شہید استاد مرتضیٰ مطہریؒ بیسویں صدی کے ان مفکرین میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اسلامی افکار کو معاصر زبان، منطق اور شعور کے ساتھ بیان کیا۔ ان کا سب سے نمایاں کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے عزاداری امام حسینؑ کو محض روایتی غم کی مجلس نہیں سمجھا بلکہ اسے شعور، بصیرت اور انقلاب کا سرچشمہ قرار دیا۔
آپ کی نگاہ میں گریہ بر حسینؑ ایک احساساتی ردعمل نہیں بلکہ ایک شعوری تحریک ہے، جو انسان کو ظلم کے خلاف کھڑا ہونے اور حق کا ساتھ دینے کے لیے آمادہ کرتی ہے۔ ایک مقام پر آپ فرماتے ہیں:
کربلا کے واقعہ میں صرف رونا کافی نہیں، بلکہ مقصدِ حسینؑ کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ عزا کو معرفت سے جوڑیں۔”
یہ جملہ ہمیں ایک عمیق حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے: امام حسینؑ کا قیام صرف جذباتی وابستگی نہیں مانگتا، بلکہ فکری وابستگی اور عملی وفاداری کا تقاضا کرتا ہے۔
شہید مطہریؒ کی تعلیمات کے مطابق، مجالسِ حسینؑ کو ایسا پلیٹ فارم بنایا جائے جہاں صرف مرثیہ اور نوحہ نہ ہو، بلکہ قوم کو یہ بھی بتایا جائے کہ حسینؑ ظلم کے خلاف کیوں اٹھے؟ ان کے مقاصد کیا تھے؟ اور آج ہمیں ان سے کیا سیکھنا ہے؟
ان کا پیغام آج بھی ہمارے لیے یہی ہے کہ عزا داری کو مقصدِ حسینیؑ سے جوڑیں، تاکہ ہر عزادار، ایک باخبر، ذمہ دار اور باعمل حسینی بن سکے۔
