تلخیص: یداللہ صالحی
– نظام حقوقی کا مفہوم
ہر ملک کے اندر سماجی روابط کو نظم و انضباط دینے کےلیے مخصوص قانوں اور ضابطوں پر مشتمل ہوتا ہے۔جو کہ اس ملک کے حقوقی نظام کو تشکیل دیتا ہے۔
ظاہر سی بات ہے کہ کسی بھی معاشرے پر نافذ قوانین و ضوابط اس معاشرے کے لوگوں کی زمہ داریوں کو معین کرتا ہے۔
جیسے شادی بیاہ کے قانوں یا تجارتی قانون وغیرہ ۔۔ان میں سے ہر قانوں کا ایک جدا مرکز ہوتا ہے ۔
قانونی ادارے معاشرے کی روابط کو تنظیم کرتا ہے۔
– اسلامی حقوقی نظام
اسلام بطور دین جامع ،انسان کی انفرادی سماجی زندگی کی تشکیل اور انکی تنظیم کا زمہ دار ہے ۔
لہذا دین اسلام کا باقاعدہ زندگی کے تمام پہلوؤں منجملہ حقوقی پہلو کے بارے میں مفصل ہدایات موجود ہیں۔جو کہ دین اسلام اپنے پیروکاروں کو ان قوانین کی پابندی اور انکی رعایت کرنے کا پابند کرتی ہے۔
یہاں تک کہ بے دین قسم کے اسلام شناس لوگوں نے بھی باقاعدگی سے کہا ہے کہ کویی بھی حقوق شناسی اپنے آپکو دین اسلام کے حقوق سے ناگاہ نہیں رکھ سکتا۔
دین اسلام کے بنیادی حقوق اور قوانین بذات خود دین کی جانب سے مقرر ہوتا ہے۔اور وین دین اور متن دین ہوتا ہے۔
بعد میں دین اسلام کء حقوقی منابع اور مآخذ۔ کی طرف اشارہ ہوگا۔
– اسلامی حقوقی نظام کی خصوصیات
– الٰہی ،وحیانی اور دینی
اسلامی حقوقی نظام کی تین نمایاں خصوصیات ہیں۔
پہلا یہ کہ یہ قوانین اور حقوق خدا کی جناب سے خد اکے ارادے سے مقرر ہوا ہے۔ حتی کہ پیغمبر کو بھی اجازت نہیں کہ اپنی طرف سے کچھ اضافہ یا کم کرے۔
دوسرا یہ کہ خدا کی طرف سے ارادہ تشریعی کے تحت یہ قوانین اور حقوق کو وحی کے ذریعے نبی اکرم تک بھیجا ہے ۔لہذا اس میں ذرہ برابر شک و تردید کی گنجائش نہیں
تیسرا یہ کہ یہ قوانین الہی اور وحیانی ہے کم ازکم احکام اولیہ کے عمدہ حصے کو تشکیل دیتا ہے اور زیادہ تر حصہ فقہ اور حقوق اسلامی کو تشکیل دیتا ہے۔قرآن کریم اور روایات میں موجود ہے۔اور ان کی تحفظ کا زمہ بذات خود اللہ تعالیٰ نے لیا ہوا ہے۔
🔸 حقیقیت نگر ،جامع اور کامل ہونا
پہلے خصوصیت کا منطقی نتیجہ یہ ہے اسلامی حقوق کا واقع نگر ہونا ہے۔چونکہ اسلامی نظام حقوقی میں قانوں گزار خدا ہوتا ہے۔جو انسان کی تکامل کے سبھی پہلوؤں سے آگاہ ہوتا ہے۔اور انسان کا کاینات سے رابطہ پر علمی احاطہ رکھتا ہے۔
لہذا اس واقع نگری کے تقاضوں کے مطابق سبھی پہلوؤں کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر حقوق کو بیان کیا ہے۔
دوسری جانب سے دین اسلام چونکہ دین خاتم ہے لہذا کمال کا پہلو نمایاں ہے۔
نظام حقوقی سے متعلق ہے جامع اور کامل بیان ہوا ہے۔
پہلا یہ کہ انسام کی انفرادی معاشرتی زندگی کے سبھی پہلوؤں کو ملحوظ رکھ کر قوانین وضع فرمایا ہے۔
ان خصوصیات کی وجہ سے انسان کی مادی اور معاشرتی روابط کیے قوانین مقرر کیا گیا ہے۔اور حقوقی اہداف کو تحفظ کیا جاتا ہے۔
اور انسان کی ہدف خلقت سے ٹکراؤ والے قوانین بھی نہیں ہیں۔
اور اسلام کا حقوقی نظام سبھی پہلوؤں پر مشتمل ہونے کے ساتھ کامل نظام ہے۔یعنی کویی بھی شعبہ زندگی ایسا نہیں کہ جس میں راہنمای اور بغیر قوانین کے رکھ دیا ہو۔
🔸 اتحاد و یگانگت
اسلامی حقوقی نظام کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں دو صورتوں میں ھماھنگی پایا جاتا ہے۔ایک اندرونی سطح پر انسجام و اتحاد ہے۔
اس طرح سے کہ قوانین نظام حقوقی اسلام ایک دوسرے کے ساتھ سازگار ہیں ۔
ایک بیرونی سطح پر انسجام و اتحاد ہے۔
جیسے نظام سیاسی اسلام ،نظام اقتصادی کا باہم رابطہ ہے۔انفرادی حقوق اور قوانین کا معاشرتی حقوق اور قوانین سے گہرا ربط پایا جاتا ہے ۔اسی طرح سے دوسرے نظاموں کے ساتھ باہم منسلک ہیں۔
اس دعویٰ کی دلیل یہ ہے کہ ان نظام سبھی خدا کے علم کی بنیاد پر استوار ہے۔
اندرونی سطح پر انسجام کا معنی یہ ہے کہ نظام حقوقی اسلام کے اجزاء ک باہم گہرا رباطہ پایا جاتا ہے ۔ان کے اہداف مشترک اور انکی بنیادیں ایک ہیں۔لہذا نہ صرف ایک دوسرے کی مخالفت نہیں بلکہ ایک دوسرے کی پشتیبانی کرتے ہیں۔
🔸 اسلامی حقوقی نظام کا دوسرے نظاموں سے سازگار اور ھماھنگ ہونا
اسلامی حقوقی نظام اور دوسرے نظاموں میں جیسے سیاسی ثقافتی سماجی اخلاقی اور عبادی پہلوؤں میں اٹوٹ رشتہ ہے۔اس طرح سے کہ حقوق اسلامی کے بغیر مقصد حاصل نہیں ہوتا ۔
دوسرے نظاموں کا اجرءا ،حقوقی نظام کے ساتھ نہ ہویے تو مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے۔
مثال کے طور پر حقوق اسلامی اور اخلاقی۔ باہم ایک دوسرے کو مدد کرتا ہے۔بلکہ عبادت اسلامی کا ان قوانین اور حقوق کی عملی جامہ پہنانے
یں بڑا اہم کردار ہے۔
🔸 طبیعت کا فطرت انسان میں ھماھنگی
جسطرح سے انسان کے لیے حقوقی نظام وضع ہوتا ہے تو وہ انسان کی ساختار سے ھماھنگ ہونا ضروری ہے۔
انسان کی شخصیت میں مؤثر دو طرح کے عوامل ہیں
1-وہ عوامل جو سبھی انسانوں میں مشترک پایا جاتا ہے۔ہر سرزمین کے انسانوں میں وہ موجود ہوتا ہے۔
جیسے حقیقیت کی تلاش ،عواطف ،غریزہ ۔۔۔
2-دوسرا یہ کہ انسانوں کے آداب و رسوم ،ثقافت ،معاشرتی آداب یہ نسبتاً مختلف ہوتا ہے۔
پہلی قسم کے عوامل جو سبھی میں مشترک ہوں جبکہ دوسرے قسم کے عوامل جو مخصوص گروہ کے لیے جدا ہوتا ہے۔
ہر نظام حقوقی میں سبھی عوامل مشترک ہونا ضروری ہے تاکہ حرج مرج پیدا نہ ہوں معاشرے کی توازن بگڑنے مہ پائے ۔اور انسانوں کو کمال تک پہنچنے میں رکاوٹ نہ بنے۔
اسلامی حقوقی نظام کی بنیاد کے مطابق حقوق، انسانی فطرت اور طبیعت سے سازگار ہیں۔
خدا نے ایسی زمہ داریاں انسان پر عاید کی ہیں جو مشترک اور یکساں ہیں۔
لیکن جہاں کر بدنی اور نفسیاتی خصوصیات میں فرق ہوں وہاں پر یہ چیز مختلف ہیں۔جیسے گھر کے اندر مرد اور عورت کی خصوصیات کی اختلاف کی بنیاد پر انکی زمہ داریاں بھی مختلف ہیں ۔
لیکن وہ جگہے جہاں پر ہمیں یہ فرق محسوس ہوں وہ حقیقی نہیں بلکہ سرسری اور سطحی پنے کی وجہ سے نظر آتا ہء۔
یہ انسان کی احکام الٰہی کشف کرنے میں خطا اور غلطی کی وجہ سے ہے۔
🔸 قوانین ثابت ہونے کے ساتھ لچک دار ہونا
دین اسلام کے حقوقی نظام کا ایک حصہ ثابت و غیر متغیر ہوتا ہے۔
اور اس کے قوانین بھی قابل تبدیل نہیں ۔اسسے تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہھ۔
–دین اسلامی۔ قانوں گزار ،خدا کی ذات ہے۔خدا نے ان قوانین کو انسان کی مصلحت ق مفسدہ ملحوظ رکھ کر مقرر فرمایا ہے۔لہذا ان میں خطاء کی گنجایش نہیں
دین اسلام کے حقوقی نظام انسان کی فطرت اور طبعیت سے ھماھنگ ہے ۔
اسلامی حقوق کی بنیاد اہداف اور ثابت فوائد پر مشتمل ہے۔لہذا انہی پر استوار اسلامی قوانین بھی ناقابل تبدیل ہیں۔
یہاں پر سؤال پیدا ہوتا ہے کہ انسانی معاشرہ مسلسل تبدیلی کی زد ہر ہے۔
لوگوں کی ضروریات بدل رہے ہیں اور ہرزمانےی۔ نیے تقاضے جنم۔لے رہے ہیں۔جبکہ قوانین وہی پرانے یہ کیسے ممکن ہے؟
پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ دین اسلام کے قوانین مصلحتوں اور مفسدوں کی بنیاد پر استوار ہے۔یہ مصلحت اور مفسدہ بھی زمانے کی تبدیلی اور حالات و شرایط کے بدلنے کے ساتھ ساتھ بدل جاتے ہیں۔
۔ موضوع کا تبدیل ہوجانا۔۔
اسلام احکامات موضوع اور حکم سے تشکیل پایا ہوتا ہے۔جب موضوع تبدیل ہوتا ہے تو حکم بھی بدل جاتا ہے ۔
البتہ سبھی حکم اور موضوعات قابل تبدیل بھی نہیں کچھ ثابت اور غیر متغیر ہیں۔
– احکام ثانویہ
دین اسلام نے عادی اور معمولی دنوں اور معمولی حالات کے لیے بھی حکم وضع فرمایا ہے اسی طرح سے جب غیر معمولی حالات اور شرایط ہوں تو ان دنوں کے لیے بھی دین اسلام نے حکم وضع فرمایا ہے۔
غیر معمولی حالات اور شرایط کے لیے وضع کیے گیے احکامات کو قانوں اضطراری کہا جاتا ہے۔
یا احکامات ثانویہ بھی کہا جاتا ہے۔
3- احکامات میں ٹکراؤ کی صورت میں اہم کو مہم پر مقدم کرنا
کچھ احکامات ایک ہی زمانے میں انجام دینا ممکن نہیں ۔صرف ایک حکم کو بجا لاسکتا ہے۔
لہذا ایسے وقتوں میں اہم اور مہم جن میں ٹکراؤ پیدا ہورہا ہوتا ہے اہم کو مہم پر مقدم کریں گے۔
– احکام حکومتی
دینی متون کو دیکھنے سے کچھ اختیارات اسلامی حکومت اور اسلام میں حکمران کو حاصل ہوا ہوتا نظر آتا ہء۔
حاکم اسلامی ،مسلمانوں کی مصلحتوں کو دیکھ کر وقتہ حکم کرسکتا ہے۔
جیسے امام خمینی رہ نے ایرانی حجاج کی قتل عام پر حج کو وقتی طور پر ممنوع کردیا۔
– نسخ
کبھی مصلحت کی وجہ سے قانون کو وضع کیا جاتا ہے ابتدءا سے ہی وہ قانوں وقتی مدت کے لیے وضع کیا ہوتا ہے ۔طبیعی ہے کہ اس قانوں کی مدت ختم ہوتے ہی وہ تبدیل ہوتا ہے۔اسی کو اصطلاح میں مسخ کہا جاتا ہے۔
نسخ یعنی وہ حکم کو کسی مصلحت یا مفسدہ کی بنیادپر مخصوص شرایط اور حالات میں ومذوں سازی کرے لیکن جب اس وقتی قانون سازی کی ہویی قانوں کی مدت ختم ہوجایے تو اس کی جگہ نیا قانون بنایا جاتا ہے۔
نظام حقوقی اسلام ثابت ہونے کے ساتھ ساتھ قابل انعطاف ہے۔
یہ بدلتے حالات کے مطابق انسانوں کے ضرویات کی جواب دے دیتا ہے۔
🔸سہل اور آسان ہونا
دین اسلام کے حقوقی نظام سہولت بھی ہے اور آساں بھی ہے ۔چونکہ یہ قوانین معاشرتی زندگی کا نظم و انضباط دینے کے لیے ہوتا ہے۔تاکہ مصلحت اور مفسدہ ملحوظ رہے۔
ان قوانین کی اجراء سے لوگوں کی زندگیوں میں سختی اور مشکلات پیدا نہ کرے ۔
شریعت اسلامی فطرت اور طبیعت کی بنیاد پر ہے۔
رسول اللہ کا فرمان ہے ۔
خدا نے مجھے رھبانیت کےلیے نہیں بھیجا بلہ دین حنیف پر بھیجا ہوں اور قرآن کریم میں آیا ہے کہ خدا نے آسان اور سادہ چیزیں ہم سے چاہی ہیں۔
یہاں تک کہ اگر کسی جگہ سختی اور مشکلات ہوں تو احکامات ثانویہ کے ذریعے وہی حکم اولیہ اٹھ جاتا ہے۔
🔸جاری ہونے کی ایمانی ضمانت
قوانین کے اندر ایک کھٹکا یہ رہتا ہے کہ یہ جاری ہوں گے یا نہیں۔
لوگ قانوں شکنی کریں گے یا نہیں۔
دین اسلام کے قوانین کی اجراء کی ایمانی ضمانت ہے۔
ایک مسلمان شخص کے مطابق اسلامی معاشرے کے قوانین کی رو سے خدا کی اطاعت کرنا اور خدا کی اطاعت نہ کرنا معصیت ہے۔
کاینات خدا کا محضر ہے۔لہذا ہمارے سبھی اعمال افعال خدا کے سامنے انجام پارہا ہوتا ہے۔
لہذا اسلامی سوسائٹی میں قانوں شکنی کرنے پر تعزیرات سے زیادہ اس کے پانے ایمانی کٹہرے میں عدالت اس شخص کو ستاتی ہء۔یہ ایمانی ضمانت کہلاتا ہء۔
🔸اصالت و استقلال
اسلامی حقوقی نظام کی ایک برجستہ خصوصیت یہ ہے کہ یہ کپہں سے کیا گیا نہیں بلکہ بذات خود دین ہی کا اپنا پیش کیا ہوا ہے۔
اور علم خدا کی رو سے اور وحی کے ذریعے یہ مستقیما خع کی جانب سے اترا ہے۔
اگر اسلامی حقوقی نظام اور دوسرے نظام میں مشابہت نظر آتا ہے تو یہ فطری اور طبیعی ہونے کی وجہ سے ہے۔
📚حوالہ جات کتاب:
1–مھدی برات علی ،لیبرلیسم ص59
2–صبحی محمصانی ،فلسفہ قانوں گزاری در اسلام ص238-249
3–قدرت اللہ خسرو شاھی ،نظریہ ھا و نظام ھای حقوقی ص 140-156
