35

اپنے افکار و کردار میں شہید ترابی زندہ ہیں۔۔۔۔۔

  • نیوز کوڈ : 2139
  • 15 July 2025 - 14:27
اپنے افکار و کردار میں شہید ترابی زندہ ہیں۔۔۔۔۔

اپنے افکار و کردار میں شہید ترابی زندہ ہیں۔۔۔۔۔

 تحریر : سہیل رضا

قومی خدمات انجام دینے والی شخصیات کے بارے میں ہماری قوم کا رواج یہی ہے کہ ان شخصیات کے ہمیشہ کیلئے نظروں سے اوجھل ہوجانے کے بعد ان کی خدمات, جدوجہد اور ان کے نظریہ کا اعتراف کرتے ہیں اور تعریفوں کے انبار لگاتے ہیں جبکہ یہی لوگ انہی شخصیات کو ان کی زندگی میں منفیات سے لبریز نعروں اور مباحث

کا شکار کرتے تھے, بہرحال قومی و ملی خدمات انجام دینے والی شخصیات بظاہر نظروں کے سامنے نہیں ہیں مگر اب بھی ان کے افکار, خدمات اور نظریات لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں اور رہیں گے جوکہ وعدہ پروردگار ہے.

مگر تنقید برائے تنقید و فساد کرنے والے اب کسی محفل کا حصہ نہیں بلکہ ابدی گمشدگی ان کا مقدر ہے.

شہید راہ وحدت علامہ حسن ترابی قدس سرہ الشریف کیا تھے, انہوں نے کیا , کیا اور کیونکر شہید ہوئے, اب وہ اس سے بالاتر ہیں کہ عوام الناس انہیں تاریخ کے صفحات سے سمجھیں جبکہ ان کےکردار اور جدوجہد کا نتیجہ زبان زدہ عام ہے.

مختصر تحریر میں شہید ترابی کی جدوجہد کے تمام پہلووں پر گفتگو محال ہے مگر شہید کی جدوجہد کے بعض پہلو پس پردہ ہی رہیں گے جوکہ ان کی لازوال قومی خدمات اور وفاداری ہے.

قومی قیادت کا تحفظ:

شہید نے قیادت کے دفاع میں وہ وفادارانہ کردار ادا کیا ہے جس کی مثال لانا محال ہے, قائد محترم کے خلاف ہونے والی سازشوں کا ہر فورم پر ڈٹ کر مقابلہ کیا اور تحفظ کیا قائد محترم کی گرفتاری کے دوران ان کے مظلومانہ کردار کو اور ظالموں کے ظلم کو ہر فورم اور ادارے تک پہنچایا اور قائد محترم کی رہائی کیلئے بہت ہی موثر اقدامات کئے.

شہید نے قیادت کے دفاع میں جو کردار ادا کیا اس کی نظیر لانا بعید ہے.

قائد محترم کے خلاف رسالے اور لٹریچر سازش کو بھی حتی المقدور ناکام بنانے میں بہت ہی اہم کردار ادا کیا اور اس رسالےکو چند گھنٹوں میں غائب کروادیا اور مالکان کے خلاف قانونی جوجہد کی. جبکہ اس سے قبل ایک مشہور رسالے میں بھی قائد محترم کے خلاف مواد کی کاپی پیسٹ ہوچکی تھی اور بس رسالہ چھپنے کیلئے آمادہ تھا اس مرحلہ پر جاکر شہید نے قائد محترم کے خلاف اس نشریات کو روکا اور بالاخر پرنٹ نہ ہونے دیا. بس اب وفاداری کی کس کس داستان کو رقم کریں بس یہی کہا جاسکتا ہے کہ شہید نے امام زمان عجل کے حضور میں قائد محترم سے وفاداری کا جو عہد کیا تھا اسے نبھایا اور سرخرو ہوئے.

تکفیری گروہ کا مقابلہ:

وہ وقت جب تکفیری گروہوں کی طرف سے در و دیوار پر تکفیر بازی کی جارہی تھی اور جلسے جلوسوں میں کھلے عام تکفیری نعرے لگائے جارہے تھے اور اسی کے نتیجیے میں ہر طرف کہیں نہ کہیں ہمارے کارکناں اور مومنین شہید کئے جارہے تھے ایسے مواقع پر شہید ترابی نے اتحاد و وحدت کی محلفوں میں ان کی ملک دشمن کاروائیوں سے پردہ اٹھایا بلکہ برادران کے مدارس کے پروگراموں میں کھڑے ہوکر اس گروہ کو شکست دی اور ان کے مکروہ و باطل چہرے کو بے نقاب کیا,

ایک مرتبہ شہید کو گرفتار کیا گیا اور اس گرفتاری کے دوران بہت سارے ایجنٹ نام.نہاد فارمولے پر آمادہ کرنے کیلئے آتے رہے اور مختلف قسم کی آفر بھی کرتے رہے بالاخر انہیں رسوائی کے سوا کچھ نہ ملا اور پھر بعض قوتوں کی طرف سے اجلاس بلوایا گیا جس میں ہر مکتب فکر کے لوگوں کے ساتھ تکفیری گروہ کو بھی لایا گیا تاکہ دباو ڈال کر کسی فارمولے پر دستخط کرائے جائیں مگر شہید نے اس سازش کو کامیابی نہ ہونے دیا بلکہ پہلے سے آئے ہوئے بعض شیعہ عمائدین کو متوجہ کیا کہ یہ تکفیری جب امام زمان عجل کی شان میں گستاخی کریں آپ خاموش رہتے ہیں جب یہ گروہ آپ کے آئمہ اور مکتب کو گالیاں دیں اور کافر کافر کے تعرے لگائیں آپ پھر بھی خاموش رہتے ہیں اور آپ کی کوئی مجلس میں ان کی مذمت نظر نہیں آتی,

دوسری طرف اہلسنت برادران کی طرف متوجہ ہوئے کہ یہ تکفیری گروہ آپ کا بھی دشمن ہے آپ کو بھی کافر قرار دیتا ہے اور قتل.کرتا ہے اور آپ کے مقدسات کو آگ لگاتا ہے یہ گروہ ناصبی ہے ان کا اہلسنت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ آپ کے اندر چھپ کر آپ ہی کو نقصان پہنچا رہا ہے اور پھر شہید فارمولے کے ذمہ داروں کی طرف متوجہ ہوئے کہ اہلسنت ہمارے بھائی ہیں اور ہمارے اور ان کے درمیان اتحاد کا رشتہ قائم.ہے اور ہم اتحاد کی محفلوں میں ایک ساتھ بیٹھے ہیں اور جہاں اس گروہ کا تعلق ہے ہم ان کے ساتھ نہ بیٹھ سکتے ہیں, نہ مذاکرات کیلئے تیار ہیں اور نہ ہی ان کے ساتھ مل سکتے ہیں ان کا وجود ہمارے شہداء کے قتل میں ملوث ہے یہ.ہمارے مکتب, مقدسات کو کھلے عام گالیاں دیتے ہیں اور نقصان پہنچاتے ہیں ہم ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات کرنے کو اپنے مکتب کی توہین سمجھتے ہیں, اس جملے کے بعد شہید اجلاس کا بائیکاٹ کرکے.چلے گئے, اس طرح تشیع کے نظریہ کو سربلندی نصیب ہوئی اور دشمن کامیاب نہ ہوسکا.

وحدت امت کیلئے کردار:

مشہور جملہ جوکہ شہید نے سانحہ شہدائے محفل مرتضی اور ابوالفضل العباس کے موقع پر کہا تھا کہ ہم ایک دن میں 100 جنازے اٹھانا برداشت کرسکتے ہیں مگر اتحاد امت کو پارہ پارہ نہیں ہونے دیں, شہید نے اتحاد امت کے ذریعہ سے وہ نتائج حاصل کئے اور دشمن کی سازشوں کو ناکام کیا اس کا ذکر بھی ضروری ہے, شہداء کے جنازوں اور پروگراموں میں بھی ہمیشہ اہل سنت کے علماء اور دانشوروں کی شرکت کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے اور بھرپور کوشش کی تاکہ دشمن انتشار بھیلانے میں کامیاب نہ ہوسکے بلکہ اہل سنت کے شہداء کے جنازوں میں بھی ہمیشہ شرکت کی, برادراں کے مدارس اور اداروں کو جب بھی مشکلات پیش آتیں ان کے مسائل کو حل کرنے کا آخری وسیلہ شہید ہی قرار پاتے تھے جب جماعت اسلامی کے دوستوں کو کسی ایشو پر مشورے کی ضرورت ہوتی تھی وہ شہید ہی کی طرف رجوع کرتے تھے اور وہ اس کے 5 حل دریافت کرتے تھے اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شہید کے برادراں سے تعلقات رسمی نہ تھے بلکہ عملی و نظریاتی تھے قومی و بین الاقوامی مسائل کو اتحاد کی محلفوں کے ذریعہ اجاگر کرتے تھے یوم القدس ہو, برسی امام خمینی ہو, مسئلہ کشمیر و فلسطین ہو یا پھر کوئی بھی امت مسلمہ کی مشکل, انہوں نے اتحاد کے ذریعے سے آواز اٹھائی, عرصے دراز تک یوم القدس کا جلسہ بعد از نماز جمعہ بنوری ٹاون کے باہر ہوتا تھا اور شہید کی زندگی کا آخری احتجاجی پروگرام بھی شہید کی ہدایت پر ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ سے بعد از نماز جمعہ بنوری ٹاون کے سامنے رکھا گیا جس کا عنوان لبنان پر اسرائیلی و امریکی جاحیت تھا جس میں پروفیسر غفور احمد سمیت مختلف رہنماوں نے شرکت کی, اور شہید نے امریکہ.و اسرائیل اور ان کے نمک خواروں کو للکارا اور حزب اللہ اور حماس کو خراج تحسین پیش کیا اور ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے ان کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا,

اور شہید کی زندگی کا آخری جملہ یہ تھا,

اے حماس کے مجاہدوں! ہم تمہارے ساتھ ہیں

اے حزب اللہ کے مجاہدوں! ہم.تمہارے ساتھ ہیں

پھر اسی پروگرام کے بعد جیسے ہی شہید گھر پہنچے انہیں وقت کے شقی ترین اور ابن ملجم صفت ایجنٹوں نے بم دھماکے سے شہید کردیا,

قائد ملت جعفریہ حضرت آیت اللہ السید ساجد علی نقوی اور ملت اسلامہ سوگوار ہوگئی, اور ایک عظیم مجاہد سے محروم ہوگئی اور رات کی تاریکی میں یتیموں کی سرپرستی کرنے والا ابدی سعادت کا حامل ہوگیا,

بس آخر میں اسی پر اختتام کرتا ہوں کہ جب شہید کی تدفین کے بعد قائد محترم شہید کے گھر تشریف لائے تو ان کی آنکھیں شدید دکھ کی.وجہ سے بند تھیں اور فرمارہے تھے کہ میں اہنے باوفا دوست سے محروم ہوگیا ہوں ان کی خدمات بہت طویل تھیں جسے کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا, قائد محترم کے اس دردناک منظر کو رقم کرنے سے عاجز ہوں اسے مرحوم مغفور سید شعیب رضا زیدی کربلائی نے کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کیا تھا.

شہادت شہادت…..سعادت سعادت

والسلام

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2139

ٹیگز

تبصرے