38

آیت اللہ سید محمد سعیدی: مرجعیت اور رہبر انقلاب کی توہین، ناکام فتنوں کا دھندلا ہوا سایہ ہے

  • نیوز کوڈ : 2123
  • 13 July 2025 - 2:49
آیت اللہ سید محمد سعیدی: مرجعیت اور رہبر انقلاب کی توہین، ناکام فتنوں کا دھندلا ہوا سایہ ہے

آیت اللہ سید محمد سعیدی: مرجعیت اور رہبر انقلاب کی توہین، ناکام فتنوں کا دھندلا ہوا سایہ ہے

آستان مقدس حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے متولی اور مجلس خبرگان کے رکن، آیت اللہ سید محمد سعیدی نے اس ہفتے کے خطبۂ جمعہ میں بین الاقوامی صہیونیت اور امریکہ کی طرف سے مرجعیت شیعہ اور رہبر معظم انقلاب اسلامی کے خلاف گستاخانہ اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے فرمایا کہ:

یہ توہین آمیز حرکات درحقیقت پچھلے شکست خوردہ فتنوں کی گرد آلود تکرار ہیں، جو اس بار بھی ناکامی و رسوائی کے سوا کچھ نہ لائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ شیعہ و سنی مراجع، علمائے اسلام اور دنیا بھر کے باشعور مفکرین، اس گستاخی کو ’’محاربه‘‘ یعنی خدا اور اس کے دین کے خلاف اعلان جنگ شمار کرتے ہیں اور اسلامی نظام و قیادت کے ساتھ اپنی بھرپور وفاداری و حمایت کا اعلان کر چکے ہیں۔

خطیب جمعہ نے قرآن کریم کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا:

دشمن چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں، مگر اللہ اپنے نور کو کامل کرکے رہے گا، چاہے کافر ناخوش ہی کیوں نہ ہوں۔

انہوں نے کہا: دشمن یہ نہیں جانتے کہ نورِ خدا بجھانے سے نہیں بجھتا، بلکہ مخالفتوں میں اور زیادہ چمکتا ہے۔

آیت اللہ سعیدی نے ۲۱ تیر، یعنی ’’یومِ عفاف و حجاب‘‘ کی مناسبت سے مسجد گوہرشاد کے تاریخی قیام کو یاد کرتے ہوئے کہا:

یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ملت ایران نے کبھی بھی استعمار کے بنائے ہوئے منصوبوں کو قبول نہیں کیا۔ وہ رضا شاہ کو آگے لا کر ملت کی غیرت کو مٹانا چاہتے تھے، مگر وہ خود مٹ گیا۔

انہوں نے کہا کہ رضا شاہ محض ایک مہرہ تھا، اصل سازش مغرب کی تھی، جسے ایک جاہل، مغرور اور دین دشمن حکمران کی ضرورت تھی – اور انہیں رضا خان کی صورت میں وہ ملا۔

انہوں نے دشمن کے دوہرے ہتھیاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:

دشمنوں نے کبھی سختی سے اور کبھی نرمی و فریب سے عفت و حجاب کے قلعے کو توڑنے کی کوشش کی، لیکن اسلامی معاشروں میں حجاب اب بھی مغرب کی ثقافتی یلغار کے مقابل ایک مضبوط سپر ہے۔

انہوں نے مرحوم آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپایگانیؒ کا مشہور جملہ نقل کرتے ہوئے فرمایا:

باایمان عورت کا چادر میرے عبا سے بھی زیادہ مقدس ہے، کیونکہ وہ چادر پہن کر خاموش زبان میں امر بالمعروف کرتی ہے۔

آیت اللہ سعیدی نے کہا:

عاشورا کوئی مردہ تاریخ کا باب نہیں، بلکہ زندہ قوموں کے لیے ایک روشنی، ایک جرات، ایک استقامت اور ایک پیغام ہے۔ آج کے یزیدی کردار، کربلائے زمان میں بھی ذلت و نابودی کے گڑھے میں گر رہے ہیں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا:

ملت ایران، حسینی پرچم کو تھامے، ایمان، غیرت اور استقامت کے ساتھ دشمنوں کے ہر منصوبے کو ناکام بناتی رہے گی۔ ہم عاشورا کے وارث ہیں اور یہ پرچم کبھی سرنگوں نہ ہو گا۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2123

ٹیگز

تبصرے