38

فقاہت، وحدت اور بصیرت کا پیکر: آیت اللہ بروجردی کی داستانِ حیات

  • نیوز کوڈ : 2142
  • 15 July 2025 - 14:37
فقاہت، وحدت اور بصیرت کا پیکر: آیت اللہ بروجردی کی داستانِ حیات

فقاہت، وحدت اور بصیرت کا پیکر: آیت اللہ بروجردی کی داستانِ حیات

بعض شخصیات صرف اپنے دور کی قیادت نہیں کرتیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن راستہ چھوڑ جاتی ہیں۔ ان ہی میں سے ایک نام آیت اللہ العظمیٰ سید حسین طباطبائی بروجردیؒ کا ہے، جنہوں نے نہ صرف تشیع کو عالم اسلام میں بلند کیا بلکہ اسلامی وحدت، فقاہت، بصیرت اور دینی قیادت کی ایک نئی روح پھونکی۔

 ابتدائی زندگی اور تعلیم

آیت اللہ بروجردی ۱۲۹۲ ہجری قمری میں ایران کے شہر بروجرد میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق ایک علمی خاندان سے تھا۔ کم سنی سے ہی دینی تعلیم کی طرف مائل ہو گئے۔ بروجرد کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے اصفہان اور پھر نجف اشرف کا رخ کیا۔ نجف میں آپ نے شیخ الشریعہ اصفہانی، آیت اللہ نائینی، اور آیت اللہ سید ابوالحسن اصفہانی جیسے عظیم فقہا سے استفادہ کیا۔

 مرجعیت اور قم کا احیاء

سن ۱۳۶۴ھ میں آیت اللہ بروجردی کو قم لایا گیا جب آپ بیمار تھے۔ آپ کی آمد نے قم کی علمی فضا کو یکسر بدل دیا۔ جلد ہی آپ مرجعیت کے بلند مقام پر فائز ہو گئے۔ آپ نے حوزہ علمیہ قم کی ازسرنو تنظیم کی، نصابِ درسی کو جدید خطوط پر استوار کیا، اور ہزاروں شاگردوں کی تربیت کی، جن میں امام خمینیؒ جیسے انقلابی رہنما بھی شامل تھے۔

 اسلامی وحدت کے علَمبردار

آیت اللہ بروجردیؒ نے شیعہ و سنی وحدت کو ہمیشہ اپنی مرجعیت کا بنیادی مقصد قرار دیا۔ آپ نے جامعۃ الازہر مصر کے شیخ محمود شلتوت کے ساتھ خط و کتابت کی، جس کے نتیجے میں شیعہ فقہ کو اہل سنت کی چار فقہی مکاتب کے ساتھ مساوی حیثیت دی گئی — یہ ایک بے مثال کارنامہ تھا۔

آپ کی کوششوں سے شیعہ علماء اور سنی علماء کے درمیان مکالمہ، علمی تبادلہ اور فکری ہم آہنگی کا نیا باب کھلا۔

 فقاہت اور اجتہاد

آیت اللہ بروجردیؒ کی فقاہت کی خاص بات ان کی حدیثی مبانی پر اجتہاد تھی۔ آپ نے فقہ کو اصولی گہرائی، رجالی بصیرت اور حدیثی استناد کے ساتھ پیش کیا۔ آپ کے دروسِ خارج میں ہزاروں طلبہ شریک ہوتے۔ آپ کے علمی کاموں میں جامع احادیث الشیعہ اور رجالی کتابوں کی تدوین شامل ہے۔

 سیاست سے پرہیز، بصیرت کے ساتھ

آپ کا اندازِ قیادت فقہ، وحدت اور سکوتِ حکیمانہ پر مبنی تھا۔ آپ نے سیاسی معاملات میں دخل کم لیا، مگر جب دین کو خطرہ لاحق ہوتا تو خاموشی توڑ کر حکومتِ وقت کو خط لکھتے یا واضح مؤقف اختیار کرتے۔

آپ کی بصیرت کا ایک پہلو یہ تھا کہ مرجعیت کو عوام سے جوڑا، لیکن حکومت کے آلہ کار نہ بننے دیا۔

 عالمی سطح پر اثر

آیت اللہ بروجردی کی قیادت کا دائرہ صرف ایران یا عراق تک محدود نہ تھا۔ ہندوستان، لبنان، بحرین، پاکستان، شام، حتیٰ کہ افریقہ تک علماء اور عوام ان کے مقلد تھے۔ آپ کی عالمی مرجعیت نے تشیع کو ایک عالمی فکری طاقت میں بدل دیا۔

 وفات اور میراث

آپ ۱۳۸۰ھ میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔ آپ کی رحلت پر ایران بھر میں کہرام مچ گیا۔ قم میں واقع مسجد اعظم، جو آپ ہی کی نگرانی میں تعمیر ہوئی، آج بھی آپ کی یاد دلاتی ہے۔

آپ کی سب سے بڑی میراث ایک ایسا حوزہ علمیہ ہے جو آج بھی علم، اجتہاد اور بصیرت کے چراغ جلا رہا ہے۔

آیت اللہ بروجردیؒ صرف ایک فقیہ نہیں تھے، وہ ایک مصلح، ایک وحدت پسند قائد، اور بصیرت کا آئینہ تھے۔ ان کی زندگی آج کے علماء، طلبہ اور امت مسلمہ کے لیے ایک درس ہے — کہ دین صرف منبر پر نہیں، کردار، اتحاد اور فکری قیادت میں جلوہ گر ہوتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2142

ٹیگز

تبصرے