بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
کربلا کا سانحہ محض سن 61 ہجری کی ایک تاریخی جنگ نہیں بلکہ حق اور باطل، حریت اور غلامی، عدل اور استبداد، نور اور ظلمت کی ازلی جنگ کا وہ مظہر ہے جو ہر زمانے میں نئے چہروں اور نئے عنوانات کے ساتھ سامنے آتی رہی ہے۔ کربلا کے مجرم محض یزید، ابن زیاد، عمر سعد یا شمر نہیں تھے بلکہ وہ پوری طرزِ فکر، سیاسی ڈھانچے، اقتصادی مفادات اور سماجی منہج کے نمائندہ تھے جو کسی بھی وقت کے استعمار، سامراج اور طاغوت کی صورت میں ظہور کرتا ہے۔ ان افراد کا جرم صرف یہ نہیں تھا کہ انہوں نے ایک امام کو قتل کیا، بلکہ یہ کہ انہوں نے ایک الٰہی نظام کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے اسے دنیاوی طاقت، زر، سازش اور تشہیر کے ذریعے کچلنے کی کوشش کی۔ اگر اس تناظر کو اپنایا جائے تو کربلا کے مجرموں کی تطبیق آج کی دنیا کے سامراجی اور استعماری عناصر پر بڑی وضاحت سے کی جا سکتی ہے۔
رَوتھ چائلڈ خاندان جسے عالمی مالیاتی استبداد کا باپ کہا جاتا ہے، وہ کربلا کے ابن زیاد کی جدید شکل ہے جو ریاستی وسائل پر قبضہ کر کے عوام کو غلامی کے دائرے میں رکھتا ہے۔ ان کے بینکوں اور مالیاتی اداروں نے افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکہ میں وہی کردار ادا کیا ہے جو ابن زیاد نے کوفہ میں کیا تھا؛ لوگوں کو دھونس، لالچ، اور خوف سے خرید کر حق کی آواز کو دبایا۔ راک فیلر خاندان نے سرمایہ دارانہ نظام کو جس طرح عالمی استعمار کا بنیادی ستون بنایا، وہ کربلا کے شمر کے مماثل ہے؛ دل میں ذاتی حسد، مفادات کی وحشت، اور سفاکی کی انتہا۔ ان کے تحت بننے والے تھنک ٹینکس اور NGOs نے جس چالاکی سے روحانی تحریکوں کو زک دی اور عوام کے شعور کو پراگندہ کیا، وہ ویسی ہی جنگ تھی جیسی کربلا میں تلواروں سے نہیں بلکہ پروپیگنڈا اور نفسیاتی دباؤ سے لڑی گئی تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ جیسے جدید حکمران کربلا کے یزید کی عکاسی کرتے ہیں۔ وہ طاقت کے نشے میں، پوری دنیا کے عوامی مزاحمتوں، مذہبی آزادیوں اور اخلاقی اصولوں کو پامال کرتے ہیں۔ جیسے یزید نے دین کو سلطنت کا زینہ بنایا، ویسے ہی ٹرمپ نے انجیل، عیسائیت اور جمہوریت کو سیاسی مفاد کا آلہ کار بنایا۔ اس کا “ڈیل آف دی سنچری” ہو یا بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینا، ہر فیصلہ مظلوموں کی قبروں پر رقص کرنے کی مثال ہے۔ بنیامین نتن یاہو اس وقت کے عمر بن سعد سے مشابہ ہے جو میدانِ جنگ میں تو تھا مگر ضمیر میدان سے پہلے ہی بک چکا تھا۔ اس کا اسرائیلی استعمار کربلا کی فوج کی جدید صورت ہے، جو غزہ کے بچوں پر بم برساتا ہے اور حریت پسندوں کو دہشتگرد کہتا ہے، جیسا کہ کربلا میں امام حسینؑ کو خارجی کہا گیا تھا۔
ایمانوئیل میکرون اور یورپ کے وہ تمام حکمران جو آزادیِ اظہار کے نام پر رسول اللہؐ کی توہین کو جائز قرار دیتے ہیں، وہی جدید شمر ہیں، جو نام خدا کا لیتے ہیں لیکن اس کی حرمت کو روندتے ہیں۔ ان کے قانون، عدالتیں، اور تعلیمی نظام باطن میں یزیدیت کا قلعہ ہیں، جہاں عدل محض طاقتور کے لیے ہے اور آزادی محض گمراہی کے لیے۔ ان کا سیکولرزم اصل میں دین کے خلاف بغاوت کی منظم تحریک ہے، جو امام حسینؑ کے “امر بالمعروف” اور “نہی عن المنکر” کے اصول سے متصادم ہے۔
اگر پاکستان کے سیاسی اکابرین کی بات کی جائے تو یہاں کا نظامِ سیاست، اشرافیہ، اور مقتدر حلقے کربلا کے ابن زیاد اور عمر سعد کی ملی جلی تصویر ہیں۔ وہ جو عوامی ووٹ سے آتے ہیں لیکن طاقت کے ایوانوں میں جا کر طاغوت کے نمائندہ بن جاتے ہیں۔ یہ وہی چہرے ہیں جو مسجدوں میں دینداری، میڈیا پر وطن پرستی، اور جلسوں میں اخلاقیات کی بات کرتے ہیں لیکن پسِ پردہ IMF اور FATF کے دباؤ پر سود، قحبہ گری، بے حیائی، کرپشن اور استعماری غلامی کو قانونی تحفظ دیتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو آلِ رسولؐ کے ذکر پر اشک بہاتے ہیں لیکن آج کے مظلوموں کو گمراہ، غدار یا باغی کہتے ہیں۔ ان کے درباری مولوی، مفاد پرست تجزیہ کار، اور سرکاری قلمکار دراصل جدید یزیدی منبروں پر بیٹھے شمر ہیں، جو قوم کے ضمیر کو سوئے رکھتے ہیں۔
ہندوستان کا موجودہ فاشزم، نریندر مودی، آر ایس ایس اور ان کے انتہا پسند نظریات، کربلا کے وہ خوارج ہیں جو نہ عقل رکھتے ہیں نہ رحم، صرف تعصب، نفرت، اور طاقت کے جنون میں جھلسے ہوئے ہیں۔ جس طرح یزید نے اسلام کو مٹانے کے لیے دین کی ظاہری علامتوں کو باقی رکھا، ویسے ہی مودی ہندوتوا کی آڑ میں ہندوستان کو سیکولر سے ہندو راشٹر بنانے پر تُلا ہوا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے نہتے مسلمانوں کی چیخیں آج بھی کوفہ کے گلی کوچوں میں زینبؑ کے بین کی بازگشت ہیں۔
یہ تمام جدید سامراجی اور استبدادی چہرے اس ایک بنیادی قدر سے خالی ہیں جس کے لیے حسینؑ نے قربانی دی: انسان کی عزت، دین کی حرمت، اور عدل کا قیام۔ کربلا ہمیں یہ بتاتی ہے کہ باطل کبھی ایک نام، ایک چہرہ یا ایک وقت تک محدود نہیں ہوتا بلکہ ہر دور میں وہ نئے چولے پہن کر آتا ہے، نئی زبان میں بولتا ہے، اور نئی دلیلیں تراشتا ہے۔ مگر حسینؑ ہر دور میں وہی رہتا ہے؛ مظلوموں کا امام، آزادی کا پرچم، اور حق کا چراغ۔ جو آج بھی جل رہا ہے، ان ظالموں کے ظلم کے خلاف، چاہے ان کا نام راک فیلر ہو یا ابن زیاد، نتن یاہو ہو یا شمر، یا وہ سب جو فقط اس لیے خاموش ہیں کہ ان کا مفاد یزید کے دربار سے وابستہ ہے۔ حسینؑ ان سب کے خلاف وہ ابدی قیام ہے جسے سمجھنے کے لیے آنکھ نہیں دل درکار ہے۔
