آیت اللہ سید احمد خاتمی
صراط ٹائمز رپورٹ
📅 تہران، ۱۳ جون ۲۰۲۵ – تہران کی مرکزی جامع مسجد میں آج کے خطبۂ جمعہ میں آیت اللہ سید احمد خاتمی نے جذباتی اور حماسی خطاب کرتے ہوئے حالیہ شہادتوں، غزہ کی مظلومیت، اور عید غدیر کی عظمت کو آپس میں مربوط انداز میں پیش کیا۔
🔥 دشمن کو پیغام:
آیت اللہ خاتمی نے اپنے خطاب کا آغاز شہداء کے ذکر سے کرتے ہوئے کہا:
> “ہم آخری سانس اور خون کے آخری قطرے تک ان شہیدوں کے راستے پر ثابت قدم ہیں۔”
انہوں> “ہم آخری سانس اور خون کے آخری قطرے تک ان شہیدوں کے راستے پر ثابت قدم ہیں۔”
نے صیہونی حکومت کے جرائم کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا:
> “گزشتہ رات کے بعد انتقام کا عمل شروع ہو چکا ہے، اور اب تک سو سے زائد ڈرون اسرائیل کی سمت روانہ کیے جا چکے ہیں۔”
🕊 غدیر کی روح زندہ ہے:
خطبے میں عید غدیر کی مناسبت سے انہوں نے کہا:
> “ہماری جنگ در حقیقت غدیر کی پاسداری ہے… تمام غدیری اجتماعات کی فریاد ہے: ‘ہِیَهات مِنَ الذّلّۃ!'”
انہوں نے واضح کیا کہ اسلام کی اصل روح عزت، بصیرت اور استقامت ہے، اور غدیر اس کا لازمی مظہر ہے۔
⚔ منافقین اور مؤمنین:
آیت اللہ خاتمی نے دو قسم کے لوگوں کا ذکر کیا:
منافقین جو خوف و تزلزل پھیلاتے ہیں، دشمن کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔
مؤمنین جو شہادت کے لیے تیار، بصیرت مند اور راہ خدا میں ثابت قدم ہیں۔
> “آج بھی وہی منظر ہے، ایک طرف وہ ہیں جو دشمن کے آگے جھکنے کو تیار ہیں، اور دوسری طرف وہ جو میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں!”
🕯 فلسطین کی مظلومیت:
انہوں نے اسرائیل کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
> “جو ظلم غزہ میں ہو رہا ہے، وہی اب ہمارے شہداء کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ یہ صرف ایک ملک کا حملہ نہیں، بلکہ انسانیت کے خلاف جرم ہے!”
آج کا خطبہ ایک بار پھر اس حقیقت کا اعلان تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران صرف ایک جغرافیائی ریاست نہیں، بلکہ ایک نظریاتی مورچہ ہے، جہاں غدیر، کربلا اور غزہ سب ایک ہی تسلسل کی کڑیاں ہیں۔
📌 آیت اللہ خاتمی کا پیغام تھا:
> “دشمن کو پشیمان کریں گے… اور غدیر کی راہ پر قائم رہیں گے!”
