29

حمایت و مخالفت میں حق پر قائم رہنا

  • نیوز کوڈ : 2009
  • 18 June 2025 - 2:34
حمایت و مخالفت میں حق پر قائم رہنا

حمایت و مخالفت میں حق پر قائم رہنا

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

 تحریر : سید جہانزیب عابدی

انسان کی زندگی میں سب سے بڑا پیمانہ “حق” ہوتا ہے، نہ کہ لوگوں کی مدح و مذمت۔ اگر انسان کے اعمال صرف لوگوں کے رویوں اور آراء پر مبنی ہوں تو وہ کبھی بھی ثابت قدم نہیں رہ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم اور روایات معصومینؑ نے اس بات پر بہت زور دیا ہے کہ انسان کا معیار رضائے الٰہی ہو، نہ کہ دنیا کی تحسین یا مذمت۔ قرآن کریم واضح طور پر فرماتا ہے: “فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَن تَابَ مَعَكَ وَلا تَطْغَوْا ۚ إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ” (ہود: 112) یعنی “جیسے تمہیں حکم دیا گیا ہے، ویسے ہی استقامت اختیار کرو، تم اور وہ لوگ بھی جنہوں نے تمہارے ساتھ توبہ کی ہے، اور سرکشی نہ کرو، بے شک وہ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔” یہ آیت اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ استقامت حق کے ساتھ مشروط ہے، نہ کہ لوگوں کی پذیرائی سے۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی تعریفیں بعض اوقات انسان کو غرور، خودپسندی اور ریاکاری میں مبتلا کر دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں عمل کی روح یعنی اخلاص ختم ہو جاتی ہے۔ اسی لیے امام علیؑ نے فرمایا: “کسی کی مدح سے تمہاری قدرو قیمت میں اضافہ نہیں ہوتا، اور نہ ہی کسی کی مذمت سے تمہاری قدر میں کمی آتی ہے۔” امام کا یہ فرمان اس نظریے کو بنیاد فراہم کرتا ہے کہ انسان کو اپنا تعلق صرف خدا کے ساتھ رکھنا چاہیے، کیونکہ اصل ناظر، محاسب اور جزا و سزا دینے والا صرف وہی ہے۔ اگر دنیا تمہارے حق عمل پر تمہیں برا کہے، تب بھی حق سے نہ ہٹو، کیونکہ تمہاری رضا کا مرکز خدا ہونا چاہیے نہ کہ عوام۔

قرآن مجید میں حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ اور بالخصوص رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی زندگی ایسی بے شمار مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں پوری قوم ان کے مقابلے پر کھڑی ہوئی، لیکن وہ اپنے اصولوں سے نہ ہٹے۔ سورہ یٰسین میں بیان ہوتا ہے کہ ایک بندۂ مؤمن نے جب اپنی قوم کو حق کی دعوت دی تو انہیں قتل کر دیا گیا، مگر اس کی استقامت کا ذکر قرآن میں ایک نمونہ کے طور پر موجود ہے۔ “قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ ۚ قَالَ يَا لَيْتَ قَوْمِي يَعْلَمُونَ” یعنی “کہا گیا: جنت میں داخل ہو جاؤ، اس نے کہا: کاش میری قوم جان لیتی!”۔ یہ اس بندے کی وہ سوچ تھی جو تعریف یا مذمت سے بالاتر ہو کر صرف حق پر قائم رہنے کی علامت ہے۔

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: “مَنْ طَلَبَ رِضَى النَّاسِ بِسَخَطِ اللَّهِ وَكَلَهُ اللَّهُ إِلَى النَّاسِ” یعنی “جو شخص لوگوں کی رضا کو اللہ کی ناراضگی پر ترجیح دے، اللہ اسے لوگوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔” یہاں حقیقت یہ آشکار ہوتی ہے کہ اگر انسان لوگوں کی خوشنودی کے پیچھے بھاگے گا تو وہ نہ صرف خدا سے دور ہو جائے گا بلکہ آخرکار لوگوں کی نظروں میں بھی ذلیل ہوگا، کیونکہ لوگ بھی وفا نہیں کرتے۔

حق کی راہ پر چلنے والے ہمیشہ تنقید اور طعنوں کا شکار رہے ہیں، مگر قرآن کریم فرماتا ہے: “يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ” (مائدہ: 8) یعنی “اے ایمان والو! اللہ کے لیے قیام کرنے والے اور انصاف کے گواہ بنو، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو، انصاف کرو، یہی تقویٰ سے قریب تر ہے۔”

یہی روح ہمیں کربلا میں امام حسینؑ کی شہادت میں نظر آتی ہے۔ جب پوری حکومت، علما، عوام، اور یہاں تک کہ قبائل بھی مخالفت میں آ گئے، تب بھی امام نے اپنی راہ نہ چھوڑی۔ اگر وہ عوام کی تائید کے منتظر ہوتے تو شاید مدینہ سے ہی نہ نکلتے۔ مگر چونکہ ان کا پیمانہ رضائے الٰہی تھا، اس لیے انہوں نے تنہا ہو کر بھی حق کی حفاظت کی۔

لہٰذا ایک مؤمن کو نہ دنیا کی واہ واہ پر مغرور ہونا چاہیے، نہ لوگوں کی مخالفت پر مایوس۔ کیونکہ نہ تعریف انسان کو جنت میں لے جاتی ہے اور نہ مذمت جہنم میں۔ آخری فیصلہ صرف اس ربّ العالمین کے ہاتھ میں ہے جو دلوں کے حال جانتا ہے، نیتوں کو دیکھتا ہے، اور اعمال کا اجر صرف اپنی رضا کی بنیاد پر دیتا ہے۔ دنیا کا شور جتنا بھی بلند ہو، اگر دل میں یقین، عمل میں اخلاص اور قدموں میں استقامت ہو تو کوئی طاقت حق کے راستے سے نہیں ہٹا سکتی۔

قرآن و سنت کی روشنی میں جب ہم دنیا کی مدح یا مذمت سے بےنیاز ہو کر صرف حق پر قائم رہنے کی بات کرتے ہیں تو ہمیں اس کے چند گہرے باطنی اور معاشرتی پہلو بھی سمجھنے چاہیے جو عموماً زیر بحث نہیں آتے۔ پہلا نکتہ یہ ہے کہ حق پر ثابت قدمی صرف عقل اور استدلال سے نہیں آتی بلکہ اسے حاصل کرنے کے لیے قلبی طہارت، توکل، اور خدا کے ساتھ ایک زندہ تعلق درکار ہوتا ہے۔ قرآن کریم بارہا تقویٰ اور صبر کو اس استقامت کا بنیادی ستون قرار دیتا ہے، جیسا کہ فرمایا: “إِنَّهُ مَن يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ” (یوسف: 90)۔ یہاں واضح ہوتا ہے کہ صبر اور تقویٰ محض وقتی جذبات نہیں بلکہ مسلسل روحانی مجاہدہ ہیں، جو انسان کو مخلوق کی واہ واہ یا طعن و ملامت سے بے پروا بنا دیتے ہیں۔

ایک دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ جو شخص حق کے ساتھ جُڑ جاتا ہے، وہ حقیقت میں خدا کی نصرت کے ساتھ جُڑ جاتا ہے۔ اس کے بعد اگر دنیا اس کی مخالفت کرے تو وہ دراصل خدا سے ٹکرانے کی کوشش کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام زین العابدینؑ نے دعا میں فرمایا: “اللّٰهُمَّ اجْعَلْ نَفْسِي مُطْمَئِنَّةً بِقَضَائِكَ، رَاضِيَةً بِقَدَرِكَ، مُشْتَاقَةً إِلَى لِقَائِكَ”۔ یہ دعا صرف ظاہری رضا نہیں بلکہ ایک اندرونی اطمینان کا اظہار ہے کہ بندہ دنیا کی مخالفت میں بھی خدا کی طرف لپکتا ہے اور اس کی رضا میں سکون پاتا ہے۔

اس مسئلے کا ایک نفسیاتی زاویہ بھی ہے۔ جو شخص ہمیشہ دنیا کی رائے کا اسیر ہوتا ہے، وہ اپنے نفس کا قیدی بن جاتا ہے۔ اس کی شناخت دوسروں کی زبان اور چہروں سے بندھی ہوتی ہے، اور اس کا باطن ایک خالی برتن کی طرح ہوتا ہے جو ہر شور سے بھر جاتا ہے، مگر کسی حقیقی معرفت سے لبریز نہیں ہوتا۔ امام علیؑ فرماتے ہیں: “عبدالدنیا وہ ہے جو لوگوں کی تعریف سے خوش اور مذمت سے پریشان ہو۔” یہ جملہ ظاہر کرتا ہے کہ اصل آزادی تب ہے جب انسان اپنی قدر کو خدا کی نگاہ سے دیکھے، نہ کہ دنیا کی پیمائشوں سے۔

حق پر قائم رہنے کا ایک اجتماعی پہلو یہ بھی ہے کہ ایسے افراد، اگرچہ تنہا ہوتے ہیں، مگر ان کی استقامت سماج کے لیے دلیل اور برہان بن جاتی ہے۔ قرآن نے انبیاء کی مثالیں دے کر ہمیں دکھایا کہ کس طرح ایک فرد کی استقامت پوری قوم کے لیے ہدایت کا چراغ بن گئی، حتیٰ کہ وہ نسلیں جنہوں نے اس حق گوئی کو نہ دیکھا، وہ بھی اس کی روشنی سے ہدایت پاتی رہیں۔

قرآن نے ایسے افراد کو “رَبَّانِيُّونَ” اور “صَادِقِينَ” قرار دیا ہے، جو حق پر جمے رہتے ہیں خواہ ان کا ساتھ دینے والا کوئی نہ ہو۔ ان کی تنہائی ان کے مرتبے کو کم نہیں کرتی بلکہ خدا کے ہاں انہیں محبوب تر بنا دیتی ہے۔ سورہ بقرہ میں ذکر ہے: “وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَىٰ مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ”۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ہر دل کو بھا جانے والی بات حق نہیں ہوتی، اور نہ ہر وہ عمل جو بظاہر کامیاب دکھائی دے وہ خدائی میزان میں کامیاب ہوتا ہے۔

انسان جب حق پر استقامت اختیار کرتا ہے تو وہ صرف خدا پر بھروسہ نہیں کرتا بلکہ دنیا کو ایک پیغام دیتا ہے کہ حق کسی عددی طاقت، سیاسی حمایت یا ظاہری کامیابی کا محتاج نہیں۔ یہ وہی پیغام ہے جو حضرت ابوطالبؑ نے دیا، جنہوں نے قریش کی مخالفت میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا ساتھ دیا اور خاموشی سے اپنے ایمان کو عمل سے ثابت کر دکھایا۔

وہی انسان کامیاب ہے جو حق پر ہو اور خدا کی رضا کا طالب ہو۔ اگر دنیا اس کی قدردان ہو تو بھی وہ شکر گزار ہو، اور اگر دنیا اس کا مذاق اڑائے، تو بھی وہ مطمئن رہے۔ کیونکہ جو شخص جانتا ہے کہ وہ کسے راضی کر رہا ہے، اسے دنیا کی مخالفت یا تعریف کبھی متزلزل نہیں کر سکتی۔

اسلامی نفسیات (Islamic Psychology) انسان کے نفس، روح، عقل اور ارادے کو وحی کی روشنی میں سمجھنے کا وہ علم ہے جو انسان کی اصل حقیقت یعنی عبدیت، فطرت، تقویٰ، اور مقصدِ حیات کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے۔ جب ہم اس بنیادی قول کو اسلامی نفسیات کے اصولوں کی روشنی میں سمجھتے ہیں کہ:

“چاہے ساری دنیا مل کر بھی ہمارے کسی نیک و اچھے کام کی تعریف کرے تو ہمیں پھولنا نہیں چاہیے، اسی طرح اگر ساری دنیا مخالفت کرے تو ہمیں حق سے نہیں ہٹنا چاہیے”

تو اس کا تعلق براہِ راست انسانی نفس کی تربیت، نیت، ارادے، اور توجہِ قلب سے جڑ جاتا ہے۔

اسلامی نفسیات کے مطابق انسان کی فطرت میں “حبِ جاہ” اور “حبِ مدح” یعنی شہرت اور تعریف کی محبت موجود ہوتی ہے۔ یہ نفسِ امّارہ کا ایک چالاک دھوکہ ہے جو انسان کو بظاہر نیک عمل کے بعد بھی ریاکاری، خودپسندی اور فخر میں مبتلا کر دیتا ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے: “وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُم” یعنی “اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو”۔ یہاں اسلامی نفسیات یہ بتاتی ہے کہ ایک عمل بظاہر نیک ہو سکتا ہے، مگر اگر نیت میں دنیا طلبی یا تعریف کی لالچ ہو، تو وہ عمل باطنی لحاظ سے ناقص یا فاسد ہو سکتا ہے۔

نفسیاتی طور پر جب انسان دنیا کی تعریف کو اپنے وجود کا پیمانہ بناتا ہے تو اس کا شعور باہر کی آوازوں پر مرکوز ہو جاتا ہے۔ اس کا اندرونی استحکام کمزور ہو جاتا ہے، اور وہ “ریاکارانہ شخصیت” (pseudo-self) اختیار کر لیتا ہے جو دوسروں کی آنکھوں میں اچھا دکھنے کے لیے بدلتی رہتی ہے۔ اسلامی نفسیات اس کو ایک بیمار روحانی کیفیت سمجھتی ہے، جس کا علاج “اخلاص” اور “محاسبۂ نفس” ہے۔

دوسری طرف، دنیا کی مخالفت سے متاثر ہو کر حق کو چھوڑ دینا بھی “نفسِ خائف” اور “نفسِ مذبذب” کی علامت ہے، جو باطن میں کمزور یقین، خوفِ مخلوق، اور دنیا پرستی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ قرآن منافقین کی نفسیات کو یوں بیان کرتا ہے: “يُرَآءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا قَلِيلًا”۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو عمل میں لوگوں کی رضا چاہتے ہیں، نہ کہ اللہ کی۔

اسلامی نفسیات کے اماموں کے مطابق، روحانی ترقی کا راستہ اس وقت کھلتا ہے جب انسان “نفسِ مطمئنہ” تک پہنچ جائے، یعنی وہ باطنی مقام جہاں انسان دنیا کی مدح یا مذمت سے بےنیاز ہو کر صرف خدا کے حکم اور رضا کو اپنے عمل کا مرکز بنا لیتا ہے۔ یہ وہ درجہ ہے جہاں انسان کا “خوف” اور “امید” صرف اللہ سے وابستہ ہو جاتا ہے، نہ کہ مخلوق سے۔

یہ قول اسی روحانی اور نفسیاتی مرکزیت کا بیان ہے۔ دنیا کی اجتماعی رائے کی کوئی مستقل حقیقت نہیں، کیونکہ آج جو تعریف کرتے ہیں وہی کل مخالفت بھی کر سکتے ہیں۔ مگر خدا کا معیار مستقل، سچا، اور عادل ہے۔ جب انسان اپنی نفسی تربیت اس شعور کے ساتھ کرتا ہے کہ ہر عمل کا مشاہد ناظرِ مطلق خدا ہے، تو وہ آہستہ آہستہ “مدح زدگی” اور “ذم ہراسی” جیسی بیماریوں سے نکل آتا ہے۔

لہٰذا اسلامی نفسیات اس قول کی تائید کرتی ہے کہ جو شخص اپنی نفسی کیفیتوں پر قابو پا کر، اخلاص، یقین، توکل، اور تقویٰ کی روش اپناتا ہے، وہ ہی حقیقی معنوں میں باطنی طور پر آزاد ہوتا ہے۔ وہ نہ مدح سے مغرور ہوتا ہے، نہ مخالفت سے مرعوب۔ وہ “عبداللہ” بنتا ہے، نہ کہ “عبدالناس”۔ اور یہی اسلامی نفسیات کا ہدف ہے: ایک ایسا انسان جو اللہ کے سوا کسی اور کو مرکزِ رضا نہ بنائے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2009

ٹیگز

تبصرے