39

صبحِ عاشور کا منظر

  • نیوز کوڈ : 2111
  • 06 July 2025 - 19:11
صبحِ عاشور کا منظر

صبحِ عاشور کا منظر

صبح کا سورج طلوع ہوا… مگر اس کی روشنی میں کوئی خوشی، کوئی امید، کوئی دنیاوی زندگی کی رمق نہ تھی۔

یہ نورِ آفتاب نہیں، آگاہی کی تلوار تھا جو افق سے برآمد ہو رہا تھا۔

آسمان کی فضا، دردناک خاموشی کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی جیسے خود فطرت بھی لرز رہی ہو۔

خیمہ گاہ میں ہر چہرہ رضا بالقضا کا مظہر تھا،

لبوں پر ذکرِ حسینؑ، دلوں میں یقینِ زینبؑ، اور آنکھوں میں آخری دیدار کی التجا۔

حسینؑ کا خیمہ مرکزِ سکون، مگر سچ کہیے تو، مرکزِ ہنگامۂ عشق بھی!

جہاں سردارِ شہدا اپنے ساتھیوں سے خطاب فرما رہے تھے:

صبر کرو اے جوانمردو! موت تمہارے لیے پل ہے جو تمہیں بہشت تک پہنچائے گا…

بچوں کے چہروں پر بھوک و پیاس کی زردی تھی،

مگر ان کے دل مطمئن تھے کہ وہ نواسۂ رسولؐ کے ساتھ ہیں۔

بوڑھے اصحاب کی کمر جھکی ہوئی تھی،

مگر ارادے فولاد سے زیادہ مضبوط۔

زینبؑ نے علی اکبرؑ کو دیکھا…

فاطمہؑ کی جھلک نظر آئی،

لیکن سینہ صبر کا میدان رہا۔

ام کلثومؑ نے قاسمؑ کی پیشانی چومی…

ام لیلاؑ، ربابؑ، رقیہؑ… سب اپنی دعا میں قربانی کی قبولیت مانگ رہی تھیں،

کسی نے زندگی کی دعا نہیں مانگی۔

تب نعرہ بلند ہوا:

اللہ اکبر… الحرب الحرب!”

(خدا سب سے بڑا ہے… جنگ کا وقت آ گیا!)

خیمہ گاہ کی سمت فرات کی ہوائیں چل رہی تھیں،

لیکن پانی کی خوشبو بھی ظالموں کی تلواروں سے چھن چکی تھی۔

اصحابِ حسینؑ نے وضو کی بجائے خاک سے چہرے دھوئے،

اور نیاموں سے تلواریں باہر نکلنے لگیں۔

علی اکبرؑ نے جب باپ کو خداحافظ کہا تو فضائیں رک گئیں،

اور جب قاسمؑ نے “عموجان اجازت ہے؟” کہا،

تو پتھروں نے بھی آنسو بہا دیے۔

یہ صبح، صبحِ قربانی تھی…

جہاں انسانیت، ایمان، صداقت، وفا، غیرت، حیا، صبر، اور عشق  سب نے ایک ایک کر کے کربلا کی مٹی پر سجدہ کیا۔

یہ وہ صبح تھی…

جس نے تاریخ کو تقسیم کر دیا:

یا حسینؑ کے ساتھ، یا یزید کے ساتھ۔

مولانا سید عمار حیدر زیدی

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2111

ٹیگز

تبصرے