42

شبِ عاشور کا منظر

  • نیوز کوڈ : 2108
  • 06 July 2025 - 18:50
شبِ عاشور کا منظر

شبِ عاشور کا منظر

شبِ سوختہ میں ہُو کا عالم ہے…

ایسا سناٹا کہ دشتِ بیابان بھی ویران نظر آئے، گویا وقت کی گردش تھم چکی ہو۔

سکوت ایسا کہ حرکتِ قلب سے “العطش” کی صدائے پُر درد سنائی دے۔

خیمہ گاہِ حسینؑ پر ابرِ تیرہ کا بسیرا ہے،

اور ہر دل پر اندوہ و حزن کا ایسا سایہ چھایا ہے کہ اپنے بھی اجنبی لگنے لگیں۔

آشوبِ چشم، نورِ چشم پر غالب ہے،

آنسوؤں کی جھلک میں سچائی کی چمک دب چکی ہے،

اور الفتِ درد اتنی شدید ہے کہ فغانِ یگانہ تک کا بھی احساس مفقود ہو گیا ہے۔

مگر پھر بھی…

دلوں میں ایک روشنی ہے،

ایک امید ہے،

کہ آفتابِ معرفت طلوع ہونے کو ہے۔

ہر چند کہ موت قریب ہے،

مگر نورِ عرفان کے دیوانے،

اب بھی آفتابِ ولایت کی تمازت سے اپنی ارضِ ہستی پر

پارسائی و عفت کی بارشوں کے منتظر ہیں۔

شمعِ ایمان کے پروانے

اس چراغِ ہدایت کی ایک تجلی کے مشتاق ہیں،

جو شب کے ظلمت کدے میں،

صداقت کا آخری نور بن کر چمک رہا ہے۔

کہیں سے قرآنی آیات کی تلاوت کی صدائیں آتی ہیں،

کہیں نیزے تیز کیے جا رہے ہیں،

کہیں بچوں کے رونے کی آواز ہے،

اور کہیں کسی ماں کے کانپتے ہاتھوں سے

اپنے جوان بیٹے کا عمامہ باندھا جا رہا ہے۔

شبِ عاشور ہے…

مگر اس اندھیرے میں بھی یقین کی روشنی ہے،

شہادت کی مہک ہے،

اور وفا کی لازوال خوشبو!

مولانا سید عمار حیدر زیدی

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2108

ٹیگز

تبصرے