43

جب دنیا باصلاحیت افراد کی ناقدری کرے۔۔۔!

  • نیوز کوڈ : 1990
  • 17 June 2025 - 2:53
جب دنیا باصلاحیت افراد کی ناقدری کرے۔۔۔!

جب دنیا باصلاحیت افراد کی ناقدری کرے۔۔۔!

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

 تحریر : سید جہانزیب عابدی

جو افراد اپنی محنت، اخلاص یا محبت کے بدلے میں لوگوں سے کسی خاص ردِ عمل کی توقع رکھتے ہیں، اور جب انہیں وہ سراہنا، عزت یا پذیرائی نہیں ملتی جس کے وہ امیدوار ہوتے ہیں، تو وہ اکثر مایوسی، غصہ یا ذہنی اضطراب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ کیفیت رفتہ رفتہ انہیں اس حد تک لے جاتی ہے کہ وہ نہ صرف لوگوں سے بدظن ہو جاتے ہیں، بلکہ بعض اوقات خدا سے بھی شکوہ کرنے لگتے ہیں اور حق و حقیقت سے برگشتہ ہونے لگتے ہیں۔

نفسیاتی طور پر دیکھا جائے تو اس رویے کی جڑ میں ایک ناپختہ اور غیر متوازن “خودی” (ego) کارفرما ہوتی ہے۔ ایسے افراد اپنی قدرو قیمت کو باہر کے عوامل سے مشروط کر لیتے ہیں، یعنی انہیں اس وقت تک اپنی اہمیت کا یقین نہیں آتا جب تک لوگ ان کی تصدیق نہ کریں۔ وہ اپنی شناخت کو دوسروں کی رائے، تائید یا توجہ سے جوڑ دیتے ہیں، جو کہ ایک غیر مستحکم بنیاد ہے۔

جب انسان کی خودی اس طرح دوسروں پر انحصار کرنے لگے تو وہ داخلی طور پر غیر محفوظ، جذباتی طور پر ناتواں اور فکری طور پر مشکوک ہو جاتا ہے۔ وہ نیکی کرے یا سچ بولے، اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ اسے سراہیں، نہ کہ یہ کہ وہ سچائی اور نیکی کے اصول پر قائم رہے۔ چنانچہ جب سچائی کا راستہ اختیار کرنے پر تعریف یا کامیابی نہ ملے بلکہ تنقید یا نظر انداز کیے جانے کا سامنا ہو، تو اس کی بنیاد ہل جاتی ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ حق کی راہ بے فائدہ ہے، کیونکہ اسے وہ دنیاوی نتیجہ نہیں ملا جس کا وہ خواہاں تھا۔

یہ مسئلہ دراصل نیت اور مقصد کے دھندلے پن سے پیدا ہوتا ہے۔ جو عمل خدا کے لیے نہیں بلکہ انسانوں کے لیے ہو، اس میں وقتی فائدہ تو ممکن ہے، مگر استقامت اور روحانی سکون نہیں ہوتا۔ جب توقعات پوری نہیں ہوتیں تو انسان کو لگتا ہے کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے، اور اس کے نتیجے میں وہ یا تو دوسروں سے کٹ جاتا ہے، یا بدترین صورت میں خدا سے شکوہ کرنے لگتا ہے کہ “میں نے تو تیری خاطر کیا، پھر ایسا کیوں ہوا؟” حالانکہ درحقیقت وہ “تیرے خاطر” نہیں، لوگوں کی خاطر کر رہا ہوتا ہے۔

ایسے افراد کا دل عموماً شدید جذباتی اُتار چڑھاؤ کا شکار ہوتا ہے۔ وہ بظاہر نیک و متقی دکھائی دے سکتے ہیں، مگر ان کا باطنی توازن دوسروں کے رد عمل پر اتنا منحصر ہوتا ہے کہ جیسے ہی یہ توازن بگڑتا ہے، ان کا اخلاق، سوچ اور یہاں تک کہ ایمان بھی متزلزل ہو جاتا ہے۔

اسلامی تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ انسان کو اپنے اعمال کا مقصد خالصتاً رضائے الٰہی بنانا چاہیے۔ اگر وہ ایسا کرے تو چاہے دنیا اسے سراہے یا نہ سراہے، وہ اپنی راہ پر قائم رہتا ہے۔ امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: “کُن فی الفِتنة كابن اللبون لا ظهر فیركب ولا ضرع فیُحلب” یعنی فتنوں کے وقت ایسے ہو جاؤ جیسے اونٹنی کا بچہ، جس پر نہ سواری کی جا سکتی ہے نہ دودھ دوہا جا سکتا ہے، یعنی کسی کے ہاتھ کا آلہ نہ بنو۔ یہ وہی نفسیاتی استقلال ہے جو انسان کو لوگوں کی بے قدری، مخالفت یا نظراندازی کے باوجود حق پر قائم رکھتا ہے۔

پس، جو افراد حق سے برگشتہ ہوتے ہیں وہ دراصل اپنے نفس، جذبات اور توقعات کو قابو میں رکھنے میں ناکام ہوتے ہیں۔ انہیں اپنی نیت کا جائزہ لینے، اپنے نفس کی تربیت کرنے، اور اپنی قدر و قیمت کو مخلوق کی بجائے خالق کی نظر میں دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بغیر نہ وہ اپنے اندر سکون پا سکتے ہیں، نہ اپنی روحانی شناخت قائم رکھ سکتے ہیں۔

جب لوگ حسد، بغض اور کینے کے باعث ہماری صلاحیتوں کو نہ صرف نظر انداز کریں بلکہ ان کی کوئی قدر نہ کریں، اور نہ ہی ہمیں وہ حوصلہ افزائی دیں جو ہمارا حق ہو سکتی ہے، تو یہ صورتِ حال دل کو ٹھیس پہنچاتی ہے اور انسان فطری طور پر مایوس ہونے لگتا ہے۔ لیکن ایک مومن کے لیے اس مقام پر سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنی توجہ لوگوں سے ہٹا کر خدا کی طرف کرے۔

جب ہم اپنی نیت کو خالص کر کے قربتہً الی اللہ کام کرتے ہیں تو ہماری اصل توجہ یہ نہیں رہتی کہ لوگ ہمیں سراہیں یا تعریف کریں، بلکہ یہ ہوتی ہے کہ ہمارا رب راضی ہو جائے۔ اس راہ میں ہمیں امام علی علیہ السلام کی وہ نصیحت یاد رکھنی چاہیے جس میں آپ فرماتے ہیں کہ “العمل لا یُقبل إلا مع الاخلاص” یعنی عمل اس وقت تک مقبول نہیں ہوتا جب تک وہ خلوص کے ساتھ نہ ہو۔

انسان کی فطرت ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ اس کی کوشش کو سراہا جائے، اس کے کام کو پہچانا جائے، مگر جب یہ توقعات مخلوق سے وابستہ ہو جائیں تو دل ٹوٹتا ہے۔ یہی مقام وہ ہے جہاں ہماری روحانی تربیت شروع ہوتی ہے۔ ہمیں یہ سیکھنا ہوتا ہے کہ ہم اپنی کاوشوں کا بدلہ صرف خدا سے چاہیں، اور اگر لوگ ہمیں پہچان نہ سکیں، تب بھی ہمارا اجر ضائع نہیں ہوگا۔ سورہ البقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “إنَّ اللّهَ لا يُضيعُ أجرَ المُحسِنينَ” یعنی بے شک اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

ایسے موقعوں پر امام زین العابدین علیہ السلام کی دعاؤں سے رہنمائی لینی چاہیے، خاص طور پر دعائے مکارم الاخلاق میں جب وہ فرماتے ہیں کہ “اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ، وَسَدِّدْنِي لأَنْ أُعارِضَ مَنْ غَشَّنِي بِالنُّصْحِ، وَأَجْزِيَ مَنْ هَجَرَنِي بِالبِرِّ، وَأُثِيبَ مَنْ حَرَمَنِي بِالبَذْلِ” یعنی اے اللہ! مجھے توفیق دے کہ جو میرے ساتھ فریب کرے، میں اس کو نصیحت سے جواب دوں، جو مجھے چھوڑ دے، میں اس کے ساتھ نیکی سے پیش آؤں، اور جو مجھے محروم کرے، میں اسے عطا کروں۔

خلوص نیت یہی ہے کہ انسان کسی بھی کام میں اللہ کو مرکز بنا لے۔ جب ایسا ہو جائے تو دنیا کی واہ واہ یا تنقید، دونوں غیر متعلق ہو جاتی ہیں۔ ہمیں ہر حال میں یہ یقین رکھنا چاہیے کہ ہمارا رب ہمارے اعمال کو دیکھ رہا ہے، اور وہی سب سے بہتر انصاف کرنے والا ہے۔

اگر ہم اس نظریے کو اپنا لیں کہ ہمارا سفر، ہماری محنت، ہمارا اخلاص، سب کچھ اللہ کی راہ میں ہے تو پھر نہ لوگوں کی بے قدری ہمیں روکتی ہے، نہ ان کی تعریف ہمیں مغرور کرتی ہے۔ ہم استقامت کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھتے ہیں، کیونکہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ “حسبنا الله ونعم الوكيل”.

خود کو اسی روش پر رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مسلسل دعا، ذکر اور تفکر کے ذریعے اپنے دل کو جلا دیں۔ اگر ہمارے عمل کا محرک خالص اللہ کی رضا ہو، تو پھر نہ ہم حاسدوں سے خفا ہوتے ہیں، نہ ان کی رکاوٹوں سے تھمتے ہیں، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا کی نگاہ میں ہماری قدر وہی ہے جو ہماری نیت کی گہرائی میں چھپی ہوتی ہے، نہ کہ لوگوں کے ظاہر میں۔

لہٰذا، جب دنیا ہمیں پہچاننے سے انکار کرے، تو ہم خود کو خدا کے حضور پیش کریں، کیونکہ وہی سب سے بڑھ کر جاننے والا اور سب سے بڑھ کر انصاف کرنے والا ہے۔ اور جس کی قدر اللہ کرے، اُسے کسی مخلوق کی پہچان کی ضرورت نہیں۔

البتہ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بچوں, شاگردوں, اپنے سے نچلے پوزیشنز پر فائز انسانوں کی ناقدری نہ کریں۔ اگر تعریف اور حوصلہ افزائی کے چند بول ان کی زندگی کو جہنم بننے سے روک رہے ہوں تو ہمیں اس میں کنجوسی نہیں کرنا چاہیے۔ یہ عمل یقینا صدقہ ہے اور اس کا اجر شاید ایسے باصلاحیت افراد کی زندگی بچانے اور محفوظ بنانے کے برابر تو ہوگا۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1990

ٹیگز

تبصرے