بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
تاریخ کے صفحات پر اگر کسی قوم کا نام سب سے زیادہ خوں آشام، حق غاصب، اور الٰہی ہدایت کے دشمن کے طور پر لکھا گیا ہے تو وہ بنی اسرائیل کی وہ یہودیت ہے جس نے نہ صرف انبیائے الٰہی علیہم السلام کو شہید کیا بلکہ خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد اہل بیت علیہم السلام کے حقوق کو غصب کرنے اور ان کے قتل میں بنو امیہ و بنو عباس جیسے سفاک گروہوں کو اپنا آلہ کار بنایا۔ یہی وہ اصل ہے جس پر زیارت عاشورا میں “أسّس أساس الظلم والجور” کے الفاظ کے ساتھ لعنت کی گئی، کیونکہ ظلم کی بنیاد اسی فکر نے ڈالی جو خدا کے نور سے بیزار اور باطل کے تسلط کی پجاری تھی۔ یہ وہی فتنہ پرور قوت ہے جو آج بھی عالمی استعماری طاقتوں کے پردے میں چھپی ہوئی انسانیت کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایران اور صہیونیت کے مابین جاری حالیہ جنگ کوئی معمولی جغرافیائی تنازعہ یا محض ریاستوں کے باہمی مفادات کا ٹکراؤ نہیں، بلکہ یہ تاریخ، عقیدہ، اور انسانیت کے مستقبل کی لڑائی ہے۔ یہ وہ معرکہ ہے جس میں ایک طرف وہ عالمی سامراج کھڑا ہے جس کی بنیاد حرص، کرپشن، قتل و غارت اور استحصال پر ہے، اور دوسری طرف وہ مکتب ہے جس کی رگوں میں حسین ابن علیؑ کا لہو ہے، جو ظلم کے مقابلے میں جھکنے کو موت اور سر کٹانے کو حیات سمجھتا ہے۔ اس جنگ میں اگر ایرانی اسلامی انقلابی حکومت شکست کھاتی ہے یا سرنگون ہوتی ہے تو یہ صرف ایک سیاسی نظام کا خاتمہ نہیں ہوگا بلکہ اس کے اثرات تمام عالمِ اسلام اور بالخصوص ملت تشیع کی روحانی، فکری، اور مزاحمتی بیداری پر تباہ کن انداز میں پڑیں گے۔ یہ شکست تشیع کی نہیں بلکہ اس فلسفۂ حیات کی ہوگی جو ظلم کے مقابل حق کے قیام کا نام ہے، اور یہی وہ چیز ہے جس سے صہیونی استعمار سب سے زیادہ خائف ہے۔
عالمی صہیونی قوتیں بخوبی جانتی ہیں کہ اگر دنیا میں کوئی ایسا نظریہ باقی ہے جو ان کے سرمایہ دارانہ، استحصالی اور فاسد عالمی نظام کو حقیقی خطرہ دے سکتا ہے تو وہ مکتبِ تشیع ہے، اور اس مکتب کا زندہ مظہر انقلابِ اسلامی ایران ہے۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ سامراج مخالف بہت سے بڑے نام جیسے ذوالفقار علی بھٹو، شاہ فیصل، صدام حسین، اور معمر قذافی جیسے غیر شیعہ رہنما بھی اپنی سطح پر استعماری قوتوں کے مقابل اُٹھے، مگر چونکہ ان کی بنیاد کسی الٰہی فکر پر استوار نہ تھی، ان کی تحریکیں شخصی یا قوم پرستانہ تھیں، اور ان کے پیچھے عوامی سطح پر عقیدے کی وہ گہرائی نہ تھی جو انقلاب اسلامی ایران کو حاصل ہے، اس لیے وہ سب ایک ایک کر کے یا تو ختم کیے گئے یا ناکام ہوئے۔
مگر امام خمینیؒ کی قیادت میں جو انقلاب آیا وہ صرف حکومت کی تبدیلی نہ تھی، وہ ایک نظریاتی فکری، روحانی اور تہذیبی انقلاب تھا۔ اس کا مقصد صرف ایک قوم کی آزادی نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ، اور اس سے بھی بڑھ کر تمام مستضعفینِ عالم کی نجات تھی۔ یہ انقلاب ایک ایسی روحانی اور فکری کمانڈ سنٹر میں بدل گیا جو آج دنیا بھر میں مزاحمتی گروہوں کو قوت، تشخص اور ہمت دیتا ہے۔ چاہے وہ حزب اللہ ہو، انصار اللہ ہو، عراق کی حشد الشعبی ہو، فلسطین کی مزاحمت ہو یا کشمیر کے نوجوان، سب کے دل میں ایک الہامی امید کی چنگاری اسی نورِ ولایت سے روشن ہے۔ اس انقلاب کی سب سے بڑی طاقت اس کے پیچھے چھپی ہوئی وہ نظریاتی گہرائی ہے جس کا مظہر عزاداریِ سیدالشہداءؑ ہے۔ یہی عزاداری ہے جو ظلم کے خلاف فطری بغاوت کو عبادت بنا دیتی ہے، یہی وہ طاقت ہے جو آنسوؤں کو تحریک میں اور مصیبت کو مقصد میں بدل دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن سب سے پہلے اسی عزاداری، اسی مکتبِ حسینؑ، اور اسی شعورِ کربلا کو نشانہ بناتا ہے تاکہ ملت کے حوصلے، فکری استقامت، اور جذبۂ قربانی کو کمزور کیا جا سکے۔
اگر ایران کے اسلامی نظام کو زمین بوس کیا گیا تو دشمن یقیناً پوری قوت کے ساتھ اس نظریاتی و روحانی قلعے پر حملہ آور ہوگا، وہ فقط ایران پر نہیں رکے گا، بلکہ وہ عزاداری کے خلاف عالمی سطح پر مہم چلائے گا، مراجع کرام کے خلاف بدگمانیاں پھیلائے گا، تشیع کی مزاحمتی تاریخ کو مسخ کرے گا، اور ملت کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرے گا کہ یہ راہ شکست کی راہ ہے، اور اب صلح، نرمی، اور مغرب سے ہم آہنگی ہی نجات کا راستہ ہے۔ اگر خدانخواستہ ملت اس دامِ فریب میں آ گئی تو نہ صرف تشیع بلکہ تمام مسلم اقوام کئی دہائیوں تک اپنی خودی، مزاحمت اور نجات کی امید سے محروم ہو جائیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ آج جو جنگ تہران کی گلیوں میں لڑی جا رہی ہے، وہ درحقیقت ہر اُس شخص کی جنگ ہے جو دنیا میں عدل، آزادی، عزت اور دین کی سربلندی چاہتا ہے۔
لہٰذا آج عالمِ تشیع پر، اور بالعموم تمام مسلمان و مستضعف اقوام پر یہ شرعی، اخلاقی، اور تاریخی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف زبان و دل سے انقلابِ اسلامی کی حمایت کریں بلکہ اسے عملی طور پر بھی کامیاب اور قائم رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ چاہے وہ میڈیا کے محاذ پر ہو، فکری میدان میں ہو، سیاسی بیداری کی شکل میں ہو، یا اقتصادی و ثقافتی جہاد کے ذریعے، یہ وقت انفرادی مفادات، فرقہ وارانہ حدود، اور قومی تعصبات کو پسِ پشت ڈالنے کا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں امت کو خود سے بلند ہو کر ایک عالمی نظامِ عدل کے تصور کے ساتھ جُڑنا ہوگا۔ جو بھی آج اس انقلاب کو تنہا چھوڑے گا، وہ کل اپنے ہی ایمان، آزادی، اور عزت کے لیے کوئی آواز اٹھانے کے قابل نہیں رہے گا۔
یہ معرکہ فقط ایران یا اسرائیل کا نہیں، بلکہ یہ پوری انسانیت کے مستقبل کا تعین کرنے والا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ظلم، سرمایہ دارانہ چنگل، اور سامراجی جبر سے نجات پائے تو ہمیں آج اس علم کو بلند رکھنا ہوگا جس پر “یاحسینؑ” لکھا ہے، اور جس کی بنیاد “لا تُعطینَّ یدَ الذلّة” پر ہے۔ یہی وہ پرچم ہے جو ہر دور کے فرعونوں، نمرودوں، اور یزیدوں کو للکارنے کی طاقت رکھتا ہے، اور جس کے نیچے جمع ہونے والا کبھی شکست خوردہ نہیں کہلاتا بلکہ تاریخ میں ہمیشہ سرخرو لکھا جاتا ہے۔
