45

عزادارئ امام حسین ع اور امام زمانہ عج

  • نیوز کوڈ : 2117
  • 10 July 2025 - 14:16
عزادارئ امام حسین ع اور امام زمانہ عج

عزادارئ امام حسین ع اور امام زمانہ عج

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

 تحریر : سید جہانزیب عابدی

عزاداری فقط آنسوؤں کا ایک سلسلہ یا غم کی ایک رسم نہیں، بلکہ یہ ایک زندہ، با مقصد اور انقلابی عمل ہے۔ بیدار فکر علما جب عزاداری کے آداب اور لغت کی تطہیر پر زور دیتے ہیں تو وہ دراصل اس شعور کی حفاظت کر رہے ہوتے ہیں جو عزاداری کے ذریعے اُمت کو عطا کیا گیا ہے۔ عزاداری، امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی یادگار ہی نہیں بلکہ اُن اعلیٰ ترین اہداف کا تسلسل ہے جو کربلا میں امام نے قائم کیے اور جو امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظہور میں اپنی آخری تکمیل کو پہنچیں گے۔

کربلا، حق و باطل کے درمیان ایک ابدی خطِ امتیاز ہے۔ وہاں حسینؑ نے صرف اپنا خون نہیں دیا بلکہ ایک ایسا فکری و اخلاقی معیار قائم کر دیا جو قیامت تک کے ہر مظلوم و ہر مجاہد کا رہنما ہے۔ امام حسینؑ نے ظالم کے مقابلے میں خاموشی کو خیانت قرار دے کر عزت کی موت کو ذلت کی زندگی پر ترجیح دی۔ یہی فکر، یہی پیغام، عزاداری کے ذرے ذرے میں موجزن ہے۔ جب ہم مجالسِ عزا برپا کرتے ہیں، سینہ زنی کرتے ہیں، نوحہ و مرثیہ پڑھتے ہیں تو یہ سب شعائرِ حسینی فقط رنج و الم کے اظہار کے لیے نہیں بلکہ ظلم کے خلاف بغاوت، حق کی حمایت، اور الٰہی نظام کی طرف واپسی کے لیے ایک مسلسل فکری و جذباتی تربیت ہے۔

امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی حکومت کا سب سے بڑا مقصد بھی یہی ہے کہ وہ دنیا سے ظلم، جہل، استکبار، فریب، اور تحریف کو ختم کریں گے اور اس کی جگہ عدل، حق، صداقت، معرفت اور نورِ محمدی کو قائم کریں گے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم ان کے ناصروں میں شمار ہوں تو ہمیں امام حسینؑ کے راستے کو اپنی زندگیوں میں زندہ رکھنا ہوگا، اور یہی راستہ عزاداری کے ذریعے ہمارے دلوں میں باقی ہے۔ اگر ہم عزاداری کو صرف جذباتی وابستگی یا اجتماعی رسم کی شکل میں محدود کر دیں، اور اس کے آداب، لغت اور ادب کو فنکارانہ یا عوامی زبان کے سانچوں میں ڈھال دیں، تو یہ امام حسینؑ کے مشن سے غداری ہوگی۔

جب ہم عزاداری کی اصطلاحات کو بگاڑتے ہیں، تو ہم شعوری طور پر یا لاشعوری طور پر اس تحریک کو اس کے مقصد سے دور کرتے ہیں۔ “مجلس” کو “پروگرام” کہنا اس کی روحانیت کو کمزور کرتا ہے۔ “منبر” کو “اسٹیج” کہنا اسے تھیٹر کی سطح پر لے آتا ہے۔ یہ صرف الفاظ نہیں بلکہ معانی اور فہم کے رُخ بدلنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ جبکہ ہمیں چاہیے کہ ہم عزاداری کو ایک معرفت آموز، انقلابی، فکری اور روحانی مدرسہ سمجھیں جہاں سے ہمیں ولایت، اطاعت، قربانی، صبر، بصیرت، شہادت، اور انقلاب کا شعور ملتا ہے۔

امام مہدیؑ کی نصرت کی بنیادی شرط یہی ہے کہ انسان ظلم و جہل کے خلاف ایک شعوری بغاوت کا حوصلہ رکھتا ہو، اور امام حسینؑ کے غم نے ہمیں یہی حوصلہ دیا ہے۔ جو قوم عزاداری میں آنسو بہاتی ہے، وہی ظالموں کے خلاف علم بھی بلند کرتی ہے۔ جو قوم مجلسِ حسینؑ میں بیٹھتی ہے، وہی میدانِ ظہور میں امامِ زمانہؑ کے لشکر میں شامل ہو سکتی ہے۔ پس عزاداری کا اصل مقصد فقط غم نہیں، بلکہ انتظارِ ظہور کی فکری و روحانی تربیت ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اہل بیتؑ نے عزاداری کو باقی رکھنے پر اتنا زور دیا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ غم، یہ اشک، یہ منبر، یہ فرشِ عزا، سب مل کر ایک ایسا قلعہ بناتے ہیں جو ہمیں زمانے کی گمراہی، ثقافتی انحراف اور فکری فساد سے بچا کر امام مہدیؑ کی راہ پر گامزن رکھتے ہیں۔ عزاداری فقط ماتم نہیں، بلکہ امام زمانہؑ کی حکومت کے قیام کی تیاری ہے۔ یہی فکر، یہی شعور، اور یہی لبیک حسینؑ درحقیقت لبیک یا مہدیؑ کی بنیاد ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2117

ٹیگز

تبصرے