بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
پاکستان کی حکومت کی ایران اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ جنگ میں ایران کی مدد کرنے کی صلاحیت اور آمادگی ایک پیچیدہ اور کئی جہتی سوال ہے، جسے صرف جذبات یا اخباری بیانات کی روشنی میں نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ مسئلہ داخلی سیاسی حالات، عسکری توازن، خارجہ پالیسی، عالمی دباؤ، معاشی حالت، اور پاکستان کے خطے میں اسٹرٹیجک مقاصد جیسے عناصر سے گہرائی سے جڑا ہوا ہے۔
اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست جنگ چھڑتی ہے، تو پاکستان کی حکومت فوری طور پر کھل کر ایران کی عسکری مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں توازن کا وہ اصول ہے جس کے تحت پاکستان سعودی عرب، امریکہ، چین، ترکی، اور ایران جیسے مختلف اور بعض اوقات باہم متضاد ممالک کے ساتھ بیک وقت تعلقات کو سنبھالنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایران کی کھلی عسکری حمایت کرنے کا مطلب سعودی عرب، امریکہ اور مغربی بلاک کے ساتھ ممکنہ تصادم ہوگا، جو کہ پاکستان کی موجودہ اقتصادی حالت اور سیاسی غیر استحکام کو دیکھتے ہوئے انتہائی مہنگا سودا ہوگا۔
پاکستان کی حکومت کی جانب سے ایران کے اسرائیل مخالف بیانیے کی عمومی تائید اکثر علامتی اور بیاناتی سطح پر محدود رہتی ہے۔ جب ایران پر حملہ ہو یا اسرائیل کے مظالم میں شدت آئے، تو پاکستان کی حکومت کی جانب سے عمومی طور پر ایک روایتی سا بیان جاری کیا جاتا ہے جس میں “امت مسلمہ کے اتحاد”، “فلسطینی عوام کے حقوق” اور “مشرق وسطیٰ میں امن” کی بات کی جاتی ہے۔ ان بیانات میں ایران کی واضح اور مخصوص حمایت نہیں کی جاتی، بلکہ زبان ایسی اختیار کی جاتی ہے کہ سعودی عرب اور امریکہ جیسے ممالک کو ناراض نہ کیا جائے۔ بعض مواقع پر پاکستانی دفتر خارجہ کے بیانات اس قدر مبہم ہوتے ہیں کہ یہ طے کرنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ ایران کے بیانیے سے ہم آہنگ ہیں یا نہیں۔
اگر عوامی اور مذہبی سطح پر دیکھا جائے تو پاکستان کی عام شیعہ آبادی اور بعض مذہبی جماعتیں جیسے تحریک بیداری، مجلس وحدت المسلمین، اور اہل تشیع کے دیگر حلقے ایران کی اسرائیل مخالف پوزیشن کے حامی ہوتے ہیں اور فلسطین کی حمایت میں بھی سرگرم ہوتے ہیں۔ البتہ حکومتی ادارے ان جذبات کی نمائندگی کرنے میں ہچکچاتے ہیں تاکہ ملکی و بین الاقوامی سطح پر توازن برقرار رہے۔ جب کبھی ایرانی جنرل قاسم سلیمانی جیسے افراد کو شہید کیا گیا، تب بھی پاکستان کی حکومت نے محتاط اور غیرجانب دارانہ موقف اختیار کیا، حالانکہ عوامی سطح پر شدید غم و غصہ دیکھا گیا۔
پاکستان کی فوجی اور خفیہ پالیسی کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو کسی بھی مشرق وسطیٰ کی جنگ میں براہ راست جھونکنے سے گریز کرتی ہے۔ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ یہ سمجھتی ہے کہ اگر وہ ایران کے ساتھ کھل کر کھڑی ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں پاکستان کو سفارتی اور معاشی محاذوں پر دباؤ کا سامنا ہوگا، خاص طور پر ان ملکوں سے جو اسرائیل کے اتحادی ہیں۔ حتیٰ کہ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی پالیسی تو اپنائی ہوئی ہے، مگر کئی بار “بیک چینل ڈپلومیسی” اور اسرائیل کے ساتھ غیر رسمی رابطوں کی خبریں بھی منظر عام پر آتی رہی ہیں۔
پاکستان کی جانب سے ایران کی اسرائیل کے خلاف ممکنہ جنگ میں حمایت کے امکانات کو جب معاشی تناظر میں دیکھا جائے تو تصویر مزید واضح اور حقیقت پسندانہ ہو جاتی ہے۔ پاکستان اس وقت شدید معاشی بحران کا شکار ہے، جس میں زرمبادلہ کے ذخائر کی کمی، آئی ایم ایف کے قرضوں پر انحصار، درآمدات و برآمدات کا غیر متوازن توازن، اور سیاسی غیر یقینی صورتِ حال جیسے عناصر شامل ہیں۔ ان حالات میں کسی بین الاقوامی تنازع، خاص طور پر ایک ایسی جنگ جو اسرائیل جیسے امریکہ نواز ریاست کے خلاف ہو، میں عملی شمولیت یا مدد ایک غیرمعمولی معاشی خودکشی کے مترادف ہوگی۔
پاکستان کا معیشتی ڈھانچہ اس وقت سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، چین، اور مغربی مالیاتی اداروں جیسے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی مدد پر قائم ہے۔ اگر پاکستان کھل کر ایران کی عسکری مدد کرے، تو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کے ساتھ مالیاتی تعلقات شدید متاثر ہوں گے، خاص طور پر remittances، تیل کی رعایتی فراہمی، اور بیل آؤٹ پیکجز کے حوالے سے۔ ان عرب ممالک نے کئی بار پاکستان پر یہ واضح کر دیا ہے کہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت ان کے مفادات سے متصادم ہے۔ پاکستان اگر ان ممالک کی ناراضی مول لیتا ہے تو فوری طور پر معاشی امداد رک سکتی ہے، جو معیشت کے لیے تباہ کن ہوگا۔
اسی طرح امریکہ اور مغربی دنیا جن پر پاکستان کی برآمدات، بین الاقوامی ترسیلات زر اور قرضوں کی ری شیڈولنگ کا بڑا دار و مدار ہے، ایران کے ساتھ کھلی حمایت کو ایک سخت پیغام کے طور پر لیں گے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کو FATF کی گرے یا بلیک لسٹ میں دوبارہ دھکیلنے، مالیاتی پابندیوں اور تجارتی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان پابندیوں کا مطلب بین الاقوامی ادائیگیوں، قرضوں کے سود، درآمدی ضروریات، اور ڈالر کی دستیابی کے میدان میں مزید پیچیدگیاں ہوں گی، جو پہلے سے خستہ حال معیشت کو زمین بوس کر سکتی ہیں۔
پاکستان کے اندر معاشی ڈھانچہ ایک بڑے تجارتی خسارے کا شکار ہے، اور صنعتی پیداواری صلاحیت بھی بجلی، ایندھن اور خام مال کی درآمد پر منحصر ہے۔ جنگی تعاون یا ایران کے لیے دفاعی و لاجسٹک سپورٹ کی فراہمی ان وسائل کی مزید قلت پیدا کرے گی، جبکہ مہنگائی، بیروزگاری اور غربت میں اضافہ ہوگا۔ پاکستانی عوام کی اکثریت جو پہلے ہی معاشی دباؤ میں ہے، ایران کی حمایت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اقتصادی بحران کو قبول نہیں کرے گی، بلکہ اس پر ردعمل آئے گا جس سے داخلی سیاسی عدم استحکام میں اضافہ ہوگا۔
پاکستانی سرمایہ کار، تاجر، اور کاروباری طبقہ بھی کسی ایسی پالیسی کو قبول نہیں کرے گا جو ملک کو بین الاقوامی تجارتی اور مالیاتی نظام سے کاٹ دے۔ ملک میں سرمایہ کاری کا ماحول انتہائی نازک ہے، اور ایران جیسے عالمی پابندیوں کے شکار ملک کے ساتھ عسکری اتحاد کی صورت میں پاکستان بھی انہی پابندیوں کی زد میں آ سکتا ہے، جس کا مطلب ہوگا کہ کوئی غیر ملکی سرمایہ کاری، بینکنگ چینل یا کاروباری اعتماد باقی نہیں رہے گا۔
لہٰذا معاشی زاویے سے دیکھا جائے تو پاکستان کے لیے ایران کی کھلی اور عملی حمایت کرنا ایک ایسا بوجھ ہوگا جسے اس کی کمزور معیشت اٹھا ہی نہیں سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی حکومت صرف علامتی حمایت، روایتی بیانات اور “امت مسلمہ” کے اتحاد جیسے مبہم الفاظ پر اکتفا کرتی ہے تاکہ عوامی جذبات کی تسکین بھی ہو جائے اور بین الاقوامی نظام کی ناراضگی بھی مول نہ لی جائے۔ اس توازن کی پالیسی درحقیقت معاشی مجبوریوں کا نتیجہ ہے، نہ کہ خالص سفارتی حکمت عملی۔
خلاصہ یہ کہ پاکستان کی حکومت ایران کی اسرائیل مخالف جنگ میں کھلے عام عسکری مدد کرنے کی نہ تو پوزیشن میں ہے، نہ ارادہ رکھتی ہے، اور نہ ہی موجودہ عالمی اسٹرٹیجک ماحول میں اس کی کوئی گنجائش ہے۔ سرکاری بیانات اکثر علامتی ہوتے ہیں، جن کا مقصد عوامی جذبات کو وقتی طور پر مطمئن کرنا اور بین الاقوامی برادری کے سامنے توازن برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ ایران کے لیے حقیقی حمایت یا عملی مدد پاکستان کی پالیسی میں فی الوقت موجود نہیں، اور اس کے امکانات بھی تبھی پیدا ہو سکتے ہیں جب پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی آئے، جو کہ موجودہ عالمی نظام میں نہایت مشکل ہے۔
