبق کیا۔ ان کے بقول:
قرآن میں جو وفاداری مطلوب ہے، وہ حضرت عباسؑ کی سیرت میں مجسم نظر آتی ہے۔ انہوں نے اس وقت وفا کی، جب دنیا پیٹھ پھیر چکی تھی، اور یہی حقیقی بصیرت ہے۔
خود امام حسینؑؑ نے حضرت عباسؑ کی شہادت پر فرمایا:
بِنَفْسِی أَنْتَ یَا أَخِی
(اے میرے بھائی! میں تجھ پر اپنی جان قربان کروں)
یہ جملہ آیت اللہ جوادی آملی کے مطابق صرف جذباتی نہیں، بلکہ عباسؑ کے معرفت و مقام کی الٰہی تصدیق ہے۔
