بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ سیز فائر نے بظاہر فلسطین کے معاملے کو ایک غیر یقینی صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ ایک طرف ایران برسوں سے فلسطینی مزاحمتی گروہوں کی مالی، عسکری اور نظریاتی مدد کرتا آ رہا ہے اور کھل کر فلسطینی کاز کو “اسلامی کاز” قرار دیتا ہے، مگر دوسری طرف جب جنگ کا عملی مرحلہ آتا ہے تو ایران خود اسرائیل پر براہ راست مستقل جنگ شروع نہیں کرتا، بلکہ محدود اور مخصوص ردعمل دیتا ہے۔ یہ چیز بعض ناقدین کو یہ تاثر دینے پر مجبور کرتی ہے کہ جیسے ایران فلسطین کے لیے جذباتی سطح پر ساتھ ہے مگر عملی میدان میں محتاط ہے، جبکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور گہرائی لیے ہوئے ہے۔
بین الاقوامی تعلقات، جنگی حکمت عملی اور عالمی قوانین کے تناظر میں ایران کا طرز عمل ایک طویل مدتی مزاحمت کے ماڈل پر مبنی ہے نہ کہ فوری تباہ کن ٹکراؤ پر۔ ایران فلسطین کے معاملے کو محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے عالمی استکبار، صہیونی استعمار، اور امت مسلمہ کی وحدت کے امتحان کے طور پر دیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ فلسطین کی آزادی ایک ہمہ جہت تحریک بن کر ابھرے، جس میں فلسطینی خود میدان میں ہوں، اور ان کے اردگرد عالمی مزاحمتی قوتیں ہوں جو انہیں سہارا دیں، نہ کہ ایران براہ راست خود ایک جنگ میں داخل ہو کر تمام محاذ اپنے سر لے لے۔ ایران کے نزدیک اگر وہ براہ راست جنگ شروع کرتا ہے تو ممکن ہے کہ باقی مسلم ممالک مکمل خاموش ہو جائیں، اور فلسطینی مزاحمت بین الاقوامی تنہائی کا شکار ہو جائے، اس لیے وہ ایک اسٹریٹیجک توازن رکھتا ہے۔
اسرائیل نے جب ایران پر حملہ کیا، تو ایران نے جواب میں حملہ ضرور کیا، اور وہ بھی ایسا کہ دنیا کو پہلی بار کھل کر اسرائیل پر ایرانی میزائل اور ڈرونز کی بارش ہوتے دیکھی گئی۔ یہ جنگ پہلی بار براہ راست ایران و اسرائیل کے درمیان کھلی شکل میں سامنے آئی۔ اس سے پہلے ایران ہمیشہ نیابتی طریقوں سے لڑتا رہا، جیسا کہ حزب اللہ، فلسطینی گروہوں یا شام و عراق کے مزاحمتی محاذ کے ذریعے۔ لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ ایران کی طرف سے براہِ راست جنگ کی ابتدا نہیں ہوئی۔ بلکہ اسرائیل نے حملہ کیا، اور ایران نے دفاع میں جواب دیا۔ یہی بات امریکہ کے ساتھ بھی ہوئی: جب جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنایا گیا تو ایران نے عراق میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ عالمی جنگی قوانین کے مطابق اگر کوئی ملک کسی دوسرے ملک پر حملہ کرے تو متاثرہ ملک کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہوتا ہے، خاص طور پر اگر حملہ ریاستی سطح پر ہو، نہ کہ غیر ریاستی گروہوں کے ذریعے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق ہر قوم کو “self-defense” یعنی دفاعِ ذات کا حق حاصل ہے، چاہے حملہ مسلح ہو یا ریاستی سطح کا خطرہ۔
ایران کے اقدامات اسی عالمی قانون کی حد کے اندر رہ کر کیے جاتے ہیں تاکہ بین الاقوامی سطح پر اس کی قانونی حیثیت باقی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران مکمل جنگ سے گریز کرتا ہے، کیونکہ وہ عالمی حمایت کھونا نہیں چاہتا، اور اس جنگ کو صرف “دو ممالک کی جنگ” نہیں بلکہ “حق و باطل” کے عالمی محاذ کے طور پر رکھنا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ وقت آنے پر فلسطینی مزاحمت کو ایران کی حمایت نہ صرف فوجی سطح پر حاصل ہو بلکہ اخلاقی، قانونی اور عالمی ضمیر کی سطح پر بھی ایک جواز حاصل ہو۔
سیز فائر کے بعد فلسطین کا معاملہ وقتی طور پر ضرور بظاہر پیچھے چلا گیا ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک بڑی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ ایران یہ جانتا ہے کہ اگر فلسطین کی آزادی صرف ایرانی عسکری کارروائی سے وابستہ ہو گئی تو صہیونی میڈیا اسے ایک “ایرانی ایجنڈا” بنا کر فلسطینیوں کی اپنی تحریک کو بے وقعت کر دے گا۔ ایران چاہتا ہے کہ فلسطین کی آزادی فلسطینیوں کے ہاتھوں ہو، مگر ایسا صرف تب ممکن ہے جب دنیا میں مزاحمتی قوتیں اس کے گرد مضبوطی سے کھڑی ہوں، اور اسرائیل پر وہ دباؤ قائم ہو جو صرف بندوق سے نہیں بلکہ عالمی بیداری، اسلامی وحدت اور اخلاقی برتری سے آتا ہے۔
لہٰذا ایران کا اسرائیل پر حملہ نہ کرنا اس کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی عالمی اسٹریٹیجک پوزیشننگ کا ایک حصہ ہے۔ یہ وہ پوزیشن ہے جس سے ایران نہ صرف فلسطین کا دفاع کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر خود کو ایک ذمہ دار، نظریاتی اور قانونی طاقت کے طور پر بھی برقرار رکھتا ہے۔ ایران کا راستہ فوری نتائج کا راستہ نہیں، بلکہ تدریجی فتح کا راستہ ہے، اور یہی وہ صبر ہے جو طویل جنگیں جیتنے کے لیے ضروری ہوتا ہے، خاص طور پر جب مقصد صرف زمین نہیں بلکہ حق و عدل کا قیام ہو۔
ایران کا فلسطین، کشمیر، یمن یا دیگر مظلوم اقوام کی حمایت کے باوجود براہِ راست ان علاقوں پر فوجی حملہ نہ کرنا دراصل اس کی اصولی، قانونی اور حکیمانہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، جو بین الاقوامی قوانین، اخلاقی اصولوں، اور اسلامی بصیرت کے تحت تشکیل پائی ہے۔ ایران کسی بھی مظلوم قوم کی حمایت کو صرف نعرہ بازی یا عسکری مداخلت کی سطح تک محدود نہیں رکھتا بلکہ وہ اسے ایک وسیع، تدریجی اور فکری مزاحمتی منصوبے کے ذریعے مضبوط کرتا ہے۔ اس کے برعکس امریکہ اور بعض استعماری طاقتیں جب بھی دنیا کے کسی خطے میں مداخلت کرتی ہیں تو ان کا مقصد مظلوم کی مدد نہیں بلکہ وسائل پر قبضہ، اسٹریٹیجک تسلط، اور عالمی نظام پر اپنی چودھراہٹ قائم رکھنا ہوتا ہے، جو بظاہر “امن”، “انسانی حقوق”، یا “دہشت گردی کے خلاف جنگ” جیسے خوشنما نعروں کے پردے میں کیا جاتا ہے۔
بین الاقوامی قانون کے تناظر میں ایران اگر فلسطین یا کشمیر جیسے علاقوں میں فوجی طور پر داخل ہو جائے تو اسے اقوام متحدہ کی نظر میں جارح اور مداخلت کار قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کسی ریاست کو دوسرے ملک کی حدود میں عسکری کارروائی کا حق صرف اس صورت میں ہوتا ہے جب یا تو وہ اپنی حفاظت میں ہو، یا اس ملک کی حکومت اسے مدد کے لیے بلائے، یا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس کی اجازت دے۔ ایران چونکہ اس وقت ان علاقوں کی حکومتوں یا اقوام متحدہ کی کسی رسمی اجازت کے تحت ان علاقوں میں مداخلت نہیں کر سکتا، اس لیے وہ ایک ایسی حکمت عملی پر کاربند ہے جو قانونی دائرے میں رہتے ہوئے مظلوم اقوام کو طاقتور بنائے، ان کی مزاحمت کو فکری، سیاسی، عسکری اور اخلاقی مدد فراہم کرے، اور استعماری طاقتوں کی چالوں کو ان کے اپنے میدان میں بے نقاب کرے۔
فلسطین کے معاملے میں ایران نے ہمیشہ یہ اصول اپنایا ہے کہ اصل فریق فلسطینی خود ہیں، اور ان کی مزاحمت کو تب ہی عالمی سطح پر قبولیت ملے گی جب وہ خود میدان میں ہوں، اور بیرونی قوتیں صرف معاون و مددگار کی حیثیت سے کام کریں، نہ کہ ان کی جگہ لے کر اُن کی تحریک کو “ایرانی پراکسی” کہلوائیں۔ یہی بات کشمیر کے بارے میں بھی صادق آتی ہے، جہاں ایران کے رہبر نے کھل کر مظلوم کشمیری عوام کے حق میں آواز بلند کی، مگر براہ راست فوجی کارروائی سے اس لیے گریز کیا کہ وہ نہ بھارت کی اس پر جارحیت کا بہانہ بننے دینا چاہتے ہیں اور نہ ہی ایک بین الاقوامی تنازع کو عسکری محاذ میں بدل کر کشمیریوں کی سیاسی جدوجہد کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ اسی طرح یمن میں ایران نے فوجی مداخلت نہیں کی، بلکہ انصار اللہ کی قیادت میں یمنی عوام کو خود اپنے فیصلے کرنے کی خودمختاری دی، اور سفارتی و انسانی سطح پر ان کی پشت پناہی کی، جس سے نہ صرف یمن کی مزاحمت نے عالمی سطح پر مقام حاصل کیا بلکہ ایران نے قانونی و اخلاقی برتری بھی حاصل کی۔
اس کے برعکس امریکہ، اسرائیل اور مغربی طاقتیں چونکہ بین الاقوامی قانون کو اپنی مرضی سے استعمال کرتی ہیں، اس لیے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں “خطرہ محسوس ہونے” کا بہانہ بنا کر جارحیت کر دیتے ہیں۔ عراق، افغانستان، شام، لیبیا، اور یمن اس کی واضح مثالیں ہیں، جہاں لاکھوں انسانوں کا خون بہایا گیا مگر قانونی جواز کے بغیر۔ یہ طاقتیں خود کو قانون سے بالاتر سمجھتی ہیں کیونکہ عالمی ادارے بھی انہی کے زیرِ اثر ہیں۔
لہٰذا ایران کی غیر عسکری مداخلت دراصل اس کی اصولی و قانونی بالادستی کا حصہ ہے، جو نہ صرف دنیا کے مظلوموں کے لیے ایک پائیدار حمایت فراہم کرتی ہے بلکہ اسلامی اصولوں اور بین الاقوامی معیاروں کے اندر رہ کر مزاحمت کا ایسا ماڈل پیش کرتی ہے جو وقت کے ساتھ دشمن کو بے نقاب اور مظلوم کو مضبوط کرتا ہے۔ ایران جانتا ہے کہ اگر وہ بھی امریکہ کی طرح قانون کی دھجیاں اڑانے لگے، تو وہ صرف جنگی میدان میں نہیں بلکہ اخلاقی و فکری میدان میں بھی شکست کھا جائے گا، جو اس کی مزاحمتی تحریک کی روح کے منافی ہے۔ اس لیے ایران کے لیے میدانِ جنگ سے پہلے میدانِ ضمیر اور قانون میں فتح حاصل کرنا مقدم ہے، کیونکہ یہی وہ اصولی پوزیشن ہے جو اسے استکبار کے مقابل کھڑا کرتی ہے، اور وقت آنے پر وہی اسے حتمی کامیابی کے راستے پر لے جاتی ہے۔
