آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی کی نوجوانوں کو آٹھ گراں قدر نصیحتیں جو روشن مستقبل کا راستہ ہیں:
📌۔ اللہ پر پختہ ایمان اور توکل رکھو
زندگی کے نشیب و فراز میں کامیابی کا راز اسی میں ہے کہ دل سے خدا پر بھروسا رکھو۔ وہی رازق ہے، وہی نگہبان۔
📌 ۔ اچھے اخلاق و کردار کے حامل بنو
اخلاقی عظمت انسان کو بلندیوں تک پہنچاتی ہے۔ گفتار و رفتار میں سچائی، نرم خوئی اور وفا شعاری اپنا شعار بناؤ۔
📌۔ پیشہ ورانہ مہارت حاصل کرو
محض ڈگری کافی نہیں، اپنی صلاحیتوں کو نکھارو۔ معاشی خود کفالت کے لیے ہنر اور پروفیشنلزم اختیار کرو۔
📌 ۔ بلند ہمت اور عظیم بننے کی کوشش کرو
چھوٹے مقاصد کو پیچھے چھوڑو، وسیع سوچ کے ساتھ معاشرے کے لیے مفید اور اثرگذار انسان بننے کی جستجو رکھو۔
📌 ۔ شادی میں تاخیر نہ کرو، پاکیزہ خاندان بناؤ
نکاح دین ہے، تقویٰ ہے، سکون ہے۔ دیر نہ کرو، جلد نکاح کر کے ایک صالح نسل کی بنیاد رکھو۔
📌 ۔ نیکی کرو، مدد کرو، دعائیں سمیٹو
لوگوں کے کام آؤ، یتیموں، محتاجوں اور مظلوموں کی مدد کرو۔ یہ وہ نیکی ہے جو آسمان سے رحمت کھینچ لاتی ہے۔
📌 ۔ اپنی ذمہ داریاں پہچانو اور ادا کرو
معاشرہ تبھی بہتر بنتا ہے جب ہر فرد اپنی ذمہ داری سمجھ کر اسے نبھاتا ہے — چاہے وہ طالب علم ہو، بیٹا، بیٹی، شوہر یا والد۔
📌 ۔ تاحیات علم حاصل کرتے رہو
علم کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ مرتے دم تک سیکھتے رہو، کیونکہ زندہ دل وہی ہے جو علم کا پیاسا ہو۔
