40

توحید و شرک کیا ہے؟!

  • نیوز کوڈ : 2074
  • 03 July 2025 - 14:32
توحید و شرک کیا ہے؟!

توحید و شرک کیا ہے؟!

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ۔

 تحریر : سید جہانزیب عابدی

توحید نظری اور توحید عملی دو ایسے پہلو ہیں جو اللہ کی وحدانیت کے تصور کو ایک جامع اور متوازن صورت میں سمجھنے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ اسلامی عقائد میں توحید محض ایک زبانی اقرار یا فلسفیانہ نظریہ نہیں بلکہ ایک ایسا زندہ اور جاری نظامِ حیات ہے جو انسان کی سوچ، رویے، عمل، سیاست، معیشت، عدل، اخلاق اور روحانیت سب پر محیط ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب توحید صرف نظریات کی سطح تک محدود کر دی جائے اور اس کے عملی تقاضے ترک کر دیے جائیں تو دین کا بنیادی مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے، اور اگر توحید کو عمل میں لایا جائے مگر اس کی معرفت و فہم نہ ہو تو وہ عمل بے روح اور رسمی بن جاتا ہے۔

توحید نظری اس عقیدہ کا نام ہے کہ اللہ واحد ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہی خالق، رازق، مالک، مدبر اور حاکم مطلق ہے۔ اس عقیدہ میں اللہ کی ذات و صفات کو یکتا سمجھا جاتا ہے، اور انسان کسی مخلوق کو نہ عبادت میں، نہ ربوبیت میں، نہ حاکمیت میں، اور نہ تصرف کائنات میں شریک سمجھتا ہے۔ توحید نظری کا اظہار کلمۂ “لا إله إلا الله” میں ہوتا ہے، اور یہ انبیاء کا بنیادی پیغام رہا ہے۔

لیکن اگر یہی توحید صرف زبان تک محدود ہو جائے اور عملی زندگی میں اس کا اثر نظر نہ آئے تو یہ ایک ادھوری توحید رہ جاتی ہے۔ توحید عملی اس نظری توحید کو زندگی میں نافذ کرنے کا نام ہے۔ یعنی جب انسان اللہ کو حاکمِ مطلق مانتا ہے تو وہ اس کی شریعت کو زندگی کے ہر شعبے میں نافذ کرنے کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ جب وہ اللہ کو رزق دینے والا مانتا ہے تو حرام ذرائع سے رزق کی تلاش نہیں کرتا۔ جب وہ اللہ کو عادل مانتا ہے تو خود بھی عدل و انصاف کا دامن تھامتا ہے۔ جب وہ اللہ کی بندگی کا قائل ہوتا ہے تو کسی غیر کی اطاعت میں اس کی نافرمانی نہیں کرتا۔ یہ ہے توحید عملی۔

اسی لیے اہل تشیع کا تصورِ توحید ایک متوازن و جامع تصور ہے، جو توحید نظری اور توحید عملی دونوں کو لازم و ملزوم سمجھتا ہے۔ شیعہ مکتب میں نہ صرف اللہ کی وحدانیت پر عقلی و نقلی دلائل کے ساتھ ایمان لایا جاتا ہے بلکہ اس ایمان کو عملی زندگی میں نافذ کرنا بھی واجب سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ تشیع کے ہاں عقیدۂ توحید صرف فلسفۂ وجود یا علمِ کلام کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک زندہ، حرکی اور معاشرتی حقیقت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام علیؑ کے نہج البلاغہ میں توحید کی گفتگو جہاں دقیق فلسفیانہ سطح پر ہوتی ہے، وہاں ساتھ ہی ساتھ ان کے سیاسی و سماجی خطبات میں بھی توحید کی عملی تعبیرات موجود ہیں، جیسے ظلم کے خلاف قیام، عدلِ اجتماعی کی تاکید، اور طاغوتی قوتوں کی نفی۔

بالمقابل سلفی و وہابی مکتب فکر توحید کو محض نظریاتی بحثوں اور لفظی اصطلاحات تک محدود کر دیتا ہے۔ ان کے ہاں توحید کا مطلب ہے صرف شرکِ جلی یعنی بت پرستی سے بچنا، یا قبروں پر سجدہ نہ کرنا، یا نبی و ولی سے توسل کو ممنوع قرار دینا۔ ان کے نزدیک توحید بس چند ظاہری اعمال کی نفی کا نام ہے۔ چنانچہ وہ اللہ کی وحدانیت کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں لیکن جب عمل کی باری آتی ہے تو انہی لوگوں کو استعمار کی گود میں بیٹھا پایا جاتا ہے، وہ امریکہ و اسرائیل سے مدد لیتے ہیں، ان کے مفادات کی حفاظت کے لیے فتوے جاری کرتے ہیں، اور عدل و انصاف کی بجائے طاقتور کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ شرک کو صرف مندر، قبر یا دعا سے توسل میں دیکھتے ہیں، مگر جب ایک کافر و طاغوتی طاقت کو ولی و مددگار بنا کر اس سے استعانت کی جاتی ہے تو اسے شرک نہیں مانتے۔

اسی فرق کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص اللہ کی وحدانیت کا قائل ہے مگر ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھاتا، تو وہ توحید کا صرف زبانی دعویدار ہے۔ جبکہ دوسرا شخص اللہ کو واحد حاکم سمجھتا ہے اور اسی بنیاد پر ظلم کے خلاف قیام کرتا ہے، جیسے حسینؑ ابن علی نے یزید کے باطل نظام کے خلاف قیام کیا۔ یہی قیام توحید عملی کی روشن ترین مثال ہے۔

قرآن نے بارہا صرف ایمان لانے والوں کی نہیں بلکہ “الذین آمنوا و عملوا الصالحات” کی بات کی ہے، یعنی ایمان کے ساتھ عمل صالح کو لازم قرار دیا ہے۔ سورہ یوسف میں حضرت یوسفؑ فرماتے ہیں کہ “إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ”، یعنی “حکم و قانون کا اختیار صرف اللہ کو ہے”۔ یہی توحید عملی کا منشور ہے۔ جب حاکمیتِ مطلقہ اللہ کے لیے مانی جائے تو کسی انسان یا گروہ کی خود ساختہ شریعت یا طاغوتی نظام کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اسی تصور کو تشیع نے اپنے ایمہ کے ذریعے واضح طور پر پیش کیا۔ امام علیؑ کی خلافت کے دوران عدل، مساوات، بیت المال کی شفاف تقسیم، اور طاغوت سے برسرپیکار رہنے کی روش، عملی توحید کی جھلک ہے۔

توحید نظری ایک درخت کی جڑوں کی مانند ہے، اور توحید عملی اس کی شاخوں، پتیوں، پھولوں اور پھلوں کی مانند ہے۔ اگر صرف جڑ ہو اور درخت نہ اُگے، تو نہ سایہ ملتا ہے، نہ پھل۔ اسی طرح اگر صرف عمل ہو مگر بنیاد میں صحیح عقیدہ نہ ہو، تو وہ ناپائیدار اور ضعیف درخت کی مانند ہے۔ اسلام ایک ایسا مکمل نظام حیات ہے جو نظریہ اور عمل کے امتزاج سے قائم ہوتا ہے، اور حقیقی توحید اسی امتزاج کا نام ہے۔

خلاصہ یہ کہ اہل تشیع کا تصور توحید نظریاتی سطح پر نہایت عمیق اور فلسفیانہ ہے، جیسا کہ صدرا، خواجہ نصیر، علامہ طباطبائی اور امام خمینیؒ کے افکار میں نظر آتا ہے، اور عملی سطح پر بھی مظلومین کی حمایت، عدل کے قیام، استعمار کی مخالفت، اور دین کے لیے جان و مال قربان کرنے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ جبکہ سلفی یا وہابی فکر محض ظاہری شرک کی نفی پر مرکوز ہے، مگر استعمار کے ساتھ دوستی، ظلم پر خاموشی، اور معاشرتی عدل کے انکار نے ان کی توحید کو صرف لفظوں کا ایک خول بنا دیا ہے۔

اسلام کی توحید نہ لفظی ہے، نہ خاموش، بلکہ وہ ایک زندہ، متحرک، اور سماجی عدل پر مبنی حقیقت ہے، جس کا مقصد انسان کو ہر غیر کے بندگی سے نکال کر صرف اللہ کی بندگی میں داخل کرنا ہے، قولاً بھی اور عملاً بھی۔

جب ہم توحید کے مفہوم کو اس کی گہرائی سے سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ جاننا ضروری ہوتا ہے کہ توحید کا مطلب صرف یہ نہیں کہ اللہ کو خالق مانا جائے یا یہ کہ زبان سے “لا إله إلا الله” کا اقرار کیا جائے، بلکہ حقیقی توحید یہ ہے کہ انسان اپنے تمام امور میں، خواہ وہ روحانی ہوں یا مادی، خدا ہی کو حاکم، مرجع اور فیصلہ ساز سمجھے۔ اسی لیے توحید کی عملی صورت اس وقت واضح ہوتی ہے جب انسان مشکل حالات، جہادی آزمائشوں، اضطراب، خوف، یا ہدایت کی طلب میں اپنے طور پر نہیں بلکہ خدا کے بتائے ہوئے ذرائع سے رجوع کرے۔

قرآن مجید کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے ساتھ رابطے کے لیے انبیاء، اولیاء اور آئمہ کو وسیلہ بنایا ہے۔ ان کی بعثت محض ایک رسمی یا اختیاری امر نہیں بلکہ یہ خدا کا مقرر کردہ نظامِ ہدایت ہے۔ جیسے حضرت موسیٰؑ کے زمانے میں بنی اسرائیل خدا سے براہ راست بات نہیں کر سکتے تھے، بلکہ انہیں موسیٰؑ کے ذریعے ہی احکام ملتے، اور جب بھی کوئی آفت یا قحط آتا تو وہ موسیٰؑ سے درخواست کرتے کہ وہ خدا سے دعا کریں۔ یہی حال حضرت عیسیٰؑ، حضرت نوحؑ اور دیگر انبیاء کا تھا۔ اسی منہج پر خدا نے امت محمدیہؐ کے لیے بھی ایک خاص سلسلہ قائم کیا—وہ سلسلہ جسے قرآن نے “اولی الأمر”، “الراسخون فی العلم”، “الذین آمنوا و عملوا الصالحات” اور “الذین یقاتلون فی سبیل الله” جیسے عنوانات سے بیان کیا ہے۔

یہ اللہ کا اپنا منصوبہ ہے کہ وہ انسان کو براہ راست آسمان سے ہدایت دینے کے بجائے، انسانوں میں سے چنیدہ اور معصوم ہستیوں کو اپنا نمائندہ بناتا ہے۔ تو جب خدا خود کسی کو اپنا ولی، امام، خلیفہ یا حجت قرار دیتا ہے، تو اس کے ذریعے رابطہ رکھنا دراصل خود خدا سے رابطہ ہے۔ یہ رابطہ ایک ایسا نظامِ توسل ہے جو خدا نے اپنی حکمت سے خود مقرر کیا ہے، اور اس سے رجوع کرنا ایمان، توحید اور عبودیت کی علامت ہے۔ قرآن میں اللہ نے نبی اکرمؐ سے فرمایا: ولو أنهم إذ ظلموا أنفسهم جاؤوك فاستغفروا الله واستغفر لهم الرسول لوجدوا الله توابا رحیما۔ اس آیت میں “جاؤوك” یعنی “وہ تمہارے پاس آئیں” کی تعبیر دراصل توسل کے اس تصور کو بیان کرتی ہے جس میں بندہ، نبیؐ اور پھر خدا سے مغفرت کی امید رکھتا ہے۔

توحید کی عملی روح اسی وقت محفوظ رہتی ہے جب انسان خدا کی نامزد کردہ ہستیوں سے رجوع کرے اور ان سے توسل کو عین اطاعت الٰہی سمجھے، نہ کہ خدا کے بالمقابل کوئی خود ساختہ نظام یا شخصیت تراشے۔ جب انسان کسی ایسے ولی، رہبر یا امام سے تعلق جوڑتا ہے جسے خدا نے نامزد نہیں کیا، بلکہ جو کسی سیاسی، جغرافیائی یا جذباتی وابستگی کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہو، تو وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر توحید کی عملی بنیادوں سے ہٹ جاتا ہے۔ ایسی صورت میں انسان، خدا کی بجائے اپنی خواہشات، مفادات یا روایات کی پیروی کرتا ہے، اور یہی درحقیقت شرکِ خفی کی ایک شکل ہے۔

توحید کا عملی مظہر یہ ہے کہ بندہ صرف اسی راستے سے خدا سے قرب چاہے جسے خدا نے متعین کیا ہے۔ جیسے کعبہ کے علاوہ کسی اور سمت کو قبلہ بنانا عملًا خدا کی ہدایت سے انحراف ہے، اسی طرح خدا کے منتخب کردہ وسیلوں کو چھوڑ کر کسی دوسرے وسیلے سے ہدایت، مغفرت یا مدد چاہنا بھی توحید سے انحراف ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ خدا نے اولیاء کے توسط سے ہی اپنی مدد بھیجنے کا وعدہ کیا ہے، جیسے بدر میں ملائکہ کی مدد یا کربلا میں امام حسینؑ کی نصرت کو خدا کی راہ میں ایک نمونہ بنا دینا۔

 توحید کا سچا اور عملی معنی یہ ہے کہ انسان، خواہ عبادت میں ہو یا ہدایت کے طلب گار، چاہے وہ استغاثہ کر رہا ہو یا جہاد میں مشکل کا سامنا، وہ ان دروازوں سے رجوع کرے جو خدا نے کھولے ہیں، نہ کہ وہ دروازے جو خود انسان نے تراش لیے ہوں۔ اس سے انکار کرنا دراصل توحید کی روح کا انکار ہے، اور ان سے انکار کرنا دراصل خدا کی حاکمیت، منصوبہ بندی اور حکمت کے انکار کے مترادف ہے۔

یہی توحید کی عملی معراج ہے کہ انسان اپنی خواہش، خوف، جہالت یا تعصب کو چھوڑ کر خدا کے نظام سے ہم آہنگ ہو جائے، اور خدا کے بتائے ہوئے وسیلوں کے ذریعے خود کو خدا سے جوڑ لے۔ یہی سچی بندگی، یہی اطاعت، یہی اسلام، اور یہی توحید ہے۔

توحید کے عملی ہونے میں کئی گہری اور پیچیدہ ممانعتیں ہوتی ہیں جو انسان کے باطن، معاشرت، تاریخ اور اجتماعی نفسیات سے جڑی ہوتی ہیں۔ سب سے پہلی رکاوٹ خود انسان کی نفسی ساخت اور اس کا اندرونی خوف ہے۔ انسان اپنی ذات، مفادات، تعلقات اور روایتوں سے ایسا جُڑ جاتا ہے کہ وہ توحید کے ان عملی تقاضوں کو اپنانے سے کتراتا ہے جن میں قربانی، سچائی اور عدل کی آزمائش آتی ہے۔ عملی توحید کا مطلب ہے ہر باطل طاقت کے سامنے “لا” کہنا، ہر ناحق کے خلاف کھڑے ہونا، ہر ظلم کی مذمت کرنا — مگر یہ سب کہنا یا کرنا آسان نہیں۔ انسان اپنی عزت، آرام، مفاد، خاندان، برادری یا اپنی چھوٹی سی حیثیت کے لیے جھوٹ کے ساتھ سمجھوتہ کر لیتا ہے، مگر اللہ کی حاکمیت کا عملی اقرار نہیں کرتا۔ یہ نفسیاتی خوف اور سہولت پسندی سب سے پہلی رکاوٹ ہے۔

تاریخی طور پر بھی توحید کو صرف زبانی دعوے کی سطح پر محدود رکھنے کی روش غالب رہی ہے۔ جب معاشروں میں بادشاہت، قبائلی نظام، طبقاتی اقتدار یا مذہبی اجارہ داری قائم ہو جائے تو وہ ہر اس نظریے سے خائف ہو جاتے ہیں جو ان کی بالادستی کو چیلنج کرے۔ توحید عملی کا سب سے پہلا تقاضا یہ ہے کہ بندہ صرف اللہ کو حاکمِ مطلق مانے، اور کسی انسانی قوت کو قانون سازی، عدالت یا بندگی میں خود مختار نہ سمجھے۔ لیکن جب بادشاہوں، حکمرانوں یا حتیٰ کہ بعض مذہبی طبقات نے اپنی بالادستی کو محفوظ رکھنے کے لیے دین کو ایک محدود رسمی دائرے تک محدود کر دیا، تو توحید کے انقلابی پہلو کو چھپا لیا گیا۔ تاریخ نے ایسے بے شمار نمونے دیکھے ہیں جب حاکم وقت نے “لا إله إلا الله” کا نعرہ لگایا مگر اللہ کی حاکمیت کو اپنی کرسی کے تابع کر دیا۔

ایک اور بڑی رکاوٹ فکری تعصب ہے۔ جب انسان کسی مخصوص فکر، مسلک، قبیلے یا لیڈر سے اس قدر جُڑ جائے کہ وہ ہر حق بات کو صرف اس لیے رد کر دے کہ وہ اس کے حلقے سے باہر سے آ رہی ہے، تو وہ لاشعوری طور پر توحید کے راستے میں دیوار بن جاتا ہے۔ توحید عملی کا تقاضا ہے کہ انسان حق کو قبول کرے چاہے وہ کسی غیر سے آ رہا ہو، مگر تعصب، ہٹ دھرمی اور ذہنی جمود انسان کو اس پر آمادہ نہیں ہونے دیتے۔ جو قومیں یا افراد پہلے سے قائم مفروضات، مسلکی انا اور برادری کے دباؤ کے قیدی بن جائیں، وہ اگرچہ توحید کا نام لیتے ہیں، مگر عملاً شرکِ خفی میں مبتلا ہو جاتے ہیں، کیونکہ وہ اللہ کی بجائے اپنے تعصبات کو معیارِ حق بناتے ہیں۔

ایک اہم رکاوٹ یہ بھی ہے کہ توحید کے زندہ اور روشن کردار ہمارے سماجوں میں یا تو موجود نہیں، یا پھر دبائے گئے ہیں۔ جب افراد کو ایسے رول ماڈلز نظر نہیں آتے جو صرف اللہ کے لیے زندگیاں وقف کرتے ہوں، جو ظلم کے سامنے کھڑے ہوں، جو حق کی قیمت چکائیں، جو عملاً یہ دکھائیں کہ “لا إله إلا الله” کا مطلب صرف زبان کا اقرار نہیں بلکہ پوری حیات کا اللہ کے سپرد کرنا ہے، تو ایسی صورت میں توحید ایک جامد تصور بن جاتی ہے۔ جب کربلا جیسے واقعات کو محض تاریخی ماتم یا مذہبی رسم تک محدود کر دیا جائے، اور ان کی عملی پیروی کے لیے ماحول، تربیت اور حوصلہ نہ ہو، تو امت نظری توحید کی قائل رہتی ہے مگر عملی توحید سے دور ہو جاتی ہے۔

معاشی اور سیاسی دباؤ بھی توحید کے عملی نفاذ کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ جب کوئی فرد یا معاشرہ استعماری نظاموں کا محتاج ہو، جب رزق کا دروازہ ظالم طاقتوں سے وابستہ کر دیا جائے، جب فکری آزادی کو دبایا جائے، جب صداقت بولنے کی قیمت جان و مال ہو، تو ایسے ماحول میں صرف وہی لوگ توحید کو عملاً اپنا پاتے ہیں جو نہایت اعلیٰ درجے کی بصیرت، ہمت اور یقین رکھتے ہوں۔ اکثریت خاموش ہو جاتی ہے، اور توحید محض مسجد کی دیواروں میں بند ہو جاتی ہے۔

یہ تمام رکاوٹیں—نفسیاتی، تاریخی، تعصبی، تربیتی اور معاشی—اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ توحید ایک زندہ اور انقلابی حقیقت ہے جس کے نفاذ میں ہر وہ چیز مزاحم ہے جو انسان کو سہولت، طاقت، روایت یا خوف کے خول میں بند کر دے۔ حقیقی توحید اسی وقت زندہ ہو سکتی ہے جب انسان خود سے، اپنے تعصبات سے، اور دنیا کی دھونس سے آزاد ہو کر صرف اللہ کو حاکم، مالک اور معبود ماننے پر راضی ہو — نہ صرف زبان سے، بلکہ عمل سے بھی۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2074

ٹیگز

تبصرے