بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
چاپلوسی اور کینہ پروری دو ایسی نفسیاتی صفات ہیں جو بظاہر الگ الگ دکھائی دیتی ہیں، لیکن گہرائی سے مطالعہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ہی شخصیت کے دو رخ ہو سکتے ہیں۔ ایک چاپلوس انسان بظاہر نرم گفتار، خوشامدانہ رویہ اور دوسروں کی تعریف میں رطب اللسان نظر آتا ہے، مگر اس کے پیچھے چھپی حقیقت اکثر بہت تلخ ہوتی ہے۔ وہ جس انداز سے دوسروں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جھوٹی تعریفیں کرتا ہے، اسی شدت سے وہ ان لوگوں سے نفرت بھی رکھتا ہے جو اس کی خوشامد سے متاثر نہ ہوں یا جو اس کے مفادات کی راہ میں رکاوٹ بنیں۔ اس طرح وہ اپنے اندر ایک زہریلا کینہ پالتا ہے جو کبھی براہ راست ظاہر نہیں ہوتا، لیکن وقت آنے پر اس کا اثر دکھاتا ہے۔
چاپلوسی کی جڑیں دراصل کمزوری، عدمِ خوداعتمادی اور دنیا پرستی میں پیوست ہوتی ہیں۔ چاپلوس شخص دوسروں کے سامنے اپنی اصلیت چھپانے کے لیے جھوٹی تعریفوں اور بناوٹ کا سہارا لیتا ہے، تاکہ وہ اُن کا اعتماد حاصل کر سکے یا ان سے کوئی ذاتی فائدہ اٹھا سکے۔ مگر چونکہ یہ سارا عمل نفاق پر مبنی ہوتا ہے، اس لیے دل کی گہرائیوں میں ایک اضطراب اور حسد پلتا رہتا ہے۔ جب کوئی دوسرا شخص اُس کی سازشوں یا خوشامد سے متاثر نہ ہو، یا اُسے نظر انداز کر دے، تو وہ چاپلوس شخص کے دل میں ایک خاموش آگ بھڑک اٹھتی ہے جو کینہ، بغض اور حسد کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
اس طرح چاپلوسی اور کینہ دراصل ایک ہی باطن کی دو علامتیں بن جاتی ہیں۔ چاپلوسی ایک ظاہری چہرہ ہے جو سماج یا کسی شخصیت کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، جبکہ کینہ وہ پوشیدہ چہرہ ہے جو دل کی گہرائیوں میں چھپا ہوتا ہے۔ دونوں کا تعلق ریاکاری، دنیا پرستی اور اخلاقی پستی سے ہے۔ ایسا شخص کبھی خالص محبت یا خلوص کا حامل نہیں ہوتا، بلکہ وہ ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے تعلقات قائم کرتا ہے۔ جب مفادات حاصل نہ ہوں، تو یہی تعلقات بغض و عناد میں بدل جاتے ہیں۔
قرآن و احادیث میں بھی منافقین کی یہی صفات بیان ہوئی ہیں کہ وہ زبان سے کچھ اور ہوتے ہیں اور دل سے کچھ اور۔ وہ جب اہلِ ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں، مگر جب اپنے شیطانوں کے پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو محض مذاق کر رہے تھے۔ یہ دوغلا پن اصل میں چاپلوسی اور کینہ پروری کی جڑ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک شخص اگر مسلسل جھوٹے لب و لہجہ کے ساتھ تعریفیں کرتا رہے تو اس کا دل خلوص اور سچائی سے خالی ہو جاتا ہے، اور وہ دوسروں کی عزت و کامیابی سے چِڑنے لگتا ہے۔ یہ چِڑ اور حسد ہی بعد میں کینہ بن جاتی ہے۔
ایک مخلص انسان نہ کسی کی جھوٹی تعریف کرتا ہے اور نہ ہی دل میں کسی کے خلاف زہر پالتا ہے۔ وہ سچائی اور اصولوں پر قائم رہتا ہے، چاہے اس کا نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن چاپلوس شخص وقتی فائدہ کے لیے اپنے ضمیر کو بیچ دیتا ہے، اور جب فائدہ نہ ملے تو وہی شخص دشمنی کا روپ دھار لیتا ہے۔ اس لیے معاشرتی اور دینی سطح پر ان دونوں صفات کو نہایت خطرناک سمجھا گیا ہے، اور ان سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔
الغرض کہ چاپلوسی اور کینہ گری ایک دوسرے سے الگ ہونے کے باوجود ایک ہی بیمار دل کی علامتیں ہیں۔ جس دل میں صداقت، خلوص اور خوفِ خدا ہو، وہ نہ چاپلوسی کرتا ہے اور نہ ہی دل میں کینہ پالتا ہے۔ جبکہ جس دل میں مفاد پرستی، دنیا کی محبت اور ریاکاری ہو، وہ بیک وقت خوشامد بھی کرتا ہے اور دل میں حسد اور بغض بھی رکھتا ہے۔ لہٰذا ایک باضمیر انسان کو ان دونوں اخلاقی بیماریوں سے بچنا چاہیے تاکہ وہ نہ صرف خود کو پاک رکھ سکے بلکہ دوسروں کے لیے بھی رحمت اور بھلائی کا سبب بنے۔
ایسے اشخاص کے شر سے بچنے کے لیے سب سے پہلا قدم باطنی بصیرت کو بیدار کرنا ہے تاکہ انسان خوشامدانہ باتوں کے پیچھے چھپی حقیقت کو پہچان سکے۔ یہ لوگ بظاہر انتہائی مہذب، نرم گو اور ہمدرد دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کی باتوں میں مصنوعی چاشنی ہوتی ہے اور رویوں میں ایک خاص بناوٹ نظر آتی ہے۔ ان کی باتوں سے فوری متاثر ہو جانا عقلمندی نہیں بلکہ ایک فریب میں آ جانا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان صرف باتوں پر نہیں، بلکہ عمل اور رویے کو بھی پرکھے۔ اگر کوئی شخص بار بار بے وجہ تعریف کرے، ہر بات پر تائید کرے اور ہر طرف سے جھک کر ملے، تو یہ ایک خطرے کی گھنٹی ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ایسے افراد سے محفوظ رہنے کا ایک مؤثر طریقہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ ایک حد تک تعلق رکھ کر محتاط رویہ اپنایا جائے۔ حد سے زیادہ قربت، ذاتی رازوں کا انکشاف، یا ان پر اعتماد کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کی فطرت میں چونکہ دوغلا پن ہوتا ہے، اس لیے وہ آپ کی باتوں کو دوسرے مقامات پر آپ ہی کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔ لہٰذا دانائی اسی میں ہے کہ ان کے ساتھ نہ تو سختی اختیار کی جائے کہ دشمنی کھل کر سامنے آ جائے، اور نہ ہی اتنا اعتبار کیا جائے کہ وہ آپ کی کمزوریوں سے واقف ہو جائیں۔
انسان کو چاہیے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آئے، مگر دل سے محتاط رہے۔ گفتگو اور میل جول میں نرمی ہو، لیکن اپنے حدود و دائرے کو ہمیشہ قائم رکھا جائے۔ دینِ اسلام نے بھی ہمیں سکھایا ہے کہ کسی کے ساتھ ایسا تعلق رکھو کہ اگر وہ دشمن بن جائے تو تمہارے راز محفوظ رہیں، اور اگر دشمن کے ساتھ حسنِ سلوک کرو تو بھی اس میں عدل اور وقار برقرار رہے۔ یہ توازن ایک مؤمن کی نشانی ہے۔
ایسے افراد سے بچنے کے لیے روحانی تحفظ بھی بہت اہم ہے۔ دعا، ذکرِ الٰہی، اور سورۂ فلق و ناس جیسی قرآنی آیات کا ورد انسان کو نظروں کے شر، حسد، اور خفیہ عداوتوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ دل میں اللہ پر کامل بھروسہ ہو تو کوئی بھی انسان اس کا نقصان نہیں کر سکتا، خواہ وہ بظاہر دوست بن کر آئے یا دل میں زہر چھپائے بیٹھا ہو۔
آخر میں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ہر شخص اپنی فطرت کے مطابق ہی عمل کرتا ہے۔ ہمیں ایسے لوگوں کو بدلنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے بلکہ خود کو اس حد تک مضبوط بنانا چاہیے کہ ان کا شر ہم پر اثر نہ کر سکے۔ یہ مضبوطی صرف عقل سے نہیں، بلکہ روحانیت، اخلاص اور صبر سے حاصل ہوتی ہے۔ ایسے افراد کے وجود کو مکمل نظر انداز کرنا بعض اوقات اُن کے شر کو ختم کر دیتا ہے، کیونکہ یہ اپنی شناخت اسی وقت قائم رکھتے ہیں جب اُن کی خوشامد یا سازش کا ردِ عمل ظاہر ہو۔ خاموشی، حکمت اور فاصلے کا امتزاج ہی اُن کے شر سے بچنے کا سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔
