42

پاکستان میں شیعہ قیادت, ایرانی قیادت اور ائمہ ع کی حکمت عملیوں میں مماثلت

  • نیوز کوڈ : 2055
  • 27 June 2025 - 2:34
پاکستان میں شیعہ قیادت, ایرانی قیادت اور ائمہ ع کی حکمت عملیوں میں مماثلت

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔  تحریر : سید جہانزیب عابدی علامہ ساجد علی نقوی کی حکمت عملی درحقیقت پاکستان جیسے نازک اور متنوع معاشرتی، سیاسی اور فرقہ وارانہ پس منظر رکھنے والے ملک میں تشیع کے تحفظ، تشخص اور تدریجی ارتقاء کے لیے ایک گہری فکری بصیرت پر مبنی ہے۔ یہ وہ طرزِ عمل ہے جسے […]

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

 تحریر : سید جہانزیب عابدی

علامہ ساجد علی نقوی کی حکمت عملی درحقیقت پاکستان جیسے نازک اور متنوع معاشرتی، سیاسی اور فرقہ وارانہ پس منظر رکھنے والے ملک میں تشیع کے تحفظ، تشخص اور تدریجی ارتقاء کے لیے ایک گہری فکری بصیرت پر مبنی ہے۔ یہ وہ طرزِ عمل ہے جسے اگر سطحی نگاہ سے دیکھا جائے تو سادگی، خاموشی یا کمزوری کا تاثر دے سکتا ہے، مگر جب اس کے پیچھے موجود تدبر، صبر، تحمل، دور اندیشی، اور وقت کی نزاکتوں کا فہم سمجھا جائے تو یہ انداز اس جغرافیے میں عملیت پسندی اور حکمتِ دین کا نہایت مدبرانہ نمونہ نظر آتا ہے۔

پاکستان کے سیاسی، انتظامی اور سیکیورٹی تناظر میں ایک ایسی تحریک کو قیادت دینا جو صرف اپنے مسلک کے دفاع کی ذمہ دار نہ ہو بلکہ پورے ملی تشخص، قومی وحدت اور اسلام کی جامعیت کی ترجمان ہو، اس کے لیے فکری بلندی اور دینی غیرت کے ساتھ ساتھ بہت گہرا صبر، مستقل مزاجی اور توازن درکار ہوتا ہے۔ علامہ ساجد نقوی نے اس کردار کو محض احتجاج، ردعمل یا وقتی جوش کی بنیاد پر نہیں نبھایا، بلکہ انہیں اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ پاکستان جیسے ریاستی ڈھانچے میں جہاں مختلف قومی ادارے گاہے گاہے تشیع کے وجود کو محدود کرنے یا کمزور کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، وہاں کوئی بھی بے وقت، جذباتی یا تند اقدام صرف دشمن کو طاقتور کرے گا، اور تشیع کی ساکھ کو نقصان پہنچائے گا۔

علامہ صاحب کی اسٹریٹیجی کا بنیادی اصول یہ رہا ہے کہ داخلی سطح پر تشیع کی فکری تربیت، سماجی تنظیم، اور آئینی شعور کو بڑھایا جائے، تاکہ قوم خود اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور خود اپنی طاقت بنے۔ وہ کسی سہارے پر انحصار کرنے کے بجائے ملت کے داخلی بیداری پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی تقریریں، پیغامات اور بیانات ہمیشہ وحدتِ امت، آئینی جدوجہد، پرامن مزاحمت اور اجتماعی نظم و ضبط کی تاکید کرتے ہیں۔ ان کا موقف یہ ہے کہ جس قوم میں شعور ہو، تعلیم ہو، تنظیم ہو، اور اپنے دشمن کی چالوں کا فہم ہو، اُسے دشمن کی ہر سازش سے نمٹنے کے لیے بندوق سے پہلے تدبیر کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے کبھی قومی سیاست سے علیحدگی اختیار نہیں کی، بلکہ تشیع کو پاکستان کے قومی دھارے میں ایک باوقار، باشعور، باعمل قوت کے طور پر قائم رکھا۔ اُن کی قیادت نے ہمیشہ قانونی دائرے کے اندر رہ کر ہر ناانصافی کے خلاف آواز بلند کی، مگر کبھی ایسا نہیں کیا کہ جس سے پاکستان کی ریاستی ساخت، وحدتِ ملت یا بین المسالک امن خطرے میں پڑے۔ یہی وہ طریقہ ہے جسے بعض لوگ کمزوری سمجھتے ہیں، مگر یہ دراصل اُس حکمت عملی کا حصہ ہے جو دشمن کے فریب، اشتعال انگیزی اور داخلی انتشار پیدا کرنے کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے اختیار کی جاتی ہے۔

علامہ ساجد علی نقوی کا تصور قیادت، تشیع کو ایک مزاحمتی مگر مہذب، پرامن مگر بیدار، خاموش مگر فکری، اور کمزور نظر آنے والا مگر باطن میں مضبوط ترین مکتب بنانے کا نمونہ ہے۔ انہوں نے ملت کو صرف مظلومیت میں جینا نہیں سکھایا، بلکہ قانونی، آئینی اور اجتماعی دائرے میں اپنے وجود کو منوانے کا سلیقہ دیا۔ وہ جانتے ہیں کہ اس ملک میں اگر تشیع کو حقیقی قیادت دینی ہے تو وہ قیادت نعرے، شور یا تصادم سے نہیں بلکہ صبر، نظم، اور حقیقت شناسی سے پیدا ہوگی۔ ان کے نزدیک قیادت کا کام صرف جذبات کو ہوا دینا نہیں بلکہ ان جذبات کی تربیت کرنا ہے تاکہ ملت ردعمل میں بکھرے نہیں بلکہ مقصد کی طرف بڑھے۔

اس حکمت عملی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ علامہ ساجد علی نقوی صرف موجودہ حالات پر نہیں بلکہ مستقبل پر نظر رکھتے ہیں۔ وہ آج جو بنیاد رکھ رہے ہیں وہ ملت کے آنے والے نسلوں کے لیے ایک فکری و عملی راستہ تیار کر رہی ہے، جس میں پاکستان کے اندر ایک باشعور، مہذب، متحد، باصلاحیت اور نظریاتی تشیع ابھر رہی ہے جو وقت آنے پر صرف اپنے دفاع کی نہیں بلکہ اصلاحِ ملت اور نجاتِ امت کی قیادت کر سکتی ہے۔

یہی ان کی اسٹریٹیجی کا حسن ہے، یہی اس کی پختگی ہے، اور یہی وہ عملی مہدویت کا پہلا قدم ہے جس میں انتظار کا مفہوم محض ظہور کا منتظر ہونا نہیں بلکہ ایک منظم، پرعزم اور باشعور امت کا تیار ہونا ہے۔

علامہ ساجد علی نقوی کی داخلی حکمت عملی اگر گہرائی سے دیکھی جائے تو اس کی فکری جڑیں بعینہٖ اس رہنمائی سے جڑی ہوئی ہیں جو رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی عالمی سطح پر پالیسی میں نظر آتی ہے۔ دونوں شخصیات بظاہر مختلف جغرافیوں اور دائرہ کار میں کام کر رہی ہیں، لیکن ان کی حکمت، اندازِ قیادت، بردباری، تدبر اور نظریاتی استقامت ایک ہی اصولی بنیاد پر استوار ہے: حق کا دفاع، باطل کے مقابل حکمت و صبر، اور ملت کو طویل مدتی بصیرت کے ساتھ تیار کرنا۔

رہبر معظم کی عالمی حکمت عملی کا ایک بنیادی نکتہ یہ ہے کہ مزاحمت کو فقط ردعمل یا شورش کی صورت میں نہ برتا جائے بلکہ اُسے ایک منظم، فکری اور اخلاقی طاقت کی شکل دی جائے جو دشمن کے طوفان میں بھی اپنے قدموں پر ثابت رہے اور بگاڑ کے میدان میں اصلاح کا پرچم بلند رکھے۔ رہبر کا یہ نظریہ کہ “ہم اپنے اصولوں پر قائم رہ کر آگے بڑھیں گے” دراصل وہی حکمت ہے جو علامہ ساجد نقوی نے پاکستان کے محدود لیکن حساس تناظر میں اپنائی ہے۔ دونوں قیادتیں جانتی ہیں کہ کسی ملت کو بچانا فقط دشمن سے جنگ کرنے میں نہیں بلکہ اس کے اندر ایسی طاقت پیدا کرنے میں ہے جو دشمن کے ہر چال کو صبر، شعور اور اتحاد سے ناکام بنا سکے۔

امام حسن علیہ السلام کی صلح، جو تاریخ کی سب سے misunderstood حکمت عملی رہی، دراصل اسی اصول کی بلند ترین مثال ہے۔ امام حسن علیہ السلام نے بظاہر اقتدار کو چھوڑا، مگر درحقیقت انہوں نے امت کی جان، دین کا تشخص، اور اہل بیت علیہم السلام کے مشن کی بقاء کے لیے وہ راہ چنی جو وقتی نظر میں پیچھے ہٹنا تھا لیکن حقیقت میں آنے والی نسلوں کو حق و باطل کی پہچان سکھانے کا ذریعہ بنا۔ ان کی صلح ایک ایسی تدبیر تھی جو وقتی جنگ نہ جیت سکی مگر تاریخ کی جنگ جیت گئی۔ یہ وہی اصول ہے جو رہبر اور علامہ ساجد علی نقوی کی حکمت عملی کا ستون ہے: جب دشمن طاقت کے نشے میں ہو اور امت پراگندہ، تو اس وقت بندوق اٹھانا بہادری نہیں بلکہ امت کو بے سر کر دینا ہے؛ مگر جب امت بیدار، متحد اور بصیرت مند ہو جائے، تو ہاتھ میں بندوق بھی ہو اور دل میں یقین بھی۔

رہبر معظم نے عالمی سطح پر فلسطین، لبنان، یمن، اور عراق کے مزاحمتی محاذ کو صرف اسلحہ دے کر نہیں بلکہ فکری تربیت، اخلاقی جواز، اور حکمتِ عمل کے ذریعے ایسی قیادت عطا کی جو ہر بحران میں اپنے پیروں پر کھڑی رہتی ہے۔ یہ عمل وہی ہے جو علامہ ساجد علی نقوی نے پاکستان میں اختیار کیا، جہاں انہوں نے کسی بھی سازش، اشتعال، یا داخلی تصادم سے تشیع کو محفوظ رکھتے ہوئے ایک ایسی ملت کی بنیاد رکھی جو نہ صرف اپنا دفاع کر سکے بلکہ اصلاحِ ملت اور وحدتِ امت کی قیادت بھی کرے۔

امام علی علیہ السلام سے امام حسن علیہ السلام، اور پھر امام حسین علیہ السلام تک ہر امام نے وقت اور حالات کے مطابق حکمت اختیار کی۔ امام حسین علیہ السلام نے میدانِ کربلا میں شمشیر اٹھائی تو امام حسن علیہ السلام نے صلح کے ذریعے باطل کو بے نقاب کیا۔ امام باقر علیہ السلام اور امام صادق علیہ السلام نے فکری تربیت کے ذریعے دشمن کے علمی نظام کو شکست دی۔ یہ سب دراصل ایک مسلسل اور مربوط حکمت کا اظہار ہے: کہ قیادت کا کام وقت کے تقاضوں کو سمجھ کر قوم کو بچانا اور اس کا مستقبل محفوظ بنانا ہے۔

لہٰذا علامہ ساجد علی نقوی کی حکمت عملی، رہبر معظم کی عالمی حکمتِ قیادت، اور ائمہ علیہم السلام کی سیرتِ معصومین دراصل ایک ہی دریا کے مختلف بہاؤ ہیں، جن کا ماخذ عقل، بصیرت، صبر، توکل، اور راہِ خدا میں استقلال ہے۔ یہ وہ قیادت ہے جو شور میں نہیں چلتی، شعور میں قدم رکھتی ہے۔ دشمن چاہے جتنا بڑا ہو، اگر قیادت صابر، حکیم، اور بیدار ہو تو نہ صرف دشمن کی چال ناکام ہوتی ہے بلکہ قوم وقت کے ساتھ ایک ایسی قوت میں تبدیل ہو جاتی ہے جسے نہ جنگ روک سکتی ہے نہ فریب، نہ تحریف اور نہ ہی بظاہر وقتی تنہائی۔ اور یہی راہِ مہدویت ہے، جس کی بنیاد صلحِ حسن سے لے کر کربلا، عصرِ غیبت، اور آخرکار ظہور پر منتج ہوتی ہے۔

اس حکمت عملی کو اپنانے کی سب سے بنیادی اور عمیق وجہ امت کی مجموعی بے شعوری، افتراق، اور قیادت سے بدگمانی یا بے نیازی ہے۔ جب معاشرے میں باطل کے مقابل قیام کے لیے وہ شعور، وہ بصیرت، اور وہ عزم موجود نہ ہو جو کسی حقیقی انقلاب یا تحریک کا ایندھن بنتا ہے تو اس وقت اگر کوئی مخلص اور صادق قیادت فقط اس لیے میدان میں اتر جائے کہ دشمن موجود ہے، تو نتیجہ یا تو وہی ہوگا جو امام حسینؑ کے بعد کوفہ والوں کے ساتھ ہوا، یا وہی جو انبیاء بنی اسرائیل کے ساتھ پیش آیا کہ ایک فرد یا چند مخلصین تو کھڑے رہے مگر امت پیچھے ہٹ گئی، یا خواب خرگوش میں سوئی رہی، یا مصلحت اور دنیا کے خوف میں مبتلا ہو کر قیادت کو تنہا چھوڑ دیا۔

تاریخ ہمیں بارہا بتاتی ہے کہ سچے انقلابات فقط جوش، ہتھیار یا نعرے سے نہیں بلکہ فکری و روحانی تیاری، اجتماعی شعور اور قیادت پر ایمان و اعتماد سے پروان چڑھتے ہیں۔ یہی وہ کمی ہے جو انبیاء علیہم السلام کو اپنی قوموں میں درپیش رہی۔ حضرت نوحؑ نے سینکڑوں سال تبلیغ کی مگر امت تیار نہ ہوئی، حضرت موسیٰؑ نے فرعون کے مقابل قیام کیا تو قوم نے سجدہ گاؤ پر اپنی عقیدت لگا دی، اور جب رسول خداﷺ نے بدر و احد سے کربلا اور ظہور تک کی تحریک کا آغاز کیا تو چند نفوس کے سوا پوری امت نہ ہجرت کے وقت ساتھ کھڑی ہوئی، نہ صلح الحدیبیہ کو سمجھا، نہ غدیر کے اعلان کو محفوظ رکھا۔

یہی اصول ائمہ اہل بیتؑ کی حیات میں نظر آتا ہے۔ امام علیؑ نے اس وقت خلافت سنبھالی جب امت فتنوں میں الجھ چکی تھی اور وہ ان سے جنگ کرنے کی بجائے ان کے ساتھ سازباز چاہتی تھی۔ امام حسنؑ نے صلح اس وقت کی جب فوج میں منافقین اور دنیا پرست اس حد تک غالب آ چکے تھے کہ جنگ کی صورت میں نتیجہ نہ فقط شکست ہوتا بلکہ امامت کی توقیر بھی مٹ جاتی۔ امام حسینؑ نے قیام اسی وقت کیا جب یہ سمجھ لیا کہ خاموشی دین کی موت ہے اور قربانی دینا زندگی کی علامت۔ امام جعفر صادقؑ نے خونریزی کے بجائے علمی تربیت کو ترجیح دی کیونکہ امت کی فکری کمزوری انقلابی اقدام کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہ تھی۔

آج کے دور میں جب عالمی سطح پر ظالم قوتیں متحد ہیں، سرمایہ، میڈیا، ادارے، اور افکار سب ایک شیطانی نظام کے تحت انسانیت کو گمراہی، فحاشی، ظلم، اور ناانصافی کی طرف دھکیل رہے ہیں، تو اس کا مقابلہ محض ہتھیار سے نہیں بلکہ ایسا شعور، ایسی بصیرت، اور ایسی امت کے قیام سے ممکن ہے جو دشمن کی شناخت رکھتی ہو، اپنے ولی کی اطاعت کرتی ہو، اور باطل کی چالوں میں الجھنے کے بجائے صبر و حکمت کے ساتھ اپنی صفیں منظم کرے۔

یہی وہ پس منظر ہے جس میں حکیم، صابر، اصولی قیادتوں نے جیسے رہبر معظم سید علی خامنہ ای یا علامہ ساجد نقوی نے صرف دشمن کے وجود کو دیکھ کر جذباتی ردعمل کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ امت کے داخلی احوال، نفسیاتی سطح، شعوری کمزوری، فکری پراکندگی، اور آپسی افتراق کو مدنظر رکھتے ہوئے تدریجی، حکیمانہ، اور دانشمندانہ حکمت عملی اپنائی تاکہ امت کو پہلے سنوارا جائے، پھر اٹھایا جائے، اور جب اُٹھے تو قیامت کی طرح اثر کرے۔

یہ بات بھی باعث عبرت ہے کہ اسرائیل اور امریکہ جیسی طاقتیں جب کسی خطے پر حملہ کرتی ہیں، تو اکثر مسلم ممالک خاموش رہتے ہیں، یا مصلحت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ فلسطین ہو یا یمن، افغانستان ہو یا شام، مزاحمت صرف چند محاذوں تک محدود رہتی ہے، اور بقیہ امت یا تو تماشائی بنی رہتی ہے یا دشمن کے ساتھ تجارتی و سیاسی تعلقات کو فوقیت دیتی ہے۔ اسی لیے جو قیادت اصولی طور پر امت کی بیداری، فکری تربیت، اور اخلاقی استقامت پر کام کر رہی ہے وہ جانتی ہے کہ ابھی میدان جنگ کا نہیں، بلکہ میدانِ شعور کا وقت ہے۔ کیونکہ اگر یہ مرحلہ عبور نہ کیا جائے تو جو بھی جنگ لڑی جائے گی، وہ ظاہری طور پر ممکن ہے جیتی جائے، مگر باطنی طور پر قوم کو یا تو مزید ٹوٹ پھوٹ میں مبتلا کرے گی یا پھر دشمن کے پروپیگنڈے کے زیر اثر نئی نسل کو کنفیوژن، مایوسی یا تنقید کی راہ پر ڈال دے گی۔

پس یہ حکمت عملی کسی کمزوری کی علامت نہیں بلکہ اس حقیقت کا ادراک ہے کہ اگر دشمن متحد اور چالاک ہے تو حق کی قیادت کو اس سے بھی زیادہ صابر، دور اندیش اور متحد ہونا پڑے گا۔ اور یہی وہ راستہ ہے جو ظہور امام مہدیؑ کی تیاری کا راستہ ہے، کیونکہ آپ کا ظہور اُس وقت ہوگا جب زمین پر ایسی بصیرت مند اور استوار امت موجود ہوگی جو اُن کے ساتھ کھڑی ہو، نہ صرف عشق میں بلکہ ادراک میں بھی، نہ صرف جذبے میں بلکہ فہم میں بھی۔ اور یہ امت راتوں رات نہیں بنتی، اس کے لیے دہائیوں کی فکری، روحانی اور اخلاقی تربیت درکار ہوتی ہے، جو صرف حکمت والے رہنماؤں کی قیادت میں ممکن ہے۔

 اگر علامہ ساجد علی نقوی یا کسی بھی شعور پر مبنی قیادت نے حکمت، صبر، تدبر اور تدریجی تنظیم سازی کو اپنایا ہے تو اس کی ایک اہم اور لازمی وجہ وہ قانونی، ریاستی اور معاشرتی ماحول ہے جو اس ملک میں موجود ہے، جو بظاہر اسلامی جمہوریہ کہلاتا ہے مگر عملاً بعض اوقات ایسے فیصلوں اور پالیسیوں کا گڑھ بن جاتا ہے جو عدل اور مساوات کے تقاضوں کے برخلاف ہوتے ہیں، خاص طور پر جب معاملہ اہل تشیع یا دیگر پس ماندہ مکاتب فکر کی آئینی اور مذہبی آزادی کا ہو۔

پاکستان کے آئین میں اگرچہ ہر شہری کو برابر کے حقوق دیے گئے ہیں، اور ہر مذہبی طبقے کو اپنی عبادات، عقائد اور اظہارِ مذہب کی آزادی حاصل ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں ریاستی ادارے، بعض حکومتیں، اور بااثر مذہبی گروہ اس مساوات کو ہمیشہ اپنی پسند، مفاد اور اکثریتی دباؤ کے تحت توڑتے رہے ہیں۔ یہ رویہ صرف پالیسی سازی تک محدود نہیں بلکہ تعلیمی نصاب، میڈیا کے بیانیے، داخلی سیکیورٹی پالیسی، اور مذہبی تقاریب کے اجازت ناموں تک میں نظر آتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اقلیتوں اور خاص طور پر اہل تشیع سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنی شناخت چھپائیں، اپنے مطالبات ترک کریں اور صرف “ملی وحدت” کے نام پر اپنی تاریخی و عقائدی حقیقت کو قربان کریں، جبکہ دوسری طرف فرقہ واریت پھیلانے والے گروہوں کو نہ صرف تحفظ حاصل ہوتا ہے بلکہ وہ کھلے عام تشیع کے خلاف نفرت انگیزی کو “آزادیِ رائے” کے پردے میں قانونی جواز بھی فراہم کرتے ہیں۔

اس ماحول میں اگر کوئی قیادت ملت کو کھڑا کرنا چاہے، تو اسے ایک تلوار کی دھار پر چلنا پڑتا ہے۔ ایک طرف ملت کے اندر اضطراب، مظلومیت، اور ردعمل کا جذبہ ہوتا ہے، جو چاہتا ہے کہ کھل کر بولاجائے، سڑکوں پر آیا جائے، اور ریاست سے ٹکرا کر اپنی شناخت کا اعلان کیا جائے، لیکن دوسری طرف ریاستی تعصب، خفیہ اداروں کی مانیٹرنگ، اور اکثریتی گروہوں کی تشدد پر مبنی تاریخ، قیادت کو اس نتیجے پر لے آتی ہے کہ جو اقدام وقتی طور پر جرات یا دلیری سمجھا جائے گا، وہ ملت کو دائمی ریاستی دباؤ، دہشتگردی کے خطرات، یا قانونی گھیراؤ میں مبتلا کر دے گا۔

پاکستان میں “بیلنس پالیسی” کے نام پر اکثر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اگر ایک طرف کسی شدت پسند گروہ کو روکا جائے گا تو دوسری طرف شیعہ عزاداری یا مذہبی سرگرمیوں پر بھی قدغن لگانا “ضروری” ہے تاکہ فریقین کو یکساں سمجھا جائے۔ یہ رویہ نہ صرف غیرمنصفانہ ہے بلکہ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جو گروہ دفاعی اور آئینی جدوجہد کر رہے تھے وہ بھی ریاستی نظر میں “مشکوک” بن گئے، اور حقیقی شدت پسندوں کو یہ پیغام ملا کہ ریاست ان سے خوفزدہ ہے اور ان کے نفوذ کو محدود کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔

علامہ ساجد نقوی جیسے رہنما اس حقیقت کو بخوبی جانتے ہیں۔ انہوں نے ریاستی ڈھانچوں کے اندر رہتے ہوئے، قانونی ذرائع کے استعمال سے، اور عوامی سطح پر شعور بیدار کرکے ایک ایسی قیادت قائم رکھی ہے جو ریاست سے ٹکرائے بغیر اپنی موجودگی منواتی ہے، اور جو نفرت و تشدد کے مقابل صبر، فہم اور تنظیم کی طاقت سے کام لیتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اس ملک میں اگر ملت جعفریہ کو عزت کے ساتھ جینا ہے تو اسے قانونی میدان میں لڑنا ہوگا، تعلیمی اداروں میں فکر پیدا کرنی ہوگی، اور داخلی وحدت کے ذریعے اپنی طاقت کو غیر جارحانہ مگر مؤثر انداز میں اجاگر کرنا ہوگا۔

یہی وجہ ہے کہ آج اگر پاکستان میں تشیع کے تحفظ کی کوئی صورت باقی ہے تو وہ صرف اس حکمت عملی کی بدولت ہے جس نے فوری ردعمل کو پس پشت ڈال کر تدریجی طاقت کی بنیاد رکھی، اور جو ریاستی تعصبات کے باوجود آئینی میدان میں مضبوط اور باوقار انداز میں اپنا مقدمہ لڑ رہی ہے۔ اسی تدبر نے پاکستان کے مشکل ترین حالات میں ملت کو محفوظ بھی رکھا اور منظم بھی، اور یہی وہ حکمت عملی ہے جو اگرچہ سست نظر آتی ہے مگر اس کی جڑیں گہری ہیں، اور جو آنے والے وقت میں قوم کو ایک خودمختار، باوقار اور بصیرت مند اجتماعی قوت کی شکل دے سکتی ہے۔

علامہ ساجد علی نقوی کی حکمت عملی کا گہرا تعلق صرف داخلی فرقہ وارانہ اور ریاستی تعصبات سے ہی نہیں بلکہ اس عالمی منظرنامے سے بھی ہے جہاں صہیونی سرمایہ دار استعمار ایک منظم، گہری اور ہمہ جہت سازش کے تحت دنیا بھر میں مزاحمتی افکار، دینی قیادت، اور بیدار ملتوں کو کمزور کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ یہ استعمار محض فوجی یا اقتصادی تسلط سے کام نہیں لیتا بلکہ شعور، ثقافت، نظریات اور ریاستی اداروں کے اندر گُھس کر ملتوں کی خودی کو مفلوج کرنے کی چالاکی سے کام لیتا ہے۔ پاکستان کی گہرائی میں بیٹھا ہوا ڈیپ اسٹیٹ سٹرکچر اس بین الاقوامی منصوبے کا ایک خاموش مگر مؤثر آلہ ہے، جو بظاہر قومی سلامتی، داخلی استحکام اور ریاستی وقار کی حفاظت کے نام پر بعض ایسی پالیسیاں بناتا ہے جن کا اصل ہدف ان حلقوں کو دبانا ہوتا ہے جو فکری آزادی، مذہبی تشخص اور نظریاتی استقامت کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ایسے ماحول میں اگر کوئی قیادت مزاحمت، احتجاج یا بغاوت کا نعرہ لگا کر کھڑی ہو جائے تو وہ صرف ریاستی شکنجے میں نہیں آتی بلکہ عالمی صہیونی بیانیے کو مزید مواد مہیا کر دیتی ہے کہ تشیع کو دہشتگرد، انتشار پسند یا تخریبی سوچ کا حامل بنا کر پیش کیا جائے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے علامہ ساجد علی نقوی نے گہرائی سے سمجھا۔ انہوں نے جان لیا کہ اگر ملت کو زندہ رکھنا ہے تو صرف دشمن سے جنگ نہیں بلکہ دشمن کی چالوں کو سمجھ کر ان سے بچنا بھی ایک جہاد ہے۔ عالمی استعمار تشیع کو کبھی اپنے ساتھ نہیں جوڑ سکتا کیونکہ تشیع، عدل، توحید، آزادی اور مظلوم کی حمایت کی علامت ہے۔ اس لیے وہ صرف فوجی یا میڈیا کے ذریعے نہیں بلکہ ان ریاستی اداروں کو بھی استعمال کرتا ہے جو سکیورٹی یا بیلنس پالیسی کی آڑ میں ملت کے فکری ارتقاء کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پاکستان میں ڈیپ اسٹیٹ کے نظریاتی رجحانات، بین الاقوامی دباؤ، اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ اس کے مفادات بھی اکثر اہل تشیع کے آئینی حقوق کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ چنانچہ جب ملت جعفریہ تعلیمی میدان میں آگے بڑھتی ہے، جب وہ سیاسی طور پر منظم ہوتی ہے، جب وہ قانونی و آئینی بنیاد پر اپنے حق کا مطالبہ کرتی ہے تو اسے ایک خطرہ سمجھا جاتا ہے، اور عالمی سامراج کے اشارے پر اندرونی ریاستی عناصر اسے محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جذباتی ردعمل، نعرے، احتجاج اور ٹکراؤ نہ صرف ملت کو کمزور کرتے بلکہ دشمن کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔

علامہ صاحب کی حکمت عملی دراصل اس فکری انقلاب کا آغاز ہے جو دشمن کی ظاہری طاقت سے مرعوب ہونے کے بجائے اس کی چالوں کو بے نقاب کرتا ہے، جو مزاحمت کو بندوق کی گولی سے نہیں بلکہ شعور، تربیت، تنظیم اور حکمت کے ساتھ دشمن کے منصوبے پر ضرب لگاتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر ملت کو زندہ رکھنا ہے تو اسے نہ صرف باہر کے دشمن سے بچانا ہے بلکہ اندر کے مکار، موقع پرست، اور دین فروش عناصر سے بھی محفوظ رکھنا ہے، جو دین کے نام پر ملت کو تقسیم کرتے ہیں اور سامراج کی خدمت میں اپنی قربانی پیش کرتے ہیں۔

یہ حکمت عملی ایک ایسا قلعہ ہے جس کے اندر ملت کو شعور دیا جا رہا ہے، جس کے دروازے حکمت سے پرنور ہیں اور جس کی دیواریں اخلاص، صبر اور فہم سے بلند کی گئی ہیں۔ یہ ایک فکری مزاحمت ہے جو ظاہری خاموشی میں دشمن کی سازشوں کو بے اثر بنا رہی ہے، اور جو وقت کے ساتھ ایک ایسی ملت کو جنم دے رہی ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر استکبار کے خلاف ایک روشن مثال بن سکتی ہے۔ یہ حکمت وہی فلسفہ ہے جو غیبتِ امام کے دور میں اپنی جگہ بناتا ہے، دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہیں بلکہ اُس کی آنکھ سے پہلے اُس کے منصوبے کو دیکھ کر اُسے ناکام بناتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو امام مہدیؑ کے ظہور کی زمین ہموار کرتا ہے، اور یہی وہ راہ ہے جو ہر فکری امام، ہر صادق قیادت، اور ہر باشعور ملت کا اصل ہتھیار ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2055

ٹیگز

تبصرے