تحریر : مولانا سید عمار حیدر زیدی قم
اسلام ایک الٰہی دین ہے جو عدل، توحید، اور انسانیت کی فلاح کا علمبردار ہے۔ مگر تاریخ کے بعض موڑ ایسے آئے کہ دینِ محمدیؐ کو سیاست کے ایوانوں میں قید کر دیا گیا، اور خلافت، ملوکیت میں تبدیل ہو گئی۔ انہی تاریخی مراحل میں ایک اہم اور خطرناک موڑ بنی امیہ کی حکومت تھی، جس نے نہ صرف اسلامی خلافت کے چہرے کو مسخ کیا، بلکہ دین کی روح کو بدلنے کی کوشش کی۔ آج بھی، اسی اموی فکر کے اثرات بعض دینی طبقوں اور گروہوں میں موجود ہیں، جو نادانستہ طور پر یا مفاد پرستی کی بنا پر عالمی صیہونزم کے مقاصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
۔ بنی امیہ کا دین اور رسول اللہﷺ کا دین:
حضرت علیؑ نے فرمایا: “دین کو ملوکیت نے بدل دیا ہے اور قرآن کو تفسیر بالرأی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے”۔ بنی امیہ نے دین کو تخت و تاج کی حفاظت کا ذریعہ بنا دیا۔
یزید جیسے فاسق کو “امیر المؤمنین” بنا کر پیش کیا گیا،
رسولؐ کے نواسے کا خون بہا،
صحابہ و اہل بیتؑ پر لعنتیں کی گئیں،
اور منبرِ رسول کو نفرت، تحریف اور جبر کا آلہ بنا دیا گیا۔
اس طرح ایک ایسا “اموی اسلام” تشکیل پایا جو طاقت، تعصب، اور اقتدار پرستی کی بنیاد پر کھڑا تھا، نہ کہ ہدایت، رحم، اور عدالت پر۔
۔ اموی فکر کا تسلسل اور جدید صیہونی ایجنڈا:
آج کے دور میں صیہونزم صرف ایک سیاسی تحریک نہیں، بلکہ ایک فکری اور تہذیبی منصوبہ ہے جو امت مسلمہ کی وحدت، بیداری، اور شعور کے خلاف کام کر رہا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کچھ مذہبی گروہ اور افراد ایسے ہیں جو نادانستہ طور پر اموی فکر کی باقیات کی بنیاد پر:
اہل بیتؑ دشمنی کو دین سمجھتے ہیں،
وحدتِ امت کو “بدعت” کہتے ہیں،
اور تشیع و عدل کے پیغام کو “گمراہی” سمجھتے ہیں۔
یہی طبقے، آج کے صیہونی و استعماری نظام کے لیے بہترین آلہ کار بن جاتے ہیں، کیونکہ وہ داخلی انتشار، فرقہ واریت اور جہالت کو فروغ دیتے ہیں۔
۔ عام اہل سنت اور اموی فکر میں فرق :
ضروری ہے کہ یہ فرق واضح کیا جائے کہ:
عام اہل سنت، رسول اللہﷺ سے محبت کرنے والے، اہل بیتؑ کے حامی، عدل پر ایمان رکھنے والے مسلمان ہیں۔
جبکہ اموی فکر رکھنے والے لوگ، اہل بیت دشمنی اور فتنہ پروری میں مبتلا ہیں۔
بہت سے اہل سنت علماء نے بھی بنی امیہ کے جرائم کو بے نقاب کیا ہے، جیسے:
ابن ابی الحدید (شرح نہج البلاغہ)،
جلال الدین سیوطی،
علامہ سبط ابن جوزی،
اور شیخ محمود ابو ریہ۔
۔ امید کی کرن: فکری بیداری کا آغاز
الحمد للہ، گزشتہ کچھ دہائیوں میں ایک فکری انقلاب کی ابتدا ہو چکی ہے:
مسلم نوجوان تاریخ کو خود پڑھنے لگے ہیں، یوٹیوب، کتب، اور علمی مواد کے ذریعے حقیقت تک رسائی ممکن ہوئی ہے،
اور لوگ اب سوال کرتے ہیں: “کیا یزید مسلمان تھا؟ کیا حسینؑ کا قیام غلط تھا؟”
یہ سوالات فکری بیداری کی علامت ہیں، اور یہی وہ مرحلہ ہے جب اموی دین ننگا ہو رہا ہے۔ جب تاریخ کو بغیر تعصب کے دیکھا جائے گا، تو امت خود فیصلہ کرے گی کہ “کربلا حق تھا یا باطل؟”۔
بنی امیہ کا دین، دینِ محمدؐ نہیں۔ وہ جبر، ظلم، تحریف اور تعصب پر مبنی اقتدار کا چہرہ تھا۔ آج اگر ہم نے اس اموی فکر کو بے نقاب نہ کیا، تو صیہونی نظام، اسی فرقہ واریت کے ذریعے ہمیں تقسیم کرتا رہے گا۔
البتہ، اگر ہم علمی، فکری، اور وحدت پر مبنی دین کی طرف پلٹ آئیں تو نہ صرف ہم تاریخ کا رخ بدل سکتے ہیں، بلکہ امت مسلمہ کو صیہونیت کے پنجے سے نجات دلا سکتے ہیں۔
