شاعر: حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر عباس ثاقب قمی صاحب
کل بھی تنہا تھا میں آج اور بھی تنہا نہ کرو!
مری غربت کا زمانے میں تماشا نہ کرو!
تم عزادارِ حسینؑ ابنِ رسول اللہ ہو
اپنی عظمت کو کسی وقت گھٹایا نہ کرو!
تم عزاداریٔ زینبؑ کے محافظ ٹھہرے
آقازادی کا بھی پیغام بھلایا نہ کرو!
تمہی دنیا میں ہو تہذیبِ عزا کے وارث
اپنی میراث کو ایسے ہی لٹایا نہ کرو!
شکریہ! اے مرے زخموں پہ تڑپنے والو!
اپنے اشکوں کو مگر لقمۂ اعدا نہ کرو!
ماتمی جسم کو دیکھے نہ کوئی نامحرم
مجھ پہ ماتم کرو، لیکن مجھے رُسوا نہ کرو!
خوں بہانا ہے تو ظالم کے مقابل نکلو!
اپنے جھگڑوں میں ہی یہ خون بہایا نہ کرو!
طوق و زنجیر کہاں سنّتِ سجادؑ ہوئی
ظلم کے گہنے ہیں یہ تم انہیں پہنا نہ کرو!
سنّتِ سیدِ سجادؑ ہے سجدے کرنا
تم بھی سجدوں سے کبھی سر کو اٹھایا نہ کرو!
یاد ہے برچھی مگر بھُولے اذانِ اکبرؑ
جب اذاں ہو تو عبادات سے بھاگا نہ کرو!
مری مجلس تو عبادت ہے کوئی رسم نہیں
رسم دنیا کی طرح اس کو منایا نہ کرو!
مری مجلس کو بناؤ نہ تجارت کی جگہ
مرے ذاکر ہو تو اس ذکر کو بیچا نہ کرو!
کوئی عالم ہو تو منبر کی بناؤ زینت
کسی بوجہل کو منبر پہ بٹھایا نہ کرو!
جس کو ہا ہو کے علاوہ نہیں آتا کچھ بھی
اُس گلوکار کو مجلس میں بلایا نہ کرو!
جو نہ آیات و احادیث پڑھیں منبر سے
ایسے جاہل خطبا کو کبھی چاہا نہ کرو!
مرا مقصد، مرا پیغام سنائے جو خطیب
اس کی تقریر سنو! فرش سے اٹھا نہ کرو!
کوئی عالم ہو، کرو خوب سوالات مگر
اُس کو بےکار سوالوں سے ستایا نہ کرو!
مری مجلس میں کئی حُرؑ بھی چلےآتے ہیں
طنز و نفرت کے یہاں تیر چلایا نہ کرو!
وارثِ چادرِ زینبؑ ہیں یہ مائیں بہنیں
بےردا، فرشِ عزا پر انہیں لایا نہ کرو!
یہ عزاخانے مرا گھر ہیں، سو میرے گھر میں
تم نمازوں کا تمسخر تو اڑایا نہ کرو!
مجھ کو جو خالقِ اکبر کے مقابل لے آئیں
ایسے مشرک خطبا کو بھی بلایا نہ کرو!
روک دو اپنی مجالس کو اذاں ہونے پر
بے عمل ہو تو مجالس میں بھی بیٹھا نہ کرو!
کام جس کا ہو فقیہوں کی اہانت کرنا
ایسے فاسق کو محافل میں بلایا نہ کرو!
جن کے مضمون میں شرک اور غلو ہو ثاقبؔ!
ایسے اشعار مجالس میں سنایا نہ کرو!
