40

تدبیر یا تقدیر؟!!

  • نیوز کوڈ : 1944
  • 14 June 2025 - 3:36
تدبیر یا تقدیر؟!!

تدبیر یا تقدیر؟!!

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

 تحریر : سید جہانزیب عابدی

انسان کو ہر چیز پر مسلسل تدبیر، پلاننگ اور کیلکولیشن مسلط کرنے کے بجائے، زندگی کے کچھ پہلوؤں کو فطری بہاؤ کے ساتھ چلنے دینا چاہیے۔ بعض اوقات عقل سے زیادہ سکون فطرت کے خاموش بہاؤ میں ملتا ہے۔

انسان فطرتاً کنٹرول پسند مخلوق ہے۔ وہ ہر شے کو قابو میں لانا چاہتا ہے: وقت، حالات، رشتے، نتائج، حتیٰ کہ خود تقدیر کو بھی۔ ہم صبح آنکھ کھولتے ہیں تو چیک لسٹ کے ساتھ، کیلنڈر کے پیچھے دوڑتے ہیں، گھنٹوں منصوبہ بندی کرتے ہیں، اور ہر عمل کو کسی نتیجے، ہدف یا فتوحات کے پیمانے پر پرکھنے لگتے ہیں۔ ہمیں گمان ہوتا ہے کہ اگر ہم نے ہر چیز کو پہلے سے طے کر لیا، منصوبہ بنایا، ہر خطرے کا اندازہ لگا لیا، اور ہر ممکنہ موڑ کو کیلکولیٹ کر لیا تو ہم ناکامی، تاخیر یا نقصان سے بچ جائیں گے۔ لیکن کیا زندگی واقعی ایسے چلتی ہے؟

زندگی ایک دریا کی مانند ہے، جس کا فطری بہاؤ ہے، جس کے پیچ و خم، اتار چڑھاؤ اور رفتار اپنی جگہ طے شدہ ہے۔ اگر آپ اس دریا کے ساتھ چلیں، تو وہ آپ کو بہا کر کنارے تک پہنچا دیتا ہے۔ لیکن اگر آپ اس کے خلاف پیڈل چلانے لگیں، مسلسل ڈائریکشن بدلنے کی کوشش کریں، یا ہر لمحہ اس کے بہاؤ کو کنٹرول کرنا چاہیں، تو نہ صرف آپ تھک جائیں گے، بلکہ بعض اوقات ڈوبنے کے قریب بھی جا پہنچیں گے۔

ہر موقع پر تدبیر، پلاننگ اور کیلکولیشن کی ضد کرنا اکثر زندگی کو پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ بعض اوقات ہم کسی رشتے کو اتنا تجزیاتی انداز میں دیکھنے لگتے ہیں کہ محبت اور خلوص کی اصل روح ہی مر جاتی ہے۔ کسی کام میں اتنا حساب کتاب لے آتے ہیں کہ اخلاص اور توکل کا مقام ختم ہو جاتا ہے۔ ہم ہر قدم پر فائدہ، نقصان، وقت، قیمت، موقع، اور نتیجے کا سوال اٹھاتے ہیں — یہاں تک کہ دل کا سکون خود ہم سے روٹھ جاتا ہے۔

کبھی کبھی زندگی میں کچھ چیزوں کو بس فطری رفتار سے بہنے دینا بہتر ہوتا ہے۔ کچھ فیصلے خاموش رہ کر کیے جائیں، کچھ وقت بےسمت گزارنے دیا جائے، کچھ رشتے بغیر قاعدے کے پنپنے دیے جائیں، کچھ کام بغیر حساب کے کیے جائیں — نہ اس لیے کہ ہم لاپرواہ ہیں، بلکہ اس لیے کہ ہم سمجھ گئے ہیں کہ ہر عمل کو کیلکولیٹ کرنے کی ضد اکثر اس کے حسن کو مار دیتی ہے۔

یہی حکمت ہمیں قرآن اور سنت میں بھی نظر آتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے جہاں تدبیر کی اعلیٰ مثالیں قائم کیں، وہیں وہ ان مقامات پر بھی ہمیں نظر آتے ہیں جہاں معاملے کو وقت کے ساتھ فطری طور پر چلنے دیا گیا۔ فتح مکہ ہو یا طائف کی حکمتِ عملی، صلح حدیبیہ ہو یا ہجرت کا وقت — ہر جگہ ہر چیز پلاننگ سے نہیں، بلکہ بعض اوقات صبر، خاموشی اور فطری بہاؤ کے مطابق ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہ سکھایا کہ عقل، تدبیر اور توکل — تینوں میں توازن ہی اصل کامیابی ہے۔

حضرت خضرؑ اور موسیٰؑ کے واقعے میں بھی یہی سبق ہے: جو چیز فوری طور پر سمجھ میں نہ آئے، اُسے زبردستی سمجھنے کی کوشش نہ کرو، بلکہ وقت اور حکمت پر چھوڑ دو۔ دنیا کا ہر راز عقل سے نہیں کھلتا، کچھ راز خاموشی اور تسلیم سے ہی کھلتے ہیں۔

اکثر اوقات ہم اتنی پلاننگ کر لیتے ہیں کہ وہی پلاننگ ہمارے عمل کی دشمن بن جاتی ہے۔ ہم اتنا سوچتے ہیں کہ عمل کی ہمت کھو بیٹھتے ہیں۔ ہم ہر رستے کے نتائج سے ڈر کر چلنا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کیفیت میں تدبیر، ترقی کا وسیلہ نہیں بلکہ تاخیر کا سبب بن جاتی ہے۔

اسی لیے ضروری ہے کہ ہم زندگی کو مکمل کنٹرول کرنے کی خواہش چھوڑیں۔ کبھی کبار کچھ فیصلے خدا پر چھوڑ دیجیے، کچھ راہوں کو وقت کے سپرد کر دیجیے، کچھ تعلقات کو خلوص کے سہارے پر چلنے دیجیے۔ اور خود کو اس یقین کے ساتھ آزاد کیجیے کہ اگر نیت سچی ہو، دل صاف ہو، اور ارادہ نیک ہو، تو بہت سی چیزیں بغیر حساب و کتاب کے بھی بہترین طریقے سے ہو جاتی ہیں — بلکہ زیادہ خوبصورتی سے ہو جاتی ہیں۔

انسان کی اصل کامیابی اسی میں ہے کہ وہ تدبیر کرے، لیکن تقدیر پر یقین رکھے۔ وہ سمجھے کہ ہر موقع تدبیر کا نہیں، کبھی کبھی بس خاموشی سے دریا کے بہاؤ میں بہنا بہتر ہوتا ہے۔

تدبیر اور تقدیر کے درمیان توازن ایک نہایت نازک اور اہم مقام رکھتا ہے۔ تدبیر انسان کا فطری اختیار ہے، جبکہ تقدیر اللہ کی مشیت اور علمِ ازلی کا مظہر۔ ان دونوں کے درمیان ایک ایسی حد فاصل ہے، جسے عبور کرنے سے انسان یا تو گھمنڈی ہو جاتا ہے یا مکمل مایوس۔ اس درمیانی مقام کو اگر ہم “ریڈ لائن” کہیں تو بے جا نہ ہو گا، کیونکہ یہ وہ حد ہے جہاں عقل، اختیار اور ایمان کا تصادم ہوتا ہے، اور اگر اس توازن کو نہ سمجھا جائے تو زندگی کے بڑے بگاڑ پیدا ہو سکتے ہیں۔

جب انسان تدبیر میں افراط کرتا ہے تو وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ سب کچھ اُسی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ ہر چیز کو اپنے کنٹرول میں لانے کی کوشش کرتا ہے۔ ہر فیصلہ، ہر نتیجہ، ہر تبدیلی اُس کے پلاننگ بورڈ پر ہونا چاہیے۔ اس کی دعائیں بھی، اس کی نیند بھی، اس کے رشتے بھی اور اس کے جذبات بھی، سب کسی نہ کسی “تار” سے بندھے ہوتے ہیں جنہیں وہ خود کھینچتا اور چھوڑتا ہے۔ ایسا انسان رفتہ رفتہ ایک “خود ساختہ خدائی” کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے، جہاں وہ کسی ناپسندیدہ نتیجے کو برداشت نہیں کر سکتا۔ اگر کچھ ویسا نہ ہو جیسا اس نے چاہا تھا تو وہ ٹوٹ جاتا ہے، چونک جاتا ہے، یا خود پر اور دوسروں پر الزام تراشی شروع کر دیتا ہے۔ یہ مسلسل تناؤ، بےچینی، نیند کی کمی، فیصلوں کا خوف، اور بےتحمل مزاجی کو جنم دیتا ہے۔ ایک مرحلے پر آ کر ایسا شخص زندگی کو بوجھ سمجھنے لگتا ہے کیونکہ وہ ہر چیز کو اپنے کندھوں پر اٹھانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔

دوسری طرف جب انسان تقدیر کے نام پر ہر شے کو مکمل طور پر چھوڑ دیتا ہے، تو وہ خود کو لاچار محسوس کرنے لگتا ہے۔ وہ نہ سوچتا ہے، نہ پلان بناتا ہے، نہ کوشش کرتا ہے، اور ہر ناکامی کا جواز صرف ایک جملے میں پیش کر دیتا ہے: “تقدیر میں یہی لکھا تھا۔” یہ تفریط اس کے عمل، ہمت اور ارادے کو مفلوج کر دیتی ہے۔ آہستہ آہستہ وہ بےعملی، جمود اور قسمت کے بہانے میں پناہ لینے لگتا ہے۔ ایسا شخص کسی کامیابی کا اصل مزہ نہیں لے سکتا کیونکہ وہ اپنی کوشش کو کبھی تسلیم ہی نہیں کرتا، اور کسی ناکامی سے کچھ سیکھ نہیں سکتا کیونکہ وہ خود کو کبھی ذمہ دار نہیں سمجھتا۔ ایسے لوگ یا تو اپنی ذات سے مایوس ہو جاتے ہیں یا دوسروں سے حسد کرنے لگتے ہیں۔ ان کا نفسیاتی مزاج مسلسل خالی پن اور بےسمتی کا شکار رہتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ تدبیر و تقدیر کی ریڈ لائن وہ مقام ہے جہاں انسان کو رک کر یہ سمجھنا ہوتا ہے کہ میرا کام کوشش کرنا ہے، نتیجہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ مجھے عقل اور اختیار اللہ نے دیا ہے تاکہ میں قدم اٹھاؤں، مشورہ کروں، منصوبہ بناؤں، لیکن میں یہ نہ بھولوں کہ آخری فیصلہ میرے رب کا ہوتا ہے۔ مجھے تقدیر پر ایمان رکھنا ہے، لیکن سستی اور جمود کے لیے اسے بہانے کے طور پر نہیں لینا۔

ان دونوں کے درمیان توازن ایک بالغ اور باایمان شخصیت کی پہچان ہے۔ ایسا شخص کوشش کرتا ہے، مگر اس میں تکبر نہیں آتا۔ وہ دعا کرتا ہے، مگر سستی نہیں آتی۔ وہ فیل ہو جائے تو ٹوٹتا نہیں، کامیاب ہو جائے تو اڑتا نہیں۔ وہ جانتا ہے کہ میرا ہر قدم میری نیت اور سعی سے ہے، لیکن میرا ہر انجام اللہ کی حکمت اور علم سے ہے۔

اس توازن کی عدم موجودگی ہمارے معاشروں میں شدید نفسیاتی، جذباتی اور روحانی بیماریوں کو جنم دیتی ہے۔ انسان یا تو پرفیکشنزم کا مریض بن جاتا ہے یا مایوسی کا شکار۔ یا تو ہر وقت الجھن، دباؤ اور خوف میں جیتا ہے، یا ہر بات کو قسمت کہہ کر اپنی کمزوریوں کی پردہ پوشی کرتا ہے۔ ایک طرف سختی ہے، دوسری طرف غفلت — اور دونوں کا علاج ایک ہی ہے: توکل اور توازن۔

تقدیر کو ماننا، اس پر ایمان رکھنا اور تدبیر کے دائرے میں رہ کر عمل کرنا ہی وہ راستہ ہے جو انسان کو بےچینی، افسردگی، مایوسی اور غرور، سب سے بچا کر رکھتا ہے۔ یہ راستہ نہ محض عقلی ہے نہ محض روحانی، بلکہ یہ دونوں کا امتزاج ہے — اور یہی اسلام کی اصل روح بھی ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1944

ٹیگز

تبصرے