مولانا سید عمار حیدر زیدی نے صراط ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
> “کیا آج بھی وہ وقت نہیں آیا کہ امت مسلمہ علیؑ و اولادِ علیؑ کی قربانیوں اور ان کی قیادت کو پہچانے؟ کیا یہ حقیقت کافی نہیں کہ ہر دور میں، ہر مقام پر، ہر مظلوم کے حق میں آواز علیؑ کے وارث ہی نے بلند کی؟”
انہوں نے کہا:
> “کیا دنیا نے نہیں دیکھا کہ جب فلسطین، یمن، کشمیر اور افغانستان کے نہتے مسلمانوں پر ظلم کی انتہا ہوئی، تو نام نہاد مسلم حکمران خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہے، بلکہ کچھ نے تو ظالموں سے دوستی اور معاہدے کر لیے۔ مگر وہی چند چہرے، جو علیؑ کے مکتب سے فیضیاب ہیں، یعنی سید علی خامنہای، سید حسن نصراللہ اور شہید قاسم سلیمانی، ہر میدان میں مظلوموں کی ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے۔”
مولانا نے ایران پر حالیہ صیہونی حملے کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا:
> “جب غاصب صیہونی ریاست نے ایران کے خلاف جارحیت کی، تو افسوسناک طور پر کچھ عرب اور ترک حکمران بجائے مذمت کرنے کے، یا تو خاموش رہے یا پس پردہ دشمن کے حامی بنے۔ جنہیں مسلم دنیا کا ‘رہنما’ سمجھا جاتا ہے، وہ اسرائیل کے سفارتخانوں اور تجارتی معاہدوں میں مصروف نظر آئے۔”
> “مگر دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ جس ایران کو برسوں سے تنہا کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی، وہی ایران علیؑ کے علمبرداروں کے زیرِ سایہ کھڑا ہوا، اور ایسا دندان شکن جواب دیا کہ دنیا حیران رہ گئی۔”
> “جنہیں لوگ ناقابلِ شکست سمجھتے تھے، جن کی طاقت کا ڈھنڈورا عالمی میڈیا پیٹتا تھا، انہی صیہونیوں کو ایران نے للکارا، جھنجھوڑا اور بے نقاب کیا۔ وہی اسرائیل جسے لوگ آہنی قلعہ سمجھتے تھے، آج امام خمینیؒ کے اس قول کی تصدیق کر رہا ہے کہ:
‘اسرائیل مکڑی کے جالے سے زیادہ نہیں۔'”
مولانا عمار زیدی نے امت مسلمہ کو بیدار کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا:
> “آج وقت ہے فیصلہ کرنے کا! اگر امت مسلمہ متحد ہو جائے، فرقوں، قومیتوں اور جغرافیوں سے بالاتر ہو کر قرآن و اہلبیتؑ کی راہ پر اکٹھی ہو جائے، تو دنیا کی کوئی طاقت، کوئی صیہونی سازش، کوئی شیطانی اتحاد امتِ محمدیؐ کو تہہ تیغ نہیں کر سکتا۔”
> “ایران نے ثابت کر دیا کہ اگر ایمان ہو، قیادت صادق ہو، اور نیت خالص ہو، تو باطل کی تمام طاقتیں پاش پاش ہو جاتی ہیں۔ اب امت کو یہ دیکھنا ہے کہ وہ منافقت کا راستہ اپناتی ہے یا مزاحمت کا، تماشائی بنتی ہے یا علمبردار۔”
