حضرت آیت اللہ العظمیٰ محمد تقی بہجتؒ عصر حاضر کے ان روحانی چراغوں میں سے تھے جنہوں نے صرف علمی میدان میں ہی نہیں بلکہ باطنی و سلوکی زندگی میں بھی لوگوں کی رہنمائی کی۔ آپ کا دل اہل بیت علیہم السلام کی محبت اور معرفت سے سرشار تھا، اور آپ کی زندگی بھر کی نصیحتوں میں مجالسِ عزا کا خاص مقام تھا۔
آپ نے شیعیانِ اہل بیتؑ کو بارہا تاکید فرمائی کہ وہ مجالسِ حسینی کو صرف ایک روایتی عمل نہ سمجھیں، بلکہ اسے روحانی رابطے اور معرفت کے ایک ذریعہ کے طور پر برپا کریں۔ ایک نورانی نصیحت میں آپ نے فرمایا:
جب آپ مجالس اہل بیت علیہم السلام منعقد کریں تو ان بزرگ ہستیوں کے فضائل، مناقب اور ان کی برتریوں کو بیان کریں، اور ان کے مقابل سچے جذبے اور احساسات کا اظہار کریں۔ اگر آپ کی آنکھوں سے آنسو نہ بھی آئیں تو کم از کم چہرے پر گریہ کی کیفیت طاری کریں، دل کو حزن و غم میں رکھیں اور ‘تباکی’ (یعنی حالت گریہ اختیار کرنا) کی کوشش کریں۔”
یہ جملہ اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ گریہ صرف آنکھوں سے بہنے والے آنسو کا نام نہیں، بلکہ ایک قلبی کیفیت اور روحانی رقت ہے جس کے ذریعے انسان اہل بیتؑ کے نور سے جڑتا ہے۔
حضرت بہجتؒ کے نزدیک مجالسِ حسینؑ، معرفت اور قربِ الٰہی کا ذریعہ ہیں۔ ان کا پیغام ہے کہ عزا کو ظاہری رسوم سے نکال کر باطنی توجہ، خشوع، حزن، اور عرفانی شعور کے ساتھ منایا جائے، تاکہ وہ حقیقی تربیت اور نجات کا ذریعہ بن سکے۔
