✍ مولانا سید عمار حیدر زیدی قم
جب بھی محرم آتا ہے، کربلا صرف ایک سانحہ نہیں بلکہ ایک فکری اور روحانی انقلاب کی صدا بن کر دل و دماغ کو جھنجھوڑتا ہے۔ امام حسینؑ نے کربلا میں تلوار سے پہلے بصیرت سے جنگ لڑی۔ انھوں نے ہمیں سکھایا کہ صرف طاقت کافی نہیں، جب تک نگاہیں حق اور باطل کو پہچاننے والی نہ ہوں۔
کربلا ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل جنگ جسموں کی نہیں، ضمیر اور شعور کی ہے۔ امامؑ نے مٹھی بھر ساتھیوں کے ساتھ ایک ایسی فوج کا سامنا کیا جو ظاہری طاقت میں بے پناہ تھی، مگر فکر اور روح سے خالی۔ حسینؑ کے ماننے والوں نے سچ کو فقط جانا نہیں، اس پر عمل بھی کیا — اور یہی ہے بصیرت۔
آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں، اسے “عصرِ فتن” کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔
✦ جھوٹ، سچ کا لباس پہنے ہوئے ہے
✦ گمراہی، ترقی کہلاتی ہے
✦ اور جو حق بولے، وہ شدت پسند قرار پاتا ہے
امیرالمؤمنینؑ کی پیش گوئی یاد آتی ہے:
“لوگوں کو چھانا جائے گا، جیسے گندم کو چھانا جاتا ہے۔”
یعنی پرکھ کا وقت آ چکا ہے۔ جو علیؑ و حسینؑ کے راستے پر ہوگا، وہ عزت کی نہیں، آزمائش کی راہوں پر چلے گا۔
اور جو یزیدیت کے ساتھ ہوگا، وہ دنیاوی عزت و مقام پائے گا۔
امام جعفر صادقؑ نے فرمایا:
“آخرالزماں میں دین پر قائم رہنا دہکتے انگارے پر ہاتھ رکھنے کے برابر ہو گا۔”
تو کیا ہم نے خود کو اس کے لیے تیار کیا ہے؟
آج یزید تلوار سے نہیں مارتا — وہ میڈیا سے، تہذیب کے نام پر، آزادیٔ اظہار کے نام پر، سوشل میڈیا کے بہروپ میں عقل و ایمان کا قتل کر رہا ہے۔
ایسے وقت میں ہمیں کربلا کی وہ بصیرت درکار ہے جو حضرت حبیبؑ، حضرت مسلمؑ، حضرت زینبؑ نے دکھائی۔
محرم ہمارے لیے محض سوگ نہیں، فکری بیداری کا مہینہ ہے۔
یہ سوال ہر عزادار کے سامنے کھڑا ہے:
“کیا میں صرف ماتمی ہوں؟ یا حسینی بھی؟”
“کیا میں وقت کے امام کا ناصر بننے کی اہلیت رکھتا ہوں؟”
آیئے، اس محرم کو صرف سیاہ پوشی کا نشان نہ بنائیں —
بلکہ اسے چراغِ بصیرت بنائیں تاکہ ہم آخرالزماں کے دھوکے، فتنوں، اور یزیدی چہروں کو پہچان سکیں۔
