42

حسین ع کے بغیر ایک اور محرم  الحرام گزر گیا

  • نیوز کوڈ : 2126
  • 14 July 2025 - 14:23
حسین ع کے بغیر ایک اور محرم  الحرام گزر گیا

حسین ع کے بغیر ایک اور محرم  الحرام گزر گیا

تحریر : صادق الوعد سکردو بلتستان

کربلا کی مظلومیت صرف تاریخ کا حصہ  نہیں ۔ آج بھی حسین ع  اور کربلا اتنے ہی مظلوم ہیں جتنے پہلے تھے ۔ جیسا کہ امام موسی صدر شہید کربلا اور حسین ع کے دشمنوں کو تین کٹیگری میں تقسیم  کرتے ہیں ۔

حسین ع کے جسمانی اور وجود کا دشمن ۔

دوسرا حسین ع  کے آثار اور ان  کی یاد دہندہ اشیاء  کا دشمن جس    کا بارز نمونہ بنی عباس  ہے۔

  تیسرا دشمن جو مذکورہ دونوں  سے زیادہ خطرناک ہے وه ہے حسین ع  کے اہداف اور مقاصد کا دشمن  اس  کا بارز نمونہ بنی امیہ ہے۔

اگر مقاصد اور اہداف امام حسین ع  یاد رہیں تو یقینا پہلے دو قسم کے دشمن اپنے عزائم کے حصول میں خود بخود ناکام ہوں گے۔

 آج بحمد اللہ دنیا کے ہر گوشہ وکنار میں سید الشہدا کی عزاداری اور فرش عزا خاص اہتمام کے ساتھ بچھایا جاتا ہے اس بابت جتنا اللہ کا شکر ادا کریں کم ہے ۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم کیوں اکثر اوقات امام حسین ع اور کربلا کے اہداف کو بھول جاتے ہیں ؟ جس حسین ع کی یاد میں یہ سب کر رہے ہوتے ہیں مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ان مجالس میں خود حسین ع نہیں ہوتے، کربلا کے نام پر مجالس تو ہوتیں ہیں مگر خود کربلا نظر نہیں آتی ؟

 کیوں ہماری مجالس اور عزادا ریوں  میں تشیع کے چوتھے اہم ستون یعنی مہدویت کا تذکره ہی نہیں کیا جاتا ہے ؟ در حالی کہ یہ سب کچھ اسی کے لئے مقدمہ ہے  اور جس کی آرزو خود سید الشہدا ع بھی کرتے نظر آتے ہیں ۔

 کیوں ہماری مجالس میں اسلامی سیاست پر گفتگو نہیں ہوتی  جس کے لئے تمام انبیاء اور اولیائے الہی نے یہ سب قربانیاں پیش کیں؟  گرچہ ہماری مجالس میں اہم ترین  مسائل اور موضوعات پر گفتگو ضرور ہوتی ہے مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم سب نا دانستہ طور پر سیکولر ازم اور سماجی اور سیاسی  پلورالیز ام  کی تبلیغ بھی کر رہے ہوتے ہیں ۔

ظاہرا ہم بلتستان کو ایران دوم اور بلد مومنین جیسے نام دیکر  اپنی جگہے پر خوش ہیں ، مگر جب  ہماری ثقافتی ، سماجی اور تعلقات عامہ پر نظر غامض کریں تو یقین نہیں آتا ہے کہ سال بھر محافل اور مجالس جیسی نعمتوں سے بہرہ مند ملت کی یہ زبوں حالی اور عقب ماندگی کیسے ممکن ہے۔ بطور مثال حالیہ ایران اور اسرائیل کی جنگ جو بارہ دنوں تک پوری دنیا کی سٹریم اور سوشل میڈیا کی صف اول کی بریکینگ نیوز بنی رہی ، پوری دنیا میں دوست اور دشمن دونوں نے گہری نظر سے اسے تعاقب کرتے رہیں۔

اتفاق سے جنگ بندی کے فوری بعد محرم الحرم بھی شروع ہوگیا ۔ ایسے میں یہ توقع تھی کہ ہمارے منبروں سے وہ پہلو جس سے عام انسان واقف نہیں، جیسے اسرائیل کی حقیقت،  یہ جنگ صرف دو ملکوں کے درمیاں نہیں بلکہ دو تہذیب  و تمدن کی جنگ ہے جو ازل سے چلی آرہی ہے اور تا ابد باقی رہے گی ، جیسے اہم نکات بیان کئے جاتے ۔

 اسی طرح ہماری نماز جمعوں کے خطبات میں اس جنگ کے دیگر علل و اسباب پر روشنی ڈالی جاتی، یا بلد مومنین میں موجود سیاسی اور دینی تنظیمیں، دینی اور علمی  مدارس کا اہم وظیفہ تھا کہ اس جنگ کے نامحسوس اور پس پرده حقائق کی تجزیہ و تحلیل کے لئے علمی کنفرانس برگزار کرتے۔

کیونکہ بلتستان کے لوگوں کے ذہنوں میں جو ٹوٹے پھوٹے معلومات پائے جاتے ہیں  وه وہی ہیں جو سوشل میڈیا سے دریافت کرتے ہیں ۔

 آج اگر بلتستان میں سیاسی ، فکری اور سماجی غربت کا شکار ہے تو بنیادی وجہ یہی ہے کہ لوگوں کے پاس صحیح حقائق  نہیں پہنچ پاتے ہیں نہ ہی اس سلسلے میں کسی کو کوئی فکر لاحق ہے ۔ مسائل کی تجزیہ وتحلیل تو در کنار۔

یہی وجہ ہے وجه ہےکہ ہم یوم القدس یا دیگر مناسبتوں کے موقع پر رہبر معظم اور امام کی تصاویر اٹھانے والوں کو انقلابی اور نظام ولایت کے طرف دار  سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے  جب تک لوگوں کی فکر کو تبدیل کرنے کے لئے موثر اقدامات نہیں اٹھائے جاتے  ہم  لاکھ ریلیاں نکالیں  اور  ہر سال محرم الحرام منائیں  وه یاد حسین ع اور یاد کربلا تو ہوگی  لیکن اہداف و مقاصد حسینی سے خالی ۔ اہداف و مقاصد کے بغیر یادوں سے انقلاب   کی بجائے سماجی اضمحلال واقع ہوتا ہے ۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2126

ٹیگز

تبصرے