43

ناکامی و پریشانیوں میں کامیابی و سکون

  • نیوز کوڈ : 1978
  • 17 June 2025 - 2:09
ناکامی و پریشانیوں میں کامیابی و سکون

ناکامی و پریشانیوں میں کامیابی و سکون

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

 تحریر : سید جہانزیب عابدی

انسان کی فطرت ہے کہ وہ چیزوں کو جلدی سے جانچنے، نتائج اخذ کرنے اور فیصلے سنا دینے کی عادت رکھتا ہے۔

انسان کی عقل، حساب اور تدبیر کی ایک حد ہے، اور ہر چیز کو منطق اور کیلکولیشن کے دائرے میں پرکھنے کی کوشش نہ صرف تھکا دینے والی ہے بلکہ بعض اوقات بےایمانی اور بےچینی کا سبب بھی بن جاتی ہے۔ ذیل میں اس خیال کو تفصیل سے ایک مربوط اور فکری انداز میں بیان کیا گیا ہے:

ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں “منطقی سوچ” اور “تجزیہ” کو کمال سمجھا جاتا ہے۔ ہر بات کو جانچنا، ہر رویے کی توجیہ تلاش کرنا، ہر نتیجے کا عقلی جواز ڈھونڈنا، اور ہر عمل کو ریاضیاتی کلیے میں تولنا آج کے انسان کا مزاج بن چکا ہے۔ گویا اگر کوئی چیز ہماری سمجھ میں نہ آئے تو وہ ناقابلِ قبول ہے، یا اگر کوئی واقعہ ہماری پلاننگ کے مطابق نہ ہو تو وہ یقیناً ناکامی ہے۔ ہم نے عقل کو خدا کے برابر لا بٹھایا ہے، اور ایمان، توکل اور غیب کو ایک طرف رکھ دیا ہے — حالانکہ یہ وہی غیب ہے جس پر ہمارا دین کھڑا ہے۔

قرآن بارہا کہتا ہے: “یُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ” — مؤمن وہ ہے جو غیب پر ایمان رکھتا ہے۔ مگر ہمارا حال یہ ہو گیا ہے کہ ہم ہر واقعے کو “سمجھنے” کی کوشش کرتے ہیں، ہر آزمائش کی “منطقی وجہ” تلاش کرتے ہیں، اور جب ہمیں وہ وجہ نہ ملے تو ہم یا تو اللہ سے شکوہ کرتے ہیں یا خود کو کوستے ہیں۔

یہ رویہ صرف عقل پر بھروسے کی علامت نہیں بلکہ روحانی بےچینی کی علامت بھی ہے۔ کیونکہ سچ یہ ہے کہ ہر چیز عقل سے قابلِ فہم نہیں ہوتی۔ کائنات میں بےشمار چیزیں ہیں جو ہماری سوچ، مشاہدے اور علم کے دائرے سے باہر ہیں۔ ہمارا علم محدود ہے، ہمارے زاویہ نظر تنگ ہیں، ہماری عقل ناقص ہے — اور ہم اس کے باوجود زندگی کو مکمل قابو میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔

قرآن کی مثالیں ہمیں یہی بتاتی ہیں کہ اللہ کی تدبیر انسان کی تدبیر سے کہیں بلند ہے۔ حضرت یوسفؑ کو کنویں میں پھینکا گیا، بظاہر یہ ایک سانحہ تھا، مگر اسی کنویں سے مصر کے تخت تک اُن کا سفر شروع ہوا۔ حضرت موسیٰؑ کی ماں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنے نوزائیدہ بیٹے کو دریا میں ڈال دیں — یہ عمل عقل کی دنیا میں دیوانگی ہے، مگر وحی کی دنیا میں کامل حکمت۔ اور یہی بچہ فرعون کے گھر پرورش پاتا ہے، وہی جو اُس کا دشمن تھا۔

یہ سب اس لیے ممکن ہوا کہ انبیاء نے ہر بات کو کیلکولیٹ کرنے کے بجائے اللہ پر بھروسا کیا۔ وہ یہ جانتے تھے کہ ہر سوال کا جواب اس دنیا میں ضروری نہیں، اور ہر الجھن کو سلجھانا عقل کا کام نہیں بلکہ صبر، رضا اور ایمان کا امتحان ہے۔

آج جب ہم زندگی میں کسی پریشانی، ناکامی، تاخیر یا نقصان سے دوچار ہوتے ہیں تو ہم فوراً اس کا “جواز” ڈھونڈنے بیٹھ جاتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں:

ایسا کیوں ہوا؟”

آخر میں نے کون سی غلطی کی؟”

یہ میرے ساتھ ہی کیوں ہوا؟”

اس تاخیر کا مطلب کیا ہے؟”

مگر بعض سوالات کے جواب صرف اللہ جانتا ہے۔

اور یہ بات تسلیم کرنا بھی ایمان کا حصہ ہے کہ میں سب کچھ نہیں سمجھ سکتا — اور مجھے سب کچھ سمجھنے کی ضرورت بھی نہیں۔ بعض چیزیں بس تسلیم کرنی ہوتی ہیں، دل سے، خاموشی سے۔ بعض اوقات اللہ ہمیں جو راستہ دکھاتا ہے، وہ ہماری پسند کا نہیں ہوتا، لیکن وہی ہمارے لیے بہتر ہوتا ہے۔ جس کا راز ہمیں برسوں بعد سمجھ آتا ہے، یا کبھی سمجھ ہی نہیں آتا — اور تب بھی وہ قابلِ اعتماد ہوتا ہے کیونکہ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔

زندگی کا سکون تب شروع ہوتا ہے جب انسان عقل اور ایمان میں توازن قائم کرتا ہے۔ جب انسان منصوبہ بناتا ہے، لیکن دل سے مانتا ہے کہ “میرا رب بہتر منصوبہ بنانے والا ہے”۔ جب انسان سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی مانتا ہے کہ “جو چیز میری سمجھ سے باہر ہے، وہ کسی حکمت کی بنیاد پر ہے۔”

اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل ضرور دی ہے، مگر ہر راز کھولنے کی اجازت نہیں دی۔ بعض پردے قائم رکھنے ہی میں خیر ہے۔ اگر ہم ہر بات کو جان لیں، ہر نتیجے کو فوراً سمجھ لیں، تو پھر امتحان اور ایمان کا مطلب کیا رہ جاتا ہے؟

اس لیے جب زندگی آپ کے حساب سے نہ چلے، تو اُس پر بوجھ نہ بنیں۔ ہر چیز کو تجزیے کے ترازو میں نہ تولیں۔ بعض وقت خود کو اللہ کے حوالے کر دینا ہی سب سے بڑی دانشمندی ہوتی ہے۔

بس اتنا سوچا کیجیے:

اگر میں کچھ نہیں سمجھ پا رہا، تو شاید یہی مقام ہے جہاں مجھے بس اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔”

اور اللہ کبھی اپنے بھروسے کو ضائع نہیں کرتا۔

ہماری عقل اور آنکھیں صرف ظاہری اسباب کو دیکھتی ہیں۔ ہم کسی تاخیر، کسی حادثے، کسی ناکامی کو فوری طور پر بدقسمتی یا کوتاہی سے تعبیر کرتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا نظام صرف ظاہری اسباب سے نہیں چلتا۔ اس دنیا میں ایک ایسی قوت کارفرما ہے جو ہر چیز کو اپنے وقت، جگہ اور انداز سے وقوع پذیر ہونے دیتی ہے — اور وہ ہے اللہ کی تقدیر، اُس کی حکمت، اور اُس کا علم جو ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

قرآن مجید ہمیں کئی واقعات کے ذریعے اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ جو کچھ ہمیں نقصان یا پریشانی محسوس ہوتا ہے، وہ اکثر درحقیقت ایک بڑی رحمت کا ذریعہ ہوتا ہے۔ سورۃ کہف میں حضرت موسیٰؑ اور حضرت خضرؑ کا واقعہ اسی نکتہ کو باریکی سے واضح کرتا ہے۔ کشتی میں سوراخ کیا گیا، ایک معصوم بچہ مارا گیا، اور ایک گرتی ہوئی دیوار کو بلا معاوضہ سیدھا کیا گیا—یہ سب اقدامات بظاہر غیرمنصفانہ اور غیرمعقول لگے، حتیٰ کہ حضرت موسیٰؑ جیسے جلیل القدر نبی بھی ان پر صبر نہ کر سکے۔ لیکن جب حضرت خضرؑ نے ہر عمل کے پس پردہ حکمت کو بیان کیا، تب پتا چلا کہ ہر نقصان نما کام، درحقیقت ایک بڑے نقصان سے بچاؤ کے لیے تھا۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے سمجھنا انسان کی فکری بلوغت اور روحانی وسعت کا دروازہ کھولتا ہے۔

اسلامی تاریخ میں ایسے درجنوں واقعات ہیں جہاں وقتی ناکامی دراصل مستقبل کی کامیابی کا دروازہ بنی۔ جنگ اُحد میں مسلمانوں کو بظاہر شکست ہوئی، ستر کے قریب جانثار صحابہؓ شہید ہوئے، مگر اس واقعے نے انہیں اتحاد، نظم و ضبط، اور نافرمانی کے نتائج کا گہرا سبق سکھایا۔ اسی طرح صلح حدیبیہ کا معاہدہ بظاہر مسلمانوں کے حق میں کمزور لگتا تھا۔ صحابہؓ کو یہ معاہدہ سخت ناگوار گزرا، یہاں تک کہ حضرت عمرؓ جیسے بہادر صحابی نے سوال کیا کہ کیا ہم حق پر نہیں؟ پھر کیوں جھکیں؟ لیکن بعد میں وہی معاہدہ اسلام کے پھیلاؤ کا سبب بنا۔ دس سال کی امن کی مدت نے دعوتِ دین کو سہولت دی، اور دو سال کے اندر ہی ہزاروں لوگ اسلام میں داخل ہو گئے۔

کربلا کی سرزمین پر امام حسینؑ کی قربانی کو بھی اگر صرف ظاہری آنکھ سے دیکھا جائے تو ایک المیہ، ایک شکست معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اگر اس واقعے کی روح میں جھانکا جائے تو وہ شہادت محض افراد کی قربانی نہیں بلکہ حق کی بقا، ظلم کے خلاف قیام، اور انسانیت کی روحانی آزادی کی بنیاد تھی۔ خود امام حسینؑ نے فرمایا تھا: “مجھے موت کا سامنا ہو رہا ہے لیکن میں اسے کامیابی سمجھتا ہوں، کیونکہ میں حق کے لیے قربانی دے رہا ہوں۔”

اور یاد کریں امام حسینؑ کا یہ قول:

“جو مصیبت اللہ کی طرف سے ہو، وہ رحمت بن کر اترتی ہے۔”

کربلا میں بظاہر سب کچھ ختم ہو گیا، مگر حقیقت میں دین کو نئی زندگی ملی۔

یہ بات واقعی سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

ایک بڑی کمپنی کا ایک اعلیٰ افسر صرف اس لیے 9/11 کے حملے سے بچ گیا کیونکہ وہ اُس صبح اپنے بیٹے کو پہلی بار کنڈرگارٹن لے گیا تھا؟

ایک شخص زندہ بچا کیونکہ اُس کی باری تھی کہ وہ ڈونٹ خریدنے جائے۔

ایک عورت دیر سے پہنچی کیونکہ اُس کی الارم گھڑی نہیں بجی۔

ایک اور ٹریفک میں پھنس گیا نیو جرسی ٹرن پائک پر۔

ایک بس چھوٹ گئی۔

ایک خاتون نے کپڑوں پر کافی گرا دی اور بدلنا پڑا۔

ایک شخص کی گاڑی اسٹارٹ نہیں ہوئی۔

ایک نے گھر سے نکلنے سے پہلے فون کا جواب دیا۔

ایک کو کیب نہیں ملی۔

لیکن جو کہانی مجھے سب سے زیادہ متاثر کر گئی، وہ یہ ہے:

ایک شخص نے اس صبح نئے جوتے پہنے۔ راستے میں جوتے نے اُس کے پیر پر چھالہ دے دیا۔ وہ دواخانے رکا کہ پٹی خریدے۔

اسی لیے وہ زندہ ہے۔

تو اب جب بھی ٹریفک میں پھنسنا پڑے یا لفٹ چھوٹ جائے یا چابی لینے واپس جانا پڑے… تو یاد کرنے کی کوشش کریں:

شاید میں بالکل اُس جگہ ہوں جہاں مجھے ہونا چاہیے تھا۔

اگلی بار جب آپ کی صبح منصوبے کے مطابق نہ چلے، بچے دیر سے تیار ہو رہے ہوں، چابیاں نہ مل رہی ہوں، یا ہر ٹریفک سگنل سرخ ہو، تو ایک لمحے کے لیے رک جائیں۔

فکر نہ کریں، جلدی نہ کریں۔

آپ نہیں جانتے کہ قسمت کا کون سا موڑ آپ کی تاخیر میں آپ کی حفاظت کر رہا ہے۔

یہ سب ہمیں سکھاتے ہیں کہ ہر رکاوٹ، ہر تاخیر، ہر محرومی میں کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہو سکتی ہے، جو ہماری آنکھ نہیں دیکھ سکتی، مگر اللہ کی نظر دیکھ رہی ہوتی ہے۔اسی تصور کو اگر ہم اپنی روزمرہ زندگی میں لاگو کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ کئی ایسی چھوٹی چھوٹی تاخیر، رکاوٹیں یا حادثات جن پر ہم جھنجھلا جاتے ہیں، درحقیقت کسی بڑی مصیبت سے بچاؤ کا ذریعہ بن رہی ہوتی ہیں۔ 9/11 کے حملوں سے بچنے والے لوگوں کی سچی کہانیاں سنیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ کیسے معمولی تاخیر، جیسے الارم نہ بجنا، کپڑوں پر کافی گر جانا، یا جوتے کے چھالے کی وجہ سے دواخانے جانا، کسی کی جان بچا گئی۔ یہ سب باتیں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ ہمیں اپنے دن کی رکاوٹوں، پریشانیوں اور تاخیر پر صبر سے کام لینا چاہیے، کیونکہ ہمیں نہیں معلوم کہ اللہ ہماری زندگی میں کیا سے کیا روک رہا ہے۔

بسا اوقات ہمیں جو چیز ناکامی لگتی ہے، وہ دراصل کامیابی کے لیے راہ ہموار کر رہی ہوتی ہے۔ جو چیز ہماری نظروں میں حادثہ ہوتی ہے، وہ خدائی پلان کا حصہ ہوتی ہے۔ ہمارے معمولی دن، جنہیں ہم “خراب دن” کہتے ہیں، وہ دراصل اللہ کی طرف سے ہمارے حق میں بہتر دن بنانے کی کوشش ہوتی ہے۔

زندگی ایک راز ہے، اور اللہ کی تدبیر اس راز کا سب سے گہرا پہلو۔ انسان جتنا اس حقیقت کو سمجھے گا، اُتنا ہی وہ سکون، صبر، اور اطمینان سے بھرپور زندگی گزارے گا۔ اگلی بار جب آپ کو کسی چیز کی تاخیر یا نقصان محسوس ہو، تو رک کر سوچیں:

شاید میں بالکل اُسی جگہ ہوں جہاں مجھے ہونا چاہیے تھا۔

شاید اللہ نے مجھے ایک نادیدہ آفت سے بچا لیا ہے۔

شاید یہ تاخیر دراصل میری حفاظت ہے، میری تربیت ہے، یا میرے حق میں کوئی بہتر منصوبہ ہے۔

امام علی علیہ السلام نے فرمایا:”جس چیز کو تم دشمن سمجھ رہے ہوتے ہو اکثر اسی میں بھلائی ہوتی ہے۔”

آخرکار، ہمارا رب کبھی ناحق نہیں کرتا۔ وہ سب کچھ جانتا ہے، ہم نہیں جانتے۔ اور وہی بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1978

ٹیگز

تبصرے