تحریر : مولانا سید عمار حیدر زیدی قم
جب دنیا نے ایران کے ہاتھوں صہیونی ریاست پر کاری وار دیکھا، تو خیبر یاد آ گیا۔ خیبر، وہی قلعہ جو طاقت، غرور، اور باطل کی علامت تھا۔ جس کی سرنگونی ممکن نہ سمجھی جاتی تھی، مگر علی بن ابی طالبؑ نے اسے اس طرح پاش پاش کیا کہ قیامت تک کے لیے اہل حق کے دلوں میں شجاعت، بصیرت اور استقامت کی علامت بن گئے۔
آج جب علیؑ کے پیروکار، صہیونی حکومت کی جڑوں کو ہلا رہے ہیں، تو تاریخ نے پھر وہی منظر دہرایا ہے۔ آج کا ظالم بھی ویسا ہی مغرور ہے، مگر آج بھی علیؑ کے ماننے والے اسی تیغِ ولایت سے کاٹ کر رہے ہیں، جس نے خیبر کی گردن جھکائی تھی۔
قرآن کی روشنی میں اہل باطل کی حقیقت
قرآن فرماتا ہے:
> “قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ، إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا”
(سورہ اسراء، آیت 81)
تفسیر قمی اور تفسیر الصافی میں اس آیت کی تفسیر میں “حق” سے مراد اہل بیت علیہم السلام اور ان کا قائمؑ ہے، اور “باطل” سے مراد ان کے دشمن۔
ہر دور میں جب اہل حق قیام کرتے ہیں، تو باطل کمزور پڑتا ہے، لرزتا ہے، اور آخرکار مٹ جاتا ہے۔
خیبر کا معرکہ اور ولایت علیؑ
رسول خداﷺ نے خیبر کے دن فرمایا:
> “لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، كَرَّارٌ غَيْرُ فَرَّارٍ”
(الکافی، ج5، ص20، باب غزوة خيبر)
جب علم علیؑ کو دیا گیا، خیبر کی دیواریں لرز گئیں۔ علامہ مجلسیؒ بحار الانوار میں لکھتے ہیں:
> “در خیبر کا اکھاڑا جانا محض جسمانی طاقت کا کرشمہ نہ تھا بلکہ ولایت الٰہی کا ظہور تھا۔”
(بحارالانوار، ج21، ص10)
آج کا معرکہ: فلسطین، لبنان، یمن… اور اب ایران
جب غزہ کی گلیوں میں بچوں کی لاشیں اٹھ رہی تھیں، یمن کی ماؤں کے آنچل خون سے رنگین ہو رہے تھے، لبنان کی سرزمین پر بارود برسایا جا رہا تھا — تب بھی ایران واحد ملک تھا جو ان مظلوموں کے شانہ بشانہ کھڑا رہا۔
اور اب، جب وہی ایران جو ہمیشہ مظلوموں کا مددگار رہا، خود ظلم کا نشانہ بن چکا ہے —
■ اس کے سائنسدان،
■ اس کے انجینئرز،
■ اس کی فوج کے اعلیٰ افسران،
■ اس کی خواتین و بچے
ظلم و بربریت کا شکار بن رہے ہیں —
تو کیا ہمارا فریضہ نہیں کہ ہم اس ظلم کے خلاف آواز بلند کریں؟ کیا ہمیں صرف تماشائی بن کر بیٹھ جانا چاہیے؟
قرآن ہمیں جھنجھوڑ کر کہتا ہے:
> “وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ…”
(سورہ نساء، آیت 75)
“تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے نہیں لڑتے جو پکارتے ہیں…”
اگر آج ہم نے خاموشی اختیار کی، تو یاد رکھیں:
> “الساكت عن الحق شيطان أخرس”
(نہج البلاغہ، حکمت 176)
اور یاد رکھیں! اب وقت باتوں کا نہیں، اقدام کا ہے۔
خاموشی، مصالحت یا مفاد؟
آج کچھ مسلمان اپنے دنیاوی مفادات، سفارتی تعلقات، اور معیشتی مجبوریوں کے تحت صہیونی حکومت کی مخالفت سے گریز کر رہے ہیں۔ مگر کیا روزِ محشر یہی بہانے کام آئیں گے؟
جب رسول خداﷺ سامنا کریں گے، اور پوچھیں گے:
> “جب میری اُمت کے بچوں کو شہید کیا جا رہا تھا، جب اہل بیتؑ کے ماننے والے ظلم کا نشانہ بن رہے تھے،
تو تم کہاں تھے؟”
کیا ان کی شفاعت کے طالب بننے والے، اس حالت میں، خود کو حق دارِ شفاعت سمجھ سکتے ہیں؟
نہیں!
شفاعت ان کے لیے ہے جو علیؑ کے راستے پر قائم ہوں، نہ کہ ان کے مخالفوں کی خاموش تائید کرنے والے۔
امام علیؑ نے فرمایا:
> “کُونُوا لِلظَّالِمِ خَصْمًا وَلِلْمَظْلُومِ عَوْنًا”
(نہج البلاغہ، خطبہ 27)
وقت آ چکا ہے کہ ہم یہ فیصلہ کریں:
آیا ہم علیؑ کے شیعہ ہیں یا صرف نام لیوا؟
آیا ہم قاسم سلیمانیؒ کی راہ پر ہیں یا فقط تعزیت پڑھنے والے؟
آیا ہم مظلومینِ ایران کے حامی ہیں یا اپنی معاشی سہولت کے اسیر؟
قرآن، نہج البلاغہ، اور اہل بیتؑ کا راستہ ہمیں خاموشی نہیں، قیام کی دعوت دیتا ہے۔
قیام علیؑ کا ہو، یا وقت کے امامؑ کا — دونوں کا مرکز ظلم کے خلاف بے باکی ہے۔
خدا ہمیں اُن لوگوں میں شامل کرے جو اپنی زبان، ہاتھ، قلم اور وجود سے اہل باطل کے خلاف قیام کرتے ہیں،
اور روزِ محشر رسالت مآبؐ اور اہل بیتؑ کے سامنے سرخرو ہوں۔
